(گزشتہ سے پیوستہ)
راہول گاندھی کے مطابق یادداشت میں درج ہےکہ جب چینی ٹینک بھارتی پوزیشنوں کی جانب بڑھے تو جنرل نروانے کو کہا گیا کہ وہ ’’جو مناسب سمجھیں وہ کریں‘‘۔ اس بیان کی سیاسی معنویت یہ تھی کہ اعلی سیاسی قیادت نے واضح ہدایات کی بجائے فیصلہ عسکری قیادت پرچھوڑدیا۔مزیدیہ کہ گاندھی نے دعوی کیاکہ نروانے نے وزیردفاع کومتعددبارفون کیا، جن کے ذریعے مودی کوپیغام پہنچایاگیا،مگرحتمی فیصلہ ان ہی کے سپردرہا۔گاندھی نے اس کیفیت کویوں بیان کیا کہ وہ خودکو”تنہامحسوس کررہے تھے،گویاپوری اسٹیبلشمنٹ نے چھوڑ دیاہو”۔اگرچہ یہ الفاظ نروانے کے مبینہ احساس کی ترجمانی کے طورپرپیش کیےگئے، مگر انہوں نے سیاسی ایوان میں ارتعاش پیداکردیا۔
حکومت کامؤقف واضح تھا:ایک غیرمطبوعہ مصدقہ کتاب کاحوالہ دیناپارلیمانی آداب کے منافی ہے۔وزیردفاع نےکہاکہ جس کتاب کا حوالہ دیاجارہاہے اسے ایوان کے سامنے پیش کیا جائے ،کیونکہ وہ ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجو نے بھی تنبیہ کی کہ جوبات سچ ثابت نہ ہواورقواعدکے تحت جائزنہ ہو،اسے زبردستی ایوان میں نہیں لایا جاناچاہیے۔تاہم گاندھی کوتقریرجاری رکھنے کی اجازت بھی دی گئی۔یہ موقف پارلیمانی قوانین اورآئینی حدودکے تناظرمیں سیاسی مباحثے کی حفاظتی جہت کی عکاسی کرتا ہے۔یہ موقف دراصل پارلیمانی خودمختاری اورقومی سلامتی کے درمیان ایک حدفاصل کھینچنے کی کوشش تھی۔حکومتی اراکین کاکہناتھاکہ فوجی معاملات کوسیاسی پوائنٹ اسکورنگ کاذریعہ نہیں بناناچاہیے۔دوسری جانب کانگریس کاکہناتھاکہ سابق آرمی چیف کی یادداشت ایک مستندماخذہے،اوراگراس میں درج نکات قومی سلامتی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں توانہیں زیرِبحث لاناجمہوری حق ہے۔یہ بھی واضح کیاگیاکہ چین کے معاملے پرحکومت کوپہلے بھی تنقیدکاسامنا رہاہے اوریہ کوئی نیاموضوع نہیں۔
گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہرصحافیوں کے سامنے غیرمطبوعہ کتاب کی ایک کاپی دکھاتے ہوئے کہاکہ قائمہ حکم یہ تھاکہ اگرچینی فوجی اعلی قیادت سے پوچھے بغیربھارتی حدودمیں داخل ہوں توان پرگولی نہ چلائی جائے۔یہ بیان سیاسی سطح پرنہایت حساس سمجھا گیا کیونکہ اس میں عسکری حکمت عملی اورسیاسی احتیاط کے درمیان ایک ممکنہ تضادکی جھلک تھی اورسیاسی فیصلوں کے درمیان تضادکی نشاندہی کرتاہے اورعوامی شفافیت کی اہمیت کواجاگرکرتاہے۔
ہنگامہ صرف ایک دن تک محدودنہ رہا۔اگلے روزبھی کارروائی متاثرہوئی اوراحتجاج کے باعث ماحول کشیدہ رہا۔پیرکوکارروائی دن بھر کیلئےملتوی ہوئی،مگرمنگل کوخلل دوبارہ جاری رہا۔حزب اختلاف کے احتجاج نے ایوان کوغیرمتوقع صورتحال سے دوچارکیااور کانگریس کے8ممبران کوبدتمیزی کے الزام میں معطل کردیاگیا۔یوں ایک غیرمطبوعہ کتاب نے نہ صرف بحث چھیڑی بلکہ عملی سیاسی نتائج بھی پیداکیے۔یہ واقعہ ظاہرکرتاہے کہ فوجی اور سیاسی تنازعات کے موضوعات نہ صرف قانونی بلکہ سماجی اورادبی نقطہ نظر سے بھی حساس ہوتے ہیں۔یہ صورت حال اس امرکی علامت تھی کہ بھارت کی سیاست میں فوجی معاملات محض دفاعی حکمت عملی کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کاحصہ بھی بن چکے ہیں۔
