Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

آسیہ اندرابی، سوال جو دبایا نہ جا سکا

(گزشتہ سے پیوستہ)
انسانی حقوق کی بات کرنے والی دنیاکہاں ہے؟وہ آوازیں کہاں ہیں جوظلم کے خلاف اٹھتی ہیں؟وہ تنظیمیں کہاں ہیں جوہرمظلوم کے لئے بولنے کادعوی کرتی ہیں؟کیاکچھ کہانیاں اتنی خاموش ہوتی ہیں کہ وہ سنائی ہی نہیں دیتیں،یاکچھ خاموشیاں اتنی بھاری ہوتی ہیں کہ انہیں سننے کی ہمت نہیں ہوتی؟یہ سوال صرف آسیہ اندرابی کانہیں،یہ سوال ہراس انسان کاہے جوانصاف پریقین رکھتاہے۔
کشمیر کی راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان جب اندھیراچھاجاتا ہے ،تولگتا ہے جیسے وقت رک گیاہو۔ایسے میں کسی جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھی ایک عورت شایدآسمان کی طرف دیکھتی ہوگی،اورسوچتی ہوگی کیاآزادی بھی کبھی اتنی ہی قریب ہوگی جتنے یہ ستارے؟یہ ایک عجیب تضاد ہے ،آسمان آزاد ہے،پرندے آزاد ہیں،ہوا آزادہے،مگرانسان قید ہے۔ اس کے خواب قیدہیں،اس کی خواہشیں قید ہیں، اس کی زندگی قید ہے۔آسیہ اندرابی کی کہانی ہمیں مجبور رتی ہے کہ ہم رک کرسوچیں۔یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے، ہمیں بے چین کرتی ہے،اورہم سے سوال کرتی ہے کیا ہم واقعی ایک انصاف پسنددنیامیں رہ رہے ہیں؟یہ مضمون کسی فیصلے کے لئے نہیں،کسی کودرست یاغلط ثابت کرنے کے لئے نہیں۔یہ صرف ایک انسانی کہانی ہے ایک ایسی کہانی جو آنسوؤں سے لکھی گئی ہے،صبر سے سنواری گئی ہے اور وقت کے ہاتھوں آزمائی گئی ہے۔
جب ایک عورت اپنے نظریے کے لئے سب کچھ قربان کردیتی ہے،تووہ صرف ایک فردنہیں رہتی،وہ ایک علامت بن جاتی ہے۔آسیہ اندرابی بھی ایک ایسی ہی علامت ہیںکسی کے لئے امید کی،کسی کے لئے مزاحمت کی،اورکسی کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے تنازع کی۔مگر ایک بات طے ہے ان کی کہانی سنی جائے گی۔کیونکہ سچائی چاہے کتنی ہی دب جائے،ایک دن وہ خودکوظاہرکردیتی ہے۔اورشاید اسی دن، کشمیرکی ہوامیں شامل آہیں دعاؤں میں بدل جائیں،آنسو مسکراہٹوں میں ڈھل جائیں،اورقید کی دیواریں یادوں کاحصہ بن جائیں۔تب تک،یہ کہانی زندہ رہے گی دلوں میں، لفظوں میں،اوران آنکھوں میں جواسے پڑھ کرنم ہو جاتی ہیں۔
پاکستان اس معاملے میں مختلف سطحوں پرکرداراداکرسکتاہے۔اقوام متحدہ اور یگرعالمی فورمز پر مسئلہ اجاگر کر نے کے لئے سفارتی سطح پرآوازاٹھائی جائے۔عالمی این جی اوزکے ساتھ مل کرانسانی حقوق کی مہم چلائی جائے۔عالمی میڈیامیں اس معاملے کو مؤثر انداز میں پیش کیاجائے۔بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے ذریعے کیس کوعالمی عدالتوں تک لے جانے کی کوشش کی جائے۔
یہ کہانی صرف سیاست کی نہیں،انسانوں کی ہے۔ایک عورت،جو برسوں سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک شوہر،جوعمربھر قیدمیں رہااوراب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ایک خاندان،جووقت کے ساتھ بکھرگیا۔یہ سب ہمیں ایک سوال کی طرف لے جاتاہے،کیا انصاف واقعی سب کے لئے یکساں ہے؟ آسیہ اندرابی کامعاملہ کشمیرکے وسیع ترمسئلے کی ایک جھلک ہے۔یہ کہانی ہمیں یاددلاتی ہے کہ سیاسی تنازعات کے پیچھے انسان ہوتے ہیں،ان کے خواب،ان کے دکھ، اوران کی امیدیں اورجن کی اپنی کہانیاں، درد اور امیدیں ہوتی ہیں۔کشمیرکامسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کشمیری عوام کوان کابنیادی حق یعنی حق خودارادیتنہیں دیاجاتا،اورجب تک تمام فریقین سنجیدگی سے مذاکرات کی میزپرنہیں
آتے۔جب تک انصاف،شفافیت اورانسانی وقارکوترجیح نہیں دی جائے گی،ایسی کہانیاں جنم لیتی رہیں گیاوردنیاخاموش تماشائی بنی رہے گی۔یہ مضمون ایک دعوتِ فکرہے ایک سوال،ایک آئینہ،اورشایدایک خاموش چیخ۔
وقت گزرجائے گاشایدسرحدیں بھی بدل جائیں، شاید نقشے بھی نئے بن جائیں،مگرکچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جوکبھی ختم نہیں ہوتیں۔ آسیہ اندرابی کی کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے ۔ایک ایسی داستان جوقیدکی دیواروں سے ٹکراکربھی زندہ ہے،جوخاموشی میں بھی بولتی ہے،اورجوہراس دل میں دھڑکتی ہے جو در د کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ کہانی ہمیں مجبورکرتی ہے کہ ہم اپنے ضمیرسے سوال کریںکیاانصاف واقعی طاقت کامحتاج ہے؟کیا انسانی حقوق صرف الفاظ ہیں، یا ان کی کوئی عملی حقیقت بھی ہے؟اورسب سے بڑھ کر،کیا دنیا واقعی ہرمظلوم کی آوازسنتی ہے،یاکچھ صدائیں ہمیشہ کے لئے خاموش کردی جاتی ہیں؟
کشمیر آج بھی وہیں ہے ،اپنی خوبصورتی کے ساتھ،اپنے دکھوں کے ساتھ۔ جھیلیں اب بھی شفاف ہیں،مگران میں جھانکیں توشایدآنسوؤں کی نمی دکھائی دے۔ پہاڑاب بھی بلند ہیں،مگران کے سائے میں دبے خواب شایدآج بھی آزادی کے منتظرہیں اور کہیں، کسی جیل کی تاریک کوٹھڑی میں،ایک عورت اب بھی اپنے یقین کے ساتھ زندہ ہے۔وقت اسے تھکانہیں سکا،تنہائی اسے توڑ نہیں سکی،اورقید اس کی سوچ کومحدود نہیں کرسکی۔یہی اس کی طاقت ہے،یہی اس کی کہانی ہے۔
یہ مضمون کسی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک احساس کی دعوت ہے۔اگراس کہانی کوپڑھ کردل میں ایک لمحے کوبھی دردکی لہر اٹھے ،آنکھوں میں نمی اترآئے،یاذہن میں کوئی سوال جنم لے توشاید یہی اس کامقصدتھا۔کیونکہ کچھ کہانیاں سنی نہیں جاتیں،وہ محسوس کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں