(گزشتہ سےپیوستہ)
موجودہ صورتحال دیکھیں توامریکا اور ایران کی جوپوزیشنز ہیں وہ اتنی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اتنی ناقابل بھروسہ ہیں، مصالحتی ٹیم میں شامل ممالک سوچ رہے ہیں کہ سفارت کاری اورڈپلومیسی کی شروعات کہاں سے ہوگی؟
اس مشکل مرحلے کاآغازیقینافریقین کے اس یقین سے ہوگاکہ وہ واقعی جنگ ختم کرناچاہتی ہیں اور دوسر امرحلہ پرجہاں امریکااورایران شاید اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کافی عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیارنہیں بناناچاہتے اورسب سے بڑاامریکاکابھی سٹریٹیجک گول اس جنگ کے اندریہی تھاکہ ایران نیوکلیئرپاورنہ بنے۔ جو اختلافی نکات ہیں وہ تھوڑے ہیں لیکن وہ ایک مسئلہ توہوں گے لیکن اگربات شروع ہوگی تووہ شایدسب سے پہلے نیوکلیئرسے ہوگی۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ یہ مذاکرات کی جوبات ہورہی ہے،جو ڈپلومیسی کا ٹریک چل رہاہے اس میں چین کاکیاکردارہے،چین کتنا اہم ہے؟
جنگ کے اندرجو تین چارمختلف کھلاڑی ہیں جیسے کہ عرب ریاستیں ہیں،ایران ہے، امریکا اور اسرائیل ہے توچین کاکچھ پلیئرز پہ توانفلوئنس ہے لیکن کچھ پلیئرزپہ چین کااس طرح انفلوئنس نہیں ہے کہ چین بطورضامن کوئی رول اداکرسکے البتہ چین کے آنے کایہ فائدہ ہوسکتاہے کہ چین کاایران پر کافی زیادہ انفلوئنس ہے تواگرچائنہ اس پراسس کے اندرآتاہے توشاید ایران کے لئے اس پراسس کی کریڈیبلٹی بڑھ جائے اورجہاں تک پاکستان کے کردارکاسوال ہے،پاکستان کی جس طرح سے ایک نمایاں سفارتی کوششیں ہیں اوراس وجہ سے پاکستان عالمی طورپر توجہ کامرکزبھی بناہواہے اور نمایاں طورپر سامنے بھی آیاہے،چین کوواقعی ایسالگتا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کو شاید کامیاب بنانے میں کردار ادا کر سکتاہے۔
چین یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے عرب ممالک،ایران کے ساتھ اب امریکاکے ساتھ کافی بہترتعلقات ہی، اورپھردیکھنایہ ہے کہ پاکستان اس جنگ سے براہِ راست متاثربھی ہو رہا ہے۔پاکستان ایران کاہمسایہ ہے،اگرحالات زیادہ خراب ہوتے ہیں،توایران کے ساتھ پاکستان پربھی ایک امپیکٹ آئے گا تو ان حالات میں پاکستان پراس جنگ کے مہلک اثرات پڑسکتے ہیں۔اس وقت امریکاکی یہ جنگ بہت ہی نازک موڑپرہے۔اگرسفارت کاری ناکام ہوجاتی ہے توٹرمپ کے پاس بہت زیادہ اپشنزنہیں بچیں گے ایک اپشن یہ ہے کہ ٹرمپ یہ کہہ کرفتح کااعلان کردیں گے کہ انہوں نے ایران کی فوج کومکمل طورپرتباہ کردیاہے اور آبنائے ہرمزکو کھلواناان کی ذمہ داری نہیں۔اس سے عالمی معیشت پر جس طرح کے اثرات پڑھ سکتے ہیں،اس کااندازہ پچھلے تین چارہفتوں میں ہی ہوگیاہے یاپھرٹرمپ اس جنگ میں مزیدتوسیع کردیں کیونکہ اب تک ٹرمپ نے اپنے روئیے سے ثابت کر دیاہے کہ وہ کبھی بھی اپنے بیانات سے منحرف ہوکردنیا کی تباہی کے فیصلے کرسکتے ہیں۔
اس وقت4ہزارسے زیادہ امریکی میرینزبحری جہازوں پرخلیج فارس کی طرف بڑھ رہے ہیں،اے جی سیکنڈایربون کے پیرک ٹروپس سٹینڈبائی پرہیں اورمزید ری انفورسنمنٹس کی بات بھی ہورہی ہے۔ایک فل سکیل انویژن یابھرپورزمینی حملہ میں یہ ممکن ہے کہ امریکاخلیج فارس میں خارق سمیت کچھ جزیروں کوقبضے میں لینے کی کوشش کریں۔یہ آپشن بھی امریکا کے لئے مشکل ثابت ہوسکتاہے۔ایران پہلے ہی کہہ چکاہے کہ وہ ایک لمبی جنگ کے لئے تیارہے۔ماہرین یہاں تک کہتے ہیں کہ ایک لمبی جنگ کے لئے ایران شایدامریکاسے زیادہ تیار ہے اورایران نے گزشتہ ہفتے اسے دہرایابھی ہے تواس وقت امریکاکے لئے زمینی جنگ کتناحقیقی آپشن ہوگا اورکیا امریکا ایساکرسکتاہے؟
تو اس سلسلے میں اگر تو ہم افغانستان یاعراق والے تناظرمیں سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں تواس طرح کاکچھ نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ اس بات کاقوی امکان ہے کہ امریکاکچھ چھوٹاآپریشن کرسکتاہے اوریہ معاملہ بھی تتب ممکن ہوگا جب امریکا سٹریٹیجکلی کسی بندگلی میں داخل ہو جائے گاجہاں اس کے پاس انخلاء کایاوہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔میرے خیال میں اس طریقے سے دیکھنازیادہ مناسب ہوگاکہ اس طرح کی ایک ایڈونچر کرناکے مقاصدکیاہیں۔ممکن توہوسکتاہے لیکن اس سے منسلک جوخطرات ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔
ایران کے اس دعوے کے باوجودکہ اس وقت امریکاکے ساتھ کوئی بھی مذاکرات نہیں ہورہے،اس بات سے انکارنہیں کیاجا سکتاکہ دونوں ممالک کے درمیان خاص طورپرپاکستان کے ذریعے رابطے ضرورہو رہے ہیں۔امریکانے اپنی شرائط سامنے رکھی ہیں توایران نے اپنی۔ماہرین کہتے ہیں کہ امریکا کا لیکڈ 15نکاتی پلان امن کامنصوبہ کم اورایران کے لئے ہتھیار ڈالنے کا منصوبہ زیادہ دکھائی دیتاہے۔اسی طرح ایران کے مطالبات جن میں آبنائے ہرمزپرایرانی کنٹرول،جنگ کے نقصانات کی تلافی اورمشرق وسطیٰ سے امریکااڈوں کاخاتمہ شامل ہے،جوامریکاکومنظورنہیں ہوگا۔
یہ واضح ہے کہ اگریہ جنگ لمبی کھینچتی ہے تواس کے خطے پرپاکستان پراورپوری دنیاپرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ مضمون کے آغازمیں دوسوال سامنے رکھے تھے کہ امریکااور ایران کے درمیان ثالث کیس کردارسے پاکستان کوکیافائدہ ہو سکتاہے اورامریکا ایک ہی وقت میں ایک طرف فوجی توسیع اوردوسری طرف سفارت کاری کی پالیسی سے کیاحاصل کرنا چاہتاہے؟؟
جہاں تک پاکستان کاسوال ہے توآپ اس معاملے کوچاہے پاکستانی معیشت،عوامی رائے عامہ یاعالمی سفارت کاری کے زاوئیے سے دیکھیں،پاکستان کواس جنگ کی جاری رہنے سے جتنانقصان ہورہاہے، اس کے خاتمے میں سے اسے اتناہی فائدہ ہوگا۔امریکا کے اہداف اورمقاصداب بھی غیرواضح ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران پراسرائیل اورامریکا کی جنگ نے بہت کچھ بدل دیاہے۔جہاں ریجیم چینج کی کھلم کھلاباتیں ہوئیں وہیں خطے میں نئے اتحادکی طرف اشارے بھی ہونے لگے ہیں ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیااس مرتبہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یاپھرتاریخ اس امریکاجنگ کوعالمی سیاست میں ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ کے طورپریادکرے گی۔
یادرکھیں!جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں،وہ قوموں کی تقدیروں،معیشتوں اورآنے والی نسلوں کے مستقبل پربھی گہرے نقوش چھوڑتی ہیں۔ ایران اور امریکاکے درمیان جاری یہ کشمکش بھی محض دوریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ ایک وسیع ترعالمی طاقت کے کھیل کاحصہ ہے،جس میں ہرقدم کے دوررس نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجودنہ تو امریکاکے مقاصدپوری طرح واضح ہوسکے ہیں اورنہ ہی یہ جنگ کسی منطقی انجام کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔
تاہم اس تمام ترغیر یقینی صورتحال میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آئی ہے،طاقت کے باوجود کوئی بھی فریق مکمل برتری حاصل نہیں کرسکا۔ ایران کی مزاحمت اورامریکاکی دوہری حکمت عملی نے اس تنازع کو ایک پیچیدہ بندگلی میں لا کھڑاکیاہے جہاں سے نکلنے کاراستہ صرف اورصرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن نظرآتاہے۔یہیں پرپاکستان کا کردارغیرمعمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے۔ایک ایسے وقت میں جب دنیاکے بڑے کھلاڑی اپنے اپنے مفادات کے جال میں الجھے ہوئے ہیں،پاکستان نے ایک متوازن اورذمہ دارانہ پالیسی اپناتے ہوئے خودکوایک ممکنہ ثالث کے طور پرپیش کیاہے۔اگرچہ یہ راستہ آسان نہیںاعتمادکی کمی،متضاد مفادات اورشدید جذباتی ماحول اس عمل کومزیدمشکل بناتے ہیںلیکن اس کے باوجودپاکستان کی کوششیں ایک امیدکی کرن ضرورہیں۔
پاکستان کے لئے بھی یہ محض سفارتی کامیابی کامعاملہ نہیں بلکہ اس کی اپنی سلامتی،معیشت اورعلاقائی استحکام کاسوال ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں،ممکنہ علاقائی جنگ اورداخلی دباؤیہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنازع کاخاتمہ پاکستان کے مفادمیں ہے۔اگروہ اس نازک مرحلے پرکامیاب ثالثی کرلیتاہے تویہ نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کو مضبوط کرے گابلکہ ایک نئی سفارتی تاریخ بھی رقم کرے گا۔
آخرکارسوال یہی باقی رہتا ہے:کیادنیاطاقت کے بجائے مکالمے کوترجیح دے گی؟کیا امریکااورایران اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میزپرحل کرنے پرآمادہ ہوں گے؟اورکیا پاکستان واقعی اس تاریخی موقع کوایک پائیدارامن میں بدلنے میں کامیاب ہوسکے گا؟تاریخ کے اوراق اس وقت پلٹ رہے ہیںاورآنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ جنگ ایک اورتباہ کن باب ثابت ہوگی یا امن کی جانب ایک فیصلہ کن موڑ۔