مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرتاریخ کے اس موڑ پر کھڑاہے جہاں بارودکی بو،سفارت کاری کی سرگوشیوں کو دبائودینے کی کوشش کررہی ہے۔ ایران پر امریکا اوراسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونےوالی یہ جنگ محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست ، معیشت اورطاقت کے توازن کوہلاکررکھ دیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے پرمحیط یہ کشیدگی اس حقیقت کوآشکار کررہی ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی طاقت کی زبان،دلیل اور مذاکرات پرغالب آنے کی کوشش کرتی ہےمگراس بارمعاملہ کچھ مختلف ہے،اس بارمیدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذبھی پوری شدت سے گرم ہے۔
یہ تنازع صرف میزائلوں اوربمباری تک محدودنہیں بلکہ اس کےپیچھے ایسے پیچیدہ سیاسی مقاصد اورحکمت عملیاں کارفرما ہیں جنہیں سمجھنا آسان نہیں۔ امریکاکی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی پیشکش اوردوسری طرف جارحانہ کارروائیاں،ایک ایسی دوہری پالیسی کوظاہرکرتی ہیں جسے ماہرین’’کیرٹ اینڈ اسٹک‘‘ کا نام دیتے ہیں۔اس حکمت عملی کے ذریعے واشنگٹن بیک وقت دبائو اورترغیب دونوں کااستعمال کررہاہے،لیکن اس کے حقیقی مقاصدآج بھی دھندمیں لپٹےہوئے ہیں۔دوسری جانب ایران نے غیرمعمولی صبر، حکمت اورمزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ سفارتی سطح پربھی اپنے مخالفین کو چیلنج کیاہے۔ آبنائے ہرمزجیسے حساس جغرافیائی مقام پراس کا اثرورسوخ عالمی معیشت کیلئے ایک فیصلہ کن عنصربن چکاہے،جس کے اثرات دنیابھرمیں محسوس کیے جارہے ہیں۔
اسی پیچیدہ اورنازک صورتحال میں پاکستان ایک ایسے کردارکے طورپرابھراہے جس کی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ایک طرف ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات،دوسری جانب امریکا اور خلیجی ممالک کےساتھ سفارتی روابط ،یہ توازن پاکستان کوایک منفردحیثیت دیتاہے۔اسلام آبادمیں ہونےوالی سفارتی سرگرمیاں اورمختلف ممالک کےوزرائے خارجہ کے درمیان مشاورت اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ممکنہ طورپرامن کاایک کلیدی معماربن سکتا ہے۔ یہ مضمون اسی تناظرمیں اس جنگ کےپس پردہ عوامل، امریکاکے مبہم اہداف،ایران کی حکمت عملی اورسب سے بڑھ کر پاکستان کے ثالثی کردارکا تفصیلی جائزہ لےگا۔ ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی کوشش کی جائےگی کہ کیاواقعی سفارت کاری اس آگ کوبجھا سکتی ہے یادنیاایک طویل اورتباہ کن تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ایران پرامریکااوراسرائیل کےحملوں کےبعد مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ ہوگیاہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں ترکی مصراورسعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئےکام کرنے والے ممالک میں نمایاں طورپرسامنے آیاہے،پاکستان کے وزیر خارجہ نےکہاہے کہ ایران اورامریکا دونوں نے سہولت کارکے طور پر پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیاہے۔ٹرمپ نے کئی بارپاکستان کے مثبت کردارکے بارے میں بات کی ہے۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت نے اس تنازع کوایک نئے سفارتی موڑپرلاکھڑاکیاہے۔ٹرمپ نے اعلان کیاہےکہ وہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہبازشریف اورآرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف طے شدہ فوجی حملے کودو ہفتوں کیلئے مؤخرکرنے پرآمادہ ہیں،بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمزکو فوری، مکمل اورمحفوظ اندازمیں کھول دے ۔اس کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے یہ تصدیق بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل اسلام آبادمیں جمعے سے شروع ہوگا۔یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کواجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہرکرتی ہے کہ جنگ کے عین بیچ میں بھی مذاکرات کی کھڑکی مکمل طورپربندنہیں ہوئی۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہےکہ اس جنگ کااطلاق لبنان تک نہیں پھیلایاجائےگا، جواس خطے میں ممکنہ پھیلائو کو محدودکرنے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔حال ہی میں انہوں نےیہ بھی کہاکہ امریکاایران کی نئی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کررہا ہے جن سے ایران میں امریکاکی فوجی کاروائی ختم ہوسکتی ہے لیکن ساتھ ہی اسی شدت سے ایران پرحملے اوردہمکیاں بھی جاری ہیں۔دوسری طرف ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ جنگ ختم کرنے کے لئے امریکا کی طرف سے بھیجے گئے نکات اور شرائط ضرورت سے زیادہ غیرمعقول ہیں۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کئی بارکہہ چکے ہیں کہ امریکاکے ساتھ کوئی بھی براہ راست مذاکرات نہیں کررہا۔