اس پورے واقعے نے ایک بنیادی سوال کواجاگرکیا:عسکری اورسیاسی قیادت کے درمیان ذمہ داری کی حدکہاں شروع ہوتی ہے اورکہاں ختم؟جمہوری نظام میں فوج سیاسی قیادت کے ماتحت ہوتی ہے،مگرعملی میدان میں فیصلوں کی رفتاراوردبائو بعض اوقات قیادت کوغیر معمولی صورتحال سے دوچارکردیتے ہیں۔اگرواقعی فیصلہ عسکری قیادت پرچھوڑاگیاتویہ اعتمادکی علامت بھی ہوسکتاہے اورغیریقینی کامظہربھی یہ تعبیرسیاسی زاویے پر منحصر ہے۔اسی لیے یہ یادداشت محض ایک کتاب نہیں بلکہ اقتداراوراختیارکے تعلق کی عکاس بن گئی ہے ۔ یادداشت2024میں شائع ہونے کیلئے تیارتھی،مگرپبلشراوروزارت دفاع کے درمیان مطلوبہ منظوری کی تاخیرنے اسے غیرمطبوعہ رکھا۔ نروانے نے کہا:’’میراکام کتاب لکھنااور پبلشرکودیناتھا،اب اسے آگے بڑھاناان کاکام ہے۔‘‘یہ مؤقف دراصل اسی پیچیدگی کی طرف اشارہ ہے جوادبی اورتاریخی مواد کی حساسیت،اورمنظوری کے مراحل کی پیچیدگی واضح کرتاہے۔کتاب کی اشاعت میں تاخیرنےاس بحث کومزیدپیچیدہ بنادیا۔ایک طرف عسکری حساسیت اورآپریشنل رازداری کاتقاضا،دوسری طرف تاریخ کے ریکارڈکاحق ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرناآسان نہیں۔
غیرمطبوعہ مخطوطہ جب سیاسی مباحثے کاحصہ بن جائے تووہ محض ادبی متن نہیں رہتابلکہ طاقت کے توازن کااستعارہ بن جاتاہے۔یہ واقعہ فوجی قیادت اورسیاسی قیادت کے تعلقات کے نازک توازن،قومی سلامتی،اورتاریخی ریکارڈ کے درمیان تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتاہے۔نروانے کی یادداشت ایک آئینہ ہے جس میں اہم فیصلے،بحران اورذمہ داری کی تہیں جھلکتی ہیں۔یہ نہ صرف ایک دستاویزی کتاب ہے بلکہ فکری اورتہذیبی کشمکش کاآئینہ بھی ہے،جہاں ہرلفظ،ہراستعارہ اورہرمحاورہ قوم کی بقااورقیادت کی ذمہ داری کے درمیان پل کاکرداراداکرتاہے۔یہ واقعہ کئی سطحوں پر اہم ہے۔اول،اس نے2020کے بحران کی یادتازہ کردی اوراس کی ذمہ داری کے سوال کودوبارہ زندہ کیا۔دوم،اس نے پارلیمانی قواعداوراظہارِرائے کی حدودکوموضوعِ بحث بنایا۔سوم،اس نے عسکری وسیاسی قیادت کے تعلق کوعوامی مکالمے کاحصہ بنادیا۔
تاریخ میں ایسے واقعات قوموں کے اجتماعی حافظے میں دیرپااثرچھوڑتے ہیں۔یہ محض ایک پارلیمانی جھڑپ نہیں بلکہ قومی بیانیے کی تشکیل کامرحلہ بھی ہے۔اقتدار کی راہداریوں میں لیےگئے فیصلے اکثردیرسے سمجھ میں آتے ہیں۔کبھی ایک جملہ برسوں بعدسوال بن کر ابھرتاہے،کبھی ایک خاموشی پوری تاریخ کابوجھ اٹھالیتی ہے۔یہ واقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت،اختیاراورقومی ذمہ داری کی دنیامیں ہرلمحہ اہم ہے،ہرفیصلہ اثر رکھتا ہے اور ہر خاموشی بھی فکری جہت رکھتی ہے۔جنرل نروانے کی غیرمطبوعہ یادداشت اوراس پراٹھنے والاپارلیمانی طوفان ہمیں یہی یاددلاتاہے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کاتحفظ نہیں بلکہ اعتماد،شفافیت اورذمہ داری کانام بھی ہے۔نروانے کی یادداشت اور پارلیمانی ہنگامہ نہ صرف فوجی وسیاسی تعلقات کی پیچیدگی کوعیاں کرتے ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ تاریخ کے صفحات محض حقائق کی فہرست نہیں،بلکہ انسانی فیصلے،اخلاقی سوالات، اورقومی تقدیرکی کشمکش کاآئینہ بھی ہیں۔یہ واقعہ اس حقیقت کاآئینہ ہے کہ جمہوریت میں فوجی اورسیاسی قیادت کے درمیان توازن نہایت نازک ہوتاہے۔اگریہ توازن برقراررہےتوریاست مضبوط رہتی ہے،اوراگراس میں دراڑپڑجائے توسوالات نسلوں تک پیچھاکرتے ہیں۔یوں یہ داستان ہمیں محض ایک کتاب یاایک بحث کی خبرنہیں دیتی،بلکہ یہ باورکراتی ہے کہ تاریخ کی عدالت میں نہ الفاظ گم ہوتے ہیں اورنہ فیصلے۔ہر عہدکواپنے فیصلوں کاحساب دیناہوتاہےاوریہی تاریخ کاسب سے بڑاسبق ہے۔یہ رپورٹ ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم صرف واقعات کامشاہدہ نہ کریں بلکہ ان کے پیچھے چھپی ذمہ داری،قربانی،اور فکری جہت کو بھی سمجھیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ یادداشت اوراس کے گرد ہونےوالاہنگامہ،تاریخی،سیاسی اورادبی لحاظ سے،قاری کے دل و دماغ پردیرپا اثر چھوڑتا ہے ،اوراسےایک قوم کی تقدیر،قیادت کی ذمہ داری اورانسانی شعورکے درمیان تعلق کا احساس دلاتاہے۔