کشمیر ایک نام نہیں،ایک زخم ہے،ایسازخم جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کی بجائے اورگہرا ہوتا چلاگیا۔تاریخ کے اوراق پراگرکبھی آنسوؤں کی روشنائی سے کوئی داستان لکھی گئی ہو ،تووہ یقیناکشمیرکی داستان ہے۔یہاں کی برفانی چوٹیاں صرف حسن کی علامت نہیں بلکہ صدیوں کےدکھوں کی گواہ بھی ہیں۔ یہاں کی ہوائیں جب چلتی ہیں تووہ محض موسم نہیں بدلتیں، وہ اپنےساتھ چیخوں کی بازگشت، بچھڑنے والوں کی صدائیں،اورادھوری تمناؤں کابوجھ اٹھائے پھرتی ہیں۔یہ وہ سرزمین ہےجہاں بچپن خوف کے سائے میں پروان چڑھتاہے ،جوانی سوالوں میں گم ہوجاتی ہے اور بڑھاپاانتظارکی دہلیزپربیٹھارہتا ہے۔ جہاں ہر دروازے کےپیچھے ایک کہانی ہے،ہرآنکھ میں ایک خواب دفن ہے،اورہردل میں ایک بے نام سی کسک۔ کشمیر صرف نقشے کاایک حصہ نہیں یہ ایک زندہ حقیقت ہے،ایک مسلسل آزمائش،ایک ایسا مقدمہ جو ابھی تک تاریخ کی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔
اسی المیے کے بیچ کچھ کردارایسے ابھرتے ہیں جووقت کےدھارے کےخلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آسیہ اندرابی بھی انہی کرداروں میں سے ایک ہیں ایک نام، جوصرف ایک فردکی پہچان نہیں بلکہ ایک سوچ،ایک مزاحمت،ایک سوال کی صورت اختیار کر چکاہے۔ان کی کہانی ہمیں اس مقام پرلاکھڑاکرتی ہے جہاں ہمیں فیصلہ نہیں،بلکہ محسوس کرناپڑتا ہے، جہاں ہمیں سننا نہیں،بلکہ دل سے سنناپڑتاہے۔
کشمیربرصغیرکاوہ خطہ ہےجوگزشتہ سات دہائیوں سےسیاسی،جغرافیائی اورانسانی بحران کامرکز بناہوا ہے۔کشمیرصرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ المیہ ہے ،ایک ایساالمیہ جس میں نسلیں پلتی ہیں ، جوان ہوتی ہیں۔کشمیرکی برف پوش وادیوں میں جب ہواچلتی ہےتووہ صرف درختوں کی شاخوں کونہیں ہلاتی بلکہ اپنےساتھ ایک طویل تاریخ کی آہیں، سسکیاں اورادھوری دعائیں بھی بہا لے جاتی ہے۔یہ وہ سرزمین ہےجہاں خوبصورتی اور کرب ایک ساتھ سانس لیتےہیں۔ جہاں جھیلوں کا پانی شفاف ہے مگردلوں کے اندر برسوں کی بےقراری موجزن ہے۔اس تنازعے نےنہ صرف دوایٹمی طاقتوں،پاکستان اوربھارت کے درمیان کشیدگی کو جنم دیابلکہ لاکھوں کشمیریوں کی زندگیوں کوبھی شدید متاثرکیا ۔اسی پس منظرمیں کشمیری حریت پسند قیادت کے چندنمایاں نام سامنے آتے ہیں، جن میں آسیہ اندرابی ایک اہم اورمتنازع شخصیت کے طورپرابھرتی ہیں۔آسیہ اندرابی جو کسی کے نزدیک مزاحمت کی علامت ہے،کسی کے نزدیک تنازع مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسی عورت ہیں جن کی زندگی جدوجہد،قربانی اوردکھوں کی ایک طویل داستان بن چکی ہے۔ آسیہ اندرابی،ان کی زندگی ایک فردکی کہانی نہیں بلکہ ایک عہد،ایک نظریہ اورایک مسلسل جدوجہدکی علامت بن چکی ہے۔
آسیہ اندرابی1960ءکی دہائی میں کشمیر میں پیداہوئیں۔ان کاتعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم سرینگرمیں حاصل کی اور بعدازاں سائنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ تاہم ان کی زندگی کارخ اس وقت تبدیل ہواجب انہوں نے کشمیرمیں بڑھتی ہوئی سیاسی بےچینی اور عوامی ردعمل کوقریب سے دیکھا۔ان کے ذہن میں جلدہی یہ خیال مضبوط ہوگیاکہ کشمیرکے مسئلےکو صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پربھی اٹھانےکی ضرورت ہے۔یہی سوچ بعدمیں ان کی عملی جدوجہد کی بنیادبنی۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں کشمیرمیں بڑھتی ہوئی مزاحمت اورعوامی بےچینی نےانہیں عملی جدوجہدکی طرف مائل کیا۔حوالہ جاتی طورپردیکھاجائےتواس دورمیں کشمیر میں مسلح اورغیرمسلح دونوں طرح کی تحریکیں ابھررہی تھیں، جنہوں نےنوجوان نسل کوشدید متاثر کیا۔