اس پس منظرمیں آج ایران اورامریکی جنگ میں بطورسہولت کارپاکستان کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ دوسوالوں کا جواب دینے کی کوشش بھی کریں گے کہ امریکااورایران کے درمیان ثالث کیس کردارسے پاکستان کو کیافائدہ ہوسکتا ہےاورامریکاایک ہی وقت میں ایک طرف فوجی جارحیت اوردوسری طرف سفارت کاری کی پالیسی سے کیا حاصل کرناچاہتا ہے۔اس جنگ سے امریکاحاصل کیا کرنا چاہتاہے؟ یہ ایک ایساسوال ہےجس کاجواب ایک ماہ بعد بھی واضح نہیں اوراس کی ایک وجہ شایدخودٹرمپ کے مختلف بیانات بھی ہیں۔وہ کبھی ایران کوتباہ کرنے،ایران کے خارگ جزیرے پر موجود تیل پرکنٹرول حاصل کرنے،پانی اوربجلی کے انفراسٹرکچرکو تباہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں توکبھی ایران کی نئی قیادت کی تعریف بھی کرتے نظرآتے ہیں۔ایک طرف مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمزکو ٹینکرزکیلئے کھول دے تودوسری طرف دیگرممالک سےکہتےہیں کہ وہ خودجاکرآبنائے ہرمزکاکنٹرول سنبھالیں اوراسے استعمال کریں۔ ایران سے مذاکرات کی باتیں بھی کرتے ہیں اور ایران کو بمباری کرکے پتھر کے دورمیں پہنچانے کی بھی۔ ماہرین کہتےہیں کہ یہ دراصل ایران کی طرف امریکاکی کیرٹ اینڈسٹک پالیسی کاحصہ ہے یعنی ایک طرف آپ سامنے والے کولبھانے کےلئے کچھ پیشکش کریں،ایک کیرٹ یاگاجراور دوسری طرف اسے ڈرانے کیلئےکچھ دکھائیں،سٹک یعنی چھڑی ۔ اس وقت گاجر مذاکرات کی پیشکش ،ایران کے بجلی اور تیل کی تنصیبات پر حملہ نہ کرنا ہے تو چھڑی مکمل تباہی کی دھمکی ہے۔
ٹرمپ کےاسطرح کے بیانات سے اب عالمی طورپراعتباراٹھ گیاہے۔جوابھی تک کی صورتحال ہے اس میں ایران کا ردعمل بڑامضبوط،دانشمندانہ ہے،بڑی حکمت عملی کے تحت ایرانی اپنے قدم بڑھارہے ہیں۔ان کے درمیان جوپیغام رسانی ہے ،اس کے مطابق پانچویں ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں امریکا کےلئے مشکلات اورمسائل بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکی مقاصد کودیکھاجائے تو اس وقت صورتحال اتنی پیچیدہ نظراتی ہے،کوئی نہیں جانتاکہ امریکا کےمقاصدکیاہیں؟یہ بھی واضح نہیں،کیا وہ اس وقت جنگ کو بند کرنا چاہتا ہے،وہ آبنائے ہرمزکوکھولنا چاہتاہے،وہ ایران کو غیرمسلح کرناچاہتاہے،دنیا جاننا چاہتی ہے کہ آخرامریکاچاہتاکیاہے؟
جس وقت یہ تنازع شروع ہواتواس وقت سامنے تین مقاصدتھے:ایک تویہ تھاکہ موجودہ ایرانی رجیم چینج کی جائے اور وہاں ایک ایسی حکومت لائی جائے جوان کے مقاصد کے عین مطابق ہوجیساکہ وینزویلامیں انہوں نے کیا۔دوسرایہ تھاکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کوختم کیاجائے یااس سطح پرلایاجائےکہ وہ اسے جنگی مقاصدکیلئے استعمال نہ کرسکیں اور تیسرایہ تھا کہ ان کا جوملٹری انفراسٹرکچر ہےاس کواتنامحدودکردیاجائےکہ وہ علاقے کے لئے خطرہ نہ بن سکے۔اس میں بہت زیادہ طاقت نہ رہےلیکن جیسےجیسے یہ سلسلہ اگے بڑھتا گیا،اہستہ اہستہ یہ چیزیں نظرآنا شروع ہوئی،ایران کی طرف سے جتنی مزاحمت ہوئی اور ابھی تک ہورہی ہے توان مقاصدکے اندرانہوں نے بڑے ایک سٹریٹیجک طریقے سےامریکاکے مقاصدکوکاؤنٹرکرنا شروع کیاجس میں سب سےپہلے تواس تنازعہ کوریجن کے اندراس خوف کے ساتھ پھیلایاگیاکہ اگرآپ کی زمین ،ایئرسپیس یااپ کےکوئی بھی وسائل ایران کےخلاف استعمال ہوئےتوآپ کے اوپراسی شدت سے حملہ ہوگا ، دوسرااس تنازعہ کوریجن سے باہر نکال کرگلوبل لیول پرلے آئیں جس میں آبنائے ہرمزکاپورا کنٹرول ایران کے حق میں چلاجائے۔ اب تک ایران اپنےان دونوں مقاصدکو حاصل کرچکاہے اورساری دنیاپراس جنگ کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں اور’’گلوبل سپلائر چین‘‘شدیدمتاثرہورہی ہے۔۔
یہاں پھرایک سوال ذہن میں ابھرتاہےکہ اس سب میں پاکستان کہاں فٹ ہوتاہے؟پاکستان نے ایک طرح سے جنگ کے پہلے دن سے اپنی پوزیشن واضح رکھی ،مشکل لیکن واضح،ایران کا دوست ، امریکاکااتحادی اوران تمام ممالک کابھی دوست جوایران کے جوابی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ظاہرہے اس پوزیشن کوبرقراررکھناآسان نہیں ہے لیکن فی الحال ایسالگتاہے کہ پاکستان اس مشکل راستے کوکافی کامیابی سے نمٹا رہا ہے۔
(جاری ہے)