Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

حضرت نوحؑ کی طویل حیات سائنس اور قرآن کے زاویئے میں

ٹیکنالوجی کے نشے میں ڈوبے ہوئے اس دور میں ایک نئی امید نمایاں ہے، مصنوعی ذہانت شائد بڑھاپے کا مسئلہ حل کر دے۔ لیبارٹریوں میں ایپی جینیٹک ری پروگرامنگ، لونجیویٹی اسکیپ ویلاسٹی اور 2030 ء تک عمر کی واپسی جیسے دعوے سنائی دیتے ہیں۔ سرمایہ کار حیاتیاتی سائنس میں ایسے سرمایہ لگا رہے ہیں گویا موت محض ایک تکنیکی خرابی ہو جسے جلد درست کر لیا جائے گا۔مگر قرآن ہمیں ایک گہرا سوال پوچھنے کی دعوت دیتا ہے، بڑھاپا کیا ہے؟ اور زندگی کیا ہے؟قرآن حضرت نوحؑ کے بارے میں واضح فرماتا ہے،پس وہ ان میں ہزار سال سے پچاس سال کم رہے۔ (العنکبوت 29:14) یعنی نو سو پچاس سال کی دعوت، صبر، استقامت اور جدوجہد۔ چاہے یہ مدت صرف تبلیغ کی ہو یا کل عمر کے قریب، پیغام واضح ہے، ابتدائی انسان غیر معمولی طویل عمر رکھتے تھے۔ روایات میں حضرت آدمؑ اور ابتدائی نسلوں کی طویل عمری کا ذکر بھی ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں تھا؟کیا ان کی حیاتیاتی ساخت مختلف تھی؟ کیا ماحول زیادہ پاکیزہ تھا؟ کیا جینیاتی نظام کم بوجھ کا حامل تھا؟ جدید سائنس بڑھاپے کو ڈی این اے کے نقصان، ٹیلو میر کے سکڑنے، ایپی جینیٹک تبدیلیوں اور خلیاتی کمزوری سے جوڑتی ہے۔ ممکن ہے ابتدائی انسانی جسمانی حالت مختلف ہو۔لیکن قرآن عمر کو صرف حیاتیاتی معاملہ نہیں سمجھتا، بلکہ تقدیر قرار دیتا ہے۔اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔(آل عمران 3:47)
جب ان کی مقررہ مدت آ جاتی ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ (النحل 16:61) عمر محض کیمیا نہیں، بلکہ تقدیر ہے۔ ابتدائی انسان کم تعداد میں تھے۔ تہذیب کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ علم نسل در نسل منتقل ہونا تھا۔ ممکن ہے طویل عمر اس حکمت کا حصہ ہو۔ مگر وقت کے ساتھ عمر کم ہوتی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید طب نے اوسط عمر تو بڑھا دی، مگر انسانی زندگی کی زیادہ سے زیادہ حد تقریباً 120 سال کے قریب ہی رہی۔ ہم نے بیماریوں کو کم کیا، اعضاء بدل دئیے، مگر حیاتیاتی حد نہیں بدلی۔کیوں؟کیونکہ بڑھاپا محض بیماری نہیں، بلکہ دنیاوی زندگی کی ساخت کا حصہ ہے۔قرآن انسانی زندگی کا نقشہ یوں بیان کرتا ہے:اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت دی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ (الروم 30:54) یہ کمزوری، قوت اور زوال کا دائرہ ہے خرابی نہیں، بلکہ ڈیزائن۔اور قرآن کا عمومی اعلان ہے،ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ (آل عمران 3:185) موت کو تکنیکی مسئلہ نہیں کہا گیا اسے ایک مرحلہ کہا گیا ہے۔اسلام طبی ترقی کا مخالف نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ہر بیماری کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے۔پس علاج کی تلاش قابل ستائش ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت بیماریوں کو کم کرے، عمر بڑھانے میں مدد دے، تو یہ انسانی ذمہ داری کا حصہ ہے۔مگر علاج اور تکبر کے درمیان ایک حد ہے۔آج کا خواب بیماری ختم کرنے سے آگے بڑھ کر بڑھاپے کو شکست دینے تک جا پہنچا ہے۔ بعض لوگ گویا امر ہونے کی بات کرتے ہیں۔ مگر قرآن کے مطابق موت تخلیق کا حصہ ہے، نقص نہیں۔جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔(الملک 67:2)
یہاں موت اور زندگی دونوں تخلیق ہیں اور دونوں آزمائش۔اگر آج انسان ہزار سال جئے تو کیا ظلم ختم ہو جائے گا؟ کیا لالچ مٹ جائے گا؟ حضرت نوح ؑنے تقریبا ً ایک ہزار سال گزارے، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ لمبی عمر اخلاقی بلندی کی ضمانت نہیں۔قرآن کی توجہ مدت پر نہیں، معیار پر ہے۔2030ء تک ممکن ہے کہ بیماریوں کے علاج میں بڑی پیش رفت ہو۔ مصنوعی ذہانت تحقیق تیز کر دے۔ صحت مند زندگی کی مدت بڑھے۔ مگر عمومی، محفوظ اور مکمل عمر کی واپسی انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔قرآن کے مطابق انسان کی عمر کا کم ہونا بھی حکمت ہو سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر سال ہوگی۔ مختصر زندگی ذمہ داری کو شدید بناتی ہے۔ وقت کی قدر سکھاتی ہے۔اصل عمر کی واپسی جسم کی نہیں، دل کی ہے۔توبہ روح کو جوان کرتی ہے۔ذکر دل کو تازگی دیتا ہے۔ایمان زندگی کو معنی دیتا ہے۔جسم کمزور ہوتا ہے، مگر روح بلند ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی راستہ لمبا کر سکتی ہے، مگر منزل وہی رہتی ہے۔ قرآن ہمیں توازن سکھاتا ہے: علم حاصل کرو، بیماری کم کرو، مگر تخلیق کی حدود کو پہچانو۔حضرت نوح ؑکی طویل عمر کا سبق یہ نہیں کہ مدت سب کچھ ہے، بلکہ یہ کہ استقامت سب کچھ ہے۔بڑھاپا ذلت نہیں، یاد دہانی ہے۔سفیدی شکست نہیں، علامت ہے۔زوال انجام نہیں، تیاری ہے۔مصنوعی ذہانت زندگی کو طول دے سکتی ہے۔مگر ابدی زندگی کا وعدہ صرف آخرت میں ہے۔کیونکہ اصل بقا سالوں میں نہیں، بلکہ ان اعمال میں ہے جو سالوں کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں