ایران اورامریکاکے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظرمیں پاکستان کے لئے پالیسی آپشنزاوراسلامی دنیا کے ممکنہ ردِعمل کاجامع تجزیہ پیش کرنے کامقصدفیصلہ سازاداروں کوایسے قابلِ عمل راستے مہیاکرناہے جو پاکستان کوجنگی الجھاسے محفوظ رکھتے ہوئے علاقائی استحکام، داخلی سلامتی اورسفارتی ساکھ کومضبوط کریں۔ سفارشات کا محورغیرجانبدارانہ حقیقت پسندی، فعال سفارت کاری، دفاعی تیاری (بلا شرکت جنگ) اور اسلامی دنیامیں ثالثی کومدنظررکھتے ہوئے لکھی گئی ہیں۔
پاکستان اس ممکنہ تصادم میں براہِ راست فریق نہیں،مگراس کی جغرافیائی حیثیت ایران کی ہمسائیگی، افغانستان سے قربت،خلیجی راستوں تک رسائی اسے ناگزیرطورپراس بحران کے دائرہ اثرمیں لے آتی ہے۔ پاکستان ایران کی ہمسائیگی،افغانستان کے پس منظر، خلیجی راستوں اوربڑی طاقتوں کے مفادات کے سنگم پرواقع ہے۔کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں ثانوی اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی ومعیشت پرمرتب ہوسکتے ہیں۔
بحرِہندمیں یوایس ایس ابراہم لنکن کی موجودگی محض بحری نقل وحرکت نہیں،بلکہ عالمی سیاست کی اس زبان میں ایک جملہ ہے جو توپوں سے لکھاجاتاہے۔ اگرچہ امریکی صدرکی جانب سے حتمی فیصلے کی عدم موجودگی وقتی تؤقف کاتاثردیتی ہے،مگرتاریخ شاہدہے کہ طاقتورریاستیں اکثرفیصلہ کرنے سے پہلے ہی فضا کو فیصلے کے قابل بنالیتی ہیں۔انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپ کی مشرقِ وسطی میں موجودگی ایک ایسے شطرنجی بساط کی مانندہے جہاں ہرمہرہ اپنی جگہ پرضرورہے،مگربازی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ امریکی کیریئر کابحرِہندمیں ہونابظاہرایران کے قریب ترامریکی عسکری گرفت کی علامت ہے،تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سمندرمیں لنگراندازدیوہیکل جہازبھی ہمیشہ فیصلہ جنگ کااعلان نہیں کرتے۔یہ تعیناتی ایران پرنفسیاتی ؤاور خطے کوعسکری اضطراب میں رکھنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اس ابہام کو مزید گہرا کرتے ہیں’’غوروفکرجاری ہے‘‘،مگرفیصلہ ابھی تقدیر کے پردے میں ہے۔امریکی کیریئرگروپ سینٹ کام کے دائرہ اختیارمیں ہے۔فوری حملہ ضروری نہیں،مگرریپڈرسپانس کی صلاحیت بڑھادی گئی ہے۔یہ تعیناتی ایران کوسگنل دینے اوراتحادیوں کویقین دہانی کرانے کے لئے ہے۔ پاکستان،خلیجی ریاستیں اوربھارت اس پیش رفت کو سیکورٹی الرٹ کے طورپردیکھ رہے ہیں۔
یہ گروپ جدیدجنگی فلسفے کاچلتاپھرتامظہرہے جہاں آسمان،سمندراورالیکٹرانک اسپیس ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔کیریئر اسٹرائیک گروپ دراصل جدیدعسکری طاقت کاچلتاپھرتا استعارہ ہے:طیارہ بردار جہاز اس کادل،میزائل کروزراس کی آنکھ اور ڈسٹرائراس کی ڈھال ہیں۔فضائی،نیول اورمیزائل ڈیفنس سے لیس یہ جنگی کیرئیرمکمل فضائی برتری کاحامل نیٹواورخلیجی اتحادی ممالک پرایک شدیدؤکے طورپرخطے میں شدیدتشویش کاباعث بن چکاہے کہ خطے میں اس کی بھاری سیاسی لاگت ناقابل برداشت بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اتحادیوں کاؤاس امرکی یاددہانی ہے کہ طاقت کے اظہاراورطاقت کے استعمال کے درمیان ایک نازک مگرفیصلہ کن فاصلہ ہوتا ہے۔اتحادیوں کی جانب سے جنگ سے باز رہنے کامشورہ اس حقیقت کواجاگر کرتاہے کہ عسکری طاقت کی نمائش ہمیشہ سیاسی دانش کے تابع رہنی چاہیے۔
ایران کی گلیاں اورچوراہے اس وقت تاریخ کے خونچکاں ابواب رقم کررہے ہیں۔ایران کی سڑکیں اب صرف احتجاج کانہیں،تاریخ کے کرب کانقشہ بن چکی ہیں۔ہزاروں جانوں کاضیاع کسی بھی ریاست کے لئے محض داخلی معاملہ نہیں رہتایہ بین الاقوامی ضمیر کو آوازدیتا ہے،اوربیرونی مداخلت کے لئے اخلاقی جواز پیدا کرتاہے۔ مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں بڑھتی ہلاکتیں ایک ایسانوحہ ہیں جو انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتاہے اوراس معاملہ کوامریکااوریورپی ممالک انسانی حقوق کی بحران کی طرف موڑرہے ہیں جہاں ہلاکتوں کے خوفناک اعدادوشماراقوام عالم کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔ اعدادوشمار، چاہے زیرِجائزہ ہوں یامصدقہ،اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست اورعوام کے درمیان خلیج خطرناک حدتک وسیع ہوچکی ہے۔ہلاکتوں کے اعدادوشمارکوجواز بنا کریورپ اورامریکاانسانی حقوق کے چیمپئن بن کرمداخلت کوجائزبناسکتے ہیں۔
