افغانستان میں قائم دہشت گردوں کے اڈوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کی گونج ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ سرکاری دعوے کے مطابق سات مقامات پر واقع کیمپوں پر حملہ کیا گیا۔ لگ بھگ 80سے زائد دہشت گرد اپنے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کے ساتھ واصل جہنم ہوئے۔ جو حلقے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور تربیتی کیمپوں پر حملوں پر آج تنقید کر رہے ہیں ان سے یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہے کہ آخر ان فضائی حملوں کی نوبت کیوں آئی؟ آج افغانستان پر حکمرانی کرنے والے طالبان کی عالمی حیثیت کیا ہے؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ طالبان کی غیر منتخب حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتا۔ عالمی سطح پر کچھ ممالک اگر طالبان کی عبوری حکومت سے معاملات کرتے ہیں تو وہ محض افغان عوام سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مندرجات بہت واضح ہیں۔ چشم کشا انکشافات کے مطابق طالبان کے زیر اثر آج افغانستان متعدد دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ وہی حقائق ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان عالمی برادری کے سامنے بیان کرتا رہا ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی لہر بھی افغانستان سے اٹھ رہی ہے۔ نسل پرست علیحدگی پسند اور مذہب کی گمراہ کن تشریحات سے دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے گروہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے وجود پر وار کر رہے ہیں ۔ان کا سرپرست وہ بھارت ہے جسے پاکستان کا وجود گوارا نہیں۔ ہر دو قسم کے گروہوں کے اہداف مشترک ہیں۔
ریاست نے ان گروہوں کو فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان قرار دے کر قوم کی سمت کا درست تعین کیا۔ یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو بہت سے سادہ لوح پاکستانی خارجیوں کے ’’جبہ و دستار‘‘اور ظاہری حلیے سے دھوکہ کھا کر انہیں ملک و مذہب کا خیر خواہ سمجھتے رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پڑوسی ملک پاکستان سے برادرانہ محبت کے بجائے ہمیشہ شر پسندانہ مخاصمت کا رویہ اپنایا گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ماضی قریب اور حال میں افغان حکمرانوں نے پاکستان سے ’’برادران یوسف‘‘کا سا رویہ اختیار کر کے شر پسندی کی نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں نے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہایا ۔ملک بھر میں مساجد ،امام بارگاہوں، اقلیتی عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور مزارات پر حملے کئے۔ ٹرینوں کو ہائی جیک کر کے عام شہریوں کو یرغمال بنایا۔ اس وقت کسی دانشور کو پاکستانیوں کے انسانی حقوق اور عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال نہیں آیا ۔آج پاکستان نے ریاست کے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا ہے تو خوارج کے ہمدردوں کو مسجد، مدرسے کے تقدس اور عام شہریوں کا درد جاگ اٹھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی مسجد یا مدرسے کو پڑوسی مسلم ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والے خوارج دراصل مذہبی احکامات اور عبادت گاہوں کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں ۔اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ۔بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین پر بلا خوف و خطر متحرک ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغانستان کے وہ شہری ملوث پائے گئے ہیں جو غیر قانونی در اندازی کر کے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت، منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردوں کی سہولت کاری اور اغوا برائے تاوان سمیت یہ افغان شہری ہر طرح سنگین جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ماضی کی مہاجر میزبانی اور برادرانہ تعلق کے باعث جب بھی پاکستان نے حکمران طالبان سے یہ مسئلہ بیان کیا تو اسلام کے یہ نام نہاد علمبردار صاف مکر گئے۔
یہاں بے گناہ پاکستانی شہریوں کا لہو بہہ رہا ہے اور قاتل دہشت گرد افغانستان میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن کابل کے بعض ’’ملا صاحبان‘‘یہ فرماتے ہیں کہ دہشت گردی تو پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ کوئی ان سے یہ پوچھے کہ ملا جی!آپ کی سلطنت میں افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کیا افغانستان کا داخلی معاملہ نہیں ہے؟ امریکہ بہادر کے چھوڑے گئے ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت اور ان کا پاکستان مخالف گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچنا کیا افغانستان کا داخلی معاملہ نہیں؟ یہ بھی سوال تا حال جواب طلب ہے کہ لاکھوں افغان شہری جو آج اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان میں زندگی گزار رہے ہیں وہ آخر کس کا داخلی اور کس کا خارجی مسئلہ ہے ؟ ’’مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘کے مصداق کوئی منطق یہاں کارگر نہیں ہوگی۔ گزشتہ برس ایک ’’ملا جی‘‘ نے بھارت یاترا کے دوران مودی کے وزیر خارجہ کے پہلو میں بیٹھ کر جب پاکستان کے خلاف زہر اگلا تو اسی وقت پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان سے بیک وقت حملے کیے گئے تھے ۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔ پاکستان کو اپنا حق دفاع پوری قوت و حکمت سے استعمال کر کے دہشت گردوں اور فتنوں کا سد باب کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ پاکستان کی سالمیت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت سے منسلک ہے۔ فضائی حملوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ریاست اپنا حق دفاع استعمال کرنے میں تغافل نہیں برتے گی۔