آسیہ اندرابی نے1980ء کی دہائی میں دختران ملت کی بنیادرکھی۔دختران ملت کاقیام آسیہ اندرابی کی زندگی کاایک اہم موڑتھا۔یہ تنظیم بنیادی طورپرکشمیری خواتین کومتحرک کرنے،اسلامی شناخت کواجاگر کرنے اوربھارت کے خلاف سیاسی مزاحمت کومنظم کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔اس تنظیم کامقصد کشمیری خواتین کونہ صرف سماجی بلکہ سیاسی شعوردینا بھی تھا۔یہ تنظیم ایک منفردماڈل پیش کرتی ہےجہاں خواتین کومحض متاثرہ فریق نہیں بلکہ فعال مزاحمت کارکے طورپرپیش کیاگیا۔اس نے کشمیرکی تحریک میں صنفی کردارکو بدلنےکی کوشش کی۔ یہ تنظیم دیگر حریت پسندگروہوں سے اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس نےخواتین کوبراہ راست سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کاحصہ بنایا۔آسیہ اندرابی کامانناتھاکہ آزادی کی تحریک میں خواتین کاکردارنہایت اہم ہے۔
کشمیر کامسئلہ1947ء کی تقسیم ہندکے بعد ایک متنازع خطہ بن گیا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کوحق خودارادیت دینے کی بات کی گئی مگریہ وعدہ آج تک عملی شکل اختیارنہ کرسکا۔ بین الاقوامی قانون،خاص طورپراقوام متحدہ کے چارٹر، میں حق خودارادیت کوایک بنیادی اصول تسلیم کیا گیا ہے تاہم،اس اصول کااطلاق اکثر سیاسی مفادات کی نذرہوجاتاہے۔کشمیری قیادت، بشمول آسیہ اندرابی،اس بات پرزوردیتی رہی ہے کہ کشمیری عوام کواپنےمستقبل کافیصلہ خودکرنے کاحق حاصل ہےجوکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت حق خودارادیت ایک بنیادی انسانی حق ہے۔آسیہ اندرابی اوران جیسے دیگررہنما اسی اصول کی بنیادپراپنی جدوجہدکو جائزقرار دیتے ہیں۔بھارتی حکومت ، دوسری جانب،اس تحریک کو علیحدگی پسندی اورریاستی سالمیت کے خلاف قرار دیتی ہےجوعالمی قوانین کے بھی خلاف ہے۔اسی تضادنے کشمیرکوایک مسلسل تنازعہ بنادیا ہے۔
بھارتی حکومت نے آسیہ اندرابی کےخلاف مقدمات درج کیےجن کی بنیادیواےپی اے اور بھارتی پینل کوڈکی دفعات 120پررکھی گئی۔نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ، ان کی سرگرمیاں ریاستی سالمیت کے خلاف تھیں۔یواے پی اے ایک سخت قانون ہے جسے بھارت میں دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف استعمال کیاجاتا ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس کااستعمال اکثر اوقات سیاسی مخالفین کے خلاف بھی کیاجاتاہے۔
آسیہ اندرابی کی جدوجہدصرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی۔ان کی تقاریرمیں مذہبی اورقومی شناخت کاگہراامتزاج نظرآتاہے۔آسیہ اندرابی نے کئی دہائیوں تک تقاریر، تحریروں اوراحتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی آوازبلندکی۔وہ اکثر کشمیری عوام کے حق میں ریلیوں اورمظاہروں میں شریک رہیں۔ان کی تقاریرمیں مذہبی رنگ نمایاں ہوتاتھا،جس کی وجہ سے انہیں ایک نظریاتی رہنمابھی سمجھاجاتاہے۔ ان کی جدوجہدپرکچھ حلقے تنقید بھی کرتے ہیں جبکہ دیگرانہیں مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں۔تاہم یہ پہلوانہیں دیگرحریت رہنماؤں سے ممتازکرتا ہےکیونکہ وہ تحریک کوایک نظریاتی اورمذہبی بنیادپربھی پیش کرتی ہیں اورکشمیرمیں نوجوانوں کی اکثریت ان کواپنے دل کی آوازسمجھتے ہیں۔ (جاری ہے )