ٹرمپ کی زبان میں بیک وقت دھمکی اور دعوتِ گفتگوکاامتزاج امریکی خارجہ پالیسی کے اس دورخی مزاج کی عکاسی کرتاہے اوریہ امریکی خارجہ پالیسی کا پرانا ہنرہے ،ایک ہاتھ میں لاٹھی،دوسرے میں مصافحہ، جو کبھی تلوار دکھاتاہے اورکبھی زیتون کی شاخ۔ٹرمپ کی زبان میں دھمکی اوردعوت کایہ امتزاج دراصل طاقت کے توازن کواپنے حق میں رکھنے کی کوشش ہے۔ہم کاروبارکے لئے کھلے ہیں کاجملہ بظاہر سفارت کاری کی پیشکش ہے، مگر اس کے پسِ منظرمیں طاقت کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایران سے اپنی پیشگی شرائط منوانے کے لئے مذاکرات پرلانے کی کوشش اوربیک ڈورڈپلومیسی کاایک نیاباب کھولنے کااشارہ ہوجویقینا ایرانی صدرکی سعودی ولی عہدکے ساتھ حالیہ فون پر گفتگوکے بعد شروع ہونے پرآمادگی کااظہارہو۔
نمازِجمعہ کے منبرسے دی گئی وارننگ میں مذہب،ریاست اور مزاحمت ایک ہی آوازمیں بولتے نظرآتے ہیں اورصاف دکھائی دیتاہے کہ جمعہ کے خطبے میں امریکاکومخاطب کرنااس امرکی دلیل ہے کہ ایران میں مذہب اورریاست ایک ہی اسکرپٹ پڑھتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جوایران کی سیاسی ثقافت میں گہرائی سے پیوست ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ ایرانی اقدام گھریلوحوصلے کی تعمیرکے ساتھ ساتھ ممکنہ ایک مذہبی جواز بناکرامریکااوراتحادیوں کے خلاف نفسیاتی جنگ کا اعلان ہوجس میں ایرانی بیانیے کو کامیابی ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ایرانی بیانیے کی سختی دراصل دفاعی عزم کی لفظی ڈھال ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان کالب ولہجہ اورالفاظ میں جواعتمادجھلکتاہے، وہ یہ پیغام دیتاہے کہ جنگی جہازوں کی آمد و رفت سے قومی ارادے متزلزل نہیں ہوتے۔ایران کایہ ردعمل،اسٹریٹجک پیغام رسانی،میزائل ڈیٹرنس او رفوجی تیاری معلوم ہوتاہے کہ وہ ایسی قوم کی آوازہے جوجنگ سے خوف زدہ نہیں،بلکہ اسیاپنی بقاکی قیمت سمجھتی ہے۔
ہرجنگ اپنے بعدایک نئی جنگ کی تیاری چھوڑجاتی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تصادم ایران کے لئے عسکری تجربہ گاہ ثابت ہوا۔جون کی بارہ روزہ جنگ کے بعدایرانی فوج کے دعوے تاریخ کے اس تسلسل کی یاددہانی ہیں جس میں ہرتصادم اگلے مرحلے کی تیاری بن جاتاہے۔ میزائلوں اورڈرونزکی بارش صرف عسکری کارروائی نہیں تھی،بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی تھا کہ حساب ابھی باقی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران نے اس جنگ کے بعد اپنے میزائل پروگرام کومزیدمضبوط اورترقی دیتے ہوئے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی میں مزیدمہارت اور صلاحیت حاصل کرنے کے بعد اپنی جنگی تیاریوں کی رفتارمیں خاصی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
ایران کی اصل طاقت اب توپ سے زیادہ ٹیکنالوجی میں ہے خاموش، دوررس اورمہلک ہتھیاروں کے استعمال میں ان کی مہارت اور تیاری اس بات کی دلیل ہے۔علاوہ ازیں ایران کامیزائل ذخیرہ اورڈرون نیٹ ورک اس کی عسکری حکمتِ عملی کاستون ہیں۔ سرحدوں سے باہران کی موجودگی اس امرکی علامت ہے کہ جدیدجنگ اب جغرافیے کی قیدسے آزاد ہو چکی ہے۔ میڈیم رینج بیلسٹک میزائل اورانٹررینج بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی جوزیادہ ترغیرروایتی وارہیڈزسے لیس ہے، اب ممکنہ جنگ میں ایران اپنے دفاع کے لئے استعمال کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔یادرہے کہ یہ نظام چین،شمالی کوریا،ایران،بھارت اورپاکستان کے پاس بھی موجودہے۔علاوہ ازیں اس غیرمتناسب جنگی فائدے کے لئے یواے وی ٹیکنالوجی کوبھی میدان میں لایاجائے گا جس کے بعدجنگ کی صورت میں کرہ ارض پرخوفناک تباہی کاوہ سفرشروع ہوسکتاہے جوکسی بھی عالمی جنگ کاآغازبننے کے لئے کافی ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرکے کمانڈرکابیان ایک کھلااعلان ہے کہ جنگ کی صورت میں دائرہ تصادم محدودنہیں رہے گا۔
(جاری ہے)