بلوچستان میں بیک وقت دہشت گرد حملوں نے پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کی کئی جہتیں نمایاں کی ہیں۔ یہ حقیقت مزید نمایاں ہوئی ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو بیرونی امداد دستیاب ہے۔یہ امداد مالی وسائل، جدید ہتھیاروں، دہشت گردی کی تربیت اور پروپیگنڈے کے جدید ابلاغی ذرائع کی صورت مہیا کی جا رہی ہے۔ جس انداز میں علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ نے بلوچستان میں حملے کئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں بھرپور تربیت اور منصوبہ بندی کے ساتھ صوبے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے میدان میں اتارا گیا تھا ۔صد شکر کہ قومی سلامتی کے اداروں نے بروقت اقدامات کر کے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا دیا صوبے میں صورتحال معمول کے مطابق لانے میں تو کامیابی حاصل ہو گئی تا ہم مربوط اور مسلسل دہشت گرد حملوں سے پیدا ہونے والے منفی نفسیاتی اثرات کو زائل کرنے کے لئے محب وطن قوتوں کو بہت سوچ بچار کے ساتھ پیش رفت کرنا ہوگی۔ دہشت گرد اور ان کے ہندوستانی آقا یہ چاہتے ہیں کہ لسانی نفرت کے زہر سے بلوچ عوام کو پاکستان کی دیگر لسانی اکائیوں کے خلاف تشدد کے لیے اکسایا جائے ۔اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے نفرت انگیز بیانیے گھڑے جا رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ایسے گروہ متحرک ہو چکے ہیں جو انسانی حقوق کے نعروں کی آڑ میں کالعدم دہشت گرد گروہوں کے لیے سہولت کاری کر رہے ہیں ۔نام نہاد یکجہتی کمیٹی اور اس کے ہمنوا پریشر گروپ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زہر آلود نظریات کا پرچار کر کے ایک جانب قومی اتحاد کو پارہ پارہ کر رہے ہیں تو دوسری جانب بیرونی قوتوں کی سرپرستی سے ہونے والی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا پروپیگنڈا کر رہے ہیں گویا ہر دہشت گرد دراصل بلوچ عوام کا نمائندہ ہے۔ نہایت چالاکی سے ایسے نعرے اور دلائل گھڑے جا رہے ہیں جن سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گردی جیسے جرم کی سنگینی کو گھٹا کر ملک دشمن قاتلوں کو حقوق کی جنگ لڑنے والا بنا کر پیش کیا جا سکے۔ اگر بلوچستان میں پسماندگی ہے تو یہ اس بات کا جواز قرار نہیں دی جا سکتی کہ بیرونی آقاں سے مالی وسائل اور ہتھیار لے کر قومی وحدت پر وار کیا جائے۔
کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد ریاستی اداروں پر حملہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچ عوام کو بھی اپنا ہدف بنا رہے ہیں کیونکہ ان کے بیرونی آقائوں کی اصل منشا یہی ہے کہ بلوچستان کسی قیمت پر بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہونے پائے۔ المیہ یہ ہے کہ بعض نام نہاد جمہوریت پسند سیاستدان بھی بلوچ عوام کی نمائندگی کے دعویدار ہونے کے باوجود دانستہ ایسی فضا بنا رہے ہیں کہ دہشت گرد گروہوں کے لیے نرم گوشہ تخلیق کیا جا سکے۔ یہ طرز فکر مجموعی طور پر بلوچستان اور قومی مفاد کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ یہ حضرات کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو بلوچ عوام کا نمائندہ ظاہر کر کے پورے صوبے کے محب وطن اور پرامن عوام کی تذلیل کر رہے ہیں ۔ بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی بہت سے پسماندہ علاقے ہیں ۔ طرز حکمرانی بھی مثالی نہیں۔ عوام صحت ،تعلیم اور روزگار کے بہت سے مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل کا حل آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی دریافت کیا جائے گا۔
دنیا میں کہیں بھی انتظامی مسائل کے حل کے لیے دہشت گردی کے جواز کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حال ہی میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے والے بلوچستان کے ایک سیاست دان نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تقریب میں جو شعلہ بیانی فرمائی اس پہ اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ بلوچ عوام کی نمائندگی کے دعویدار یہ صاحب دراصل اس سماجی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو بلوچستان کے عوام کی پسماندگی اور حقوق کی پامالی میں شریک جرم رہا ہے ۔ایک ہتھیار بند دہشت گرد کو مجرم کہنے کے بجائے سادہ لوح عوام کا مسیحا قرار دینا فکری بددیانتی ہے بدقسمتی سے عوامی حقوق اور جمہوریت کے نام نہاد دعویدار اس فکری بددیانتی کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل رہے ہیں جس میں پھنس جانے کے بعد بچ نکلنے کا کوئی امکان بھی باقی نہیں بچے گا درد دل اور خلوص رکھنے والے بلوچستان کے نمائندے کبھی آئین اور قانون سے ماورا مجرمانہ کارروائیوں کے لئے جواز نہیں گھڑ سکتے۔ دہشت گردی کی لہر سے پیدا ہونے والے حالات کا تقاضا ہے کہ ہر دہشت گرد کو شگاف الفاظ میں قومی مجرم کہا جائے۔ دہشت گرد ہرگز عوام کا ہمدرد یا مسیحا نہیں ہو سکتا!