دینی مدارس کی تعلیمی دنیامیں نئےتعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے،مدارس میں نئے داخلے لینے والے مسلمان پاکستانی طلباء کرام کےتانتے بندھے ہوئے ہیں،ہرمدرسےمیں داخلے کے لئے ٹیسٹ توہوتاہی ہے،مگر اسکے باوجود ملک کے سینئرعلماء ،شیوخ الحدیث اور دستیاب اکابرین کے متعلقہ شخصیات کو فون بھی کروائے جاتے ہیں، شکرخداکاکہ دینی مدارس کے مولوی صاحبان نہ صرف یہ کہ فون اٹینڈ کرلیتےہیں بلکہ اس ’’فون‘‘ کی لاج رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ،ورنہ انگلش نظام تعلیم میں تو ’’پناہ بخدا‘‘ وہاں تو پنجابی کہاوت کے مطابق ’’کی لے کے آئےاو تے، کی دے کے جاو گے‘‘ پیرنٹس کے صرف کپڑے نہیں اتارے جاتےباقی گنگا جمناسب برابر کر دئیےجاتے ہیں ،بہرحال پیر کی شام اس خاکسار نے ’’دینی مدارس ضرورت واہمیت‘‘کے موضوع پرخطاب کرتےہوئےجو گزارشات پیش کیں انکاخلاصہ مندرجہ ذیل ہے، سمینار سےخطاب کرتےہوئے اس خاکسار نےعرض کیا کہ عصرِ حاضر میں جب معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور شناختی بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے، ایسے میں دینی مدارس کی حیثیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ یہ ادارے محض تعلیم گاہیں نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور تہذیبی شعور کے امین ہیں، دینی مدارس نے صدیوں سے قرآن و سنت کی روشنی کو نسل در نسل منتقل کر کے امت کی فکری بنیادوں کو مضبوط رکھا ہے۔ موجودہ حالات میں مدارس کے کردار، خدمات اور ریاستی پالیسیوں کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔دینی مدارس مسلمانوں کی علمی، فکری اور روحانی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جنہوں نے صدیوں سے اسلام کی بنیادی تعلیمات، قرآن و سنت کی تفہیم، اخلاقیات کی تربیت، اور دینی علوم کی حفاظت کا وہ عظیم فریضہ سرانجام دیا جو کسی اور تعلیمی ڈھانچے نے کبھی ادا نہیں کیا۔ دینی مدارس کی خدمات نہ صرف مذہبی اور روحانی ہیں بلکہ معاشرتی و اخلاقی سطح پر بھی ان اداروں نے وہ کردار ادا کیا جس نے معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
آج کے پیچیدہ دور میں جبکہ دنیا الحاد،مادیت، بےراہ روی اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، دینی مدارس کاوجود محض ضرورت نہیں بلکہ ایک تحفظی حصارکی حیثیت رکھتا ہے۔دینی مدارس قرآنِ مجید کی تعلیم، حدیث کی شرح، فقہ اسلامی کی تفہیم، عربی زبان کی تربیت، سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ اور اسلامی فقہی و فکری ورثے کی حفاظت انجام دیتے ہیں۔یہ وہ علوم ہیں جو نہ صرف مذہبی پہچان بلکہ مسلم معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کی بنیاد ہیں۔اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو قرآن کا وہ سلسلہ جو چودہ صدیوں سے صحابہ، تابعین، آئمہ مجتہدین اور محدثین کے ذریعے ہم تک پہنچا، وہ منقطع ہو سکتا تھا۔ دینی مدارس نے اُمت کی علمی میراث کو زندہ رکھا۔کمزور اور محروم طبقات کا سہارا، پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں بچے معاشی مسائل کے باعث تعلیم سے محروم ہیں، وہاں دینی مدارس مکمل کفالت کے ساتھ مفت تعلیم، رہائش، کھانا، کتابیں، لباس اور دیگر ضروریات فراہم کرتے ہیں۔ملک کے پسماندہ اور غریب علاقوں کے لاکھوں بچے اگر دینی مدارس کا سہارا نہ پائیں، تو وہ بھوک، بے روزگاری، جرائم یا جہالت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ مدارس دراصل سماجی فلاح کے ادارے بھی ہیں جو ریاست کے اس خلا کو پر کرتے ہیں جسے عام سرکاری ادارے پورا نہیں کر پا رہے۔دینی مدارس کا سب سے نمایاں پہلو اخلاقی تربیت ہے۔یہاں طلبہ کو تقویٰ، امانت، دیانت، کردار کی پاکیزگی، حقوق العباد کی ادائیگی، عاجزی، صبر اور قناعت جیسے اوصاف سکھائے جاتے ہیں۔ تعلیم یافتہ مگراخلاق سےخالی معاشرہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔مدارس اسی اخلاقی بحران کاحل پیش کرتے ہیں اور معاشرے کو ایسے نوجوان دیتے ہیں جن کے کردار میں سادگی، ذمہ داری اور اعلی اخلاق شامل ہوتے ہیں۔
دینی مدارس ہی سے بہترین قرا،حفاظ،خطباء، آئمہ، مفتیان، مدرسین، محققین اور فقہی ماہرین تیار ہوتے ہیں۔یہ افراد مساجد، مدارس، جامعات، عدالتوں، میڈیا، فلاحی اداروں، اور معاشرتی اصلاحی تنظیموں میں رہنمائی کا کردارادا کرتے ہیں۔ مسلمان قوم اگر اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ دینی علوم کے ماہرین موجود رہیں اور یہ ضرورت صرف دینی مدارس ہی پوری کر سکتے ہیں۔کچھ حلقے مدارس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، یاسائنسدان بھی تیار کریں۔یہ مطالبہ ایسے ہی ہے جیسے کھیل کے میدان میں فٹ بال ٹیم سے کرکٹ جتانے کا مطالبہ کیا جائے۔مدرسے کا کام ڈاکٹر بنانا نہیں بلکہ ایمان و دین کی حفاظت کرنا ہے۔تاہم بہت سے مدارس میں آج کمپیوٹر انگلش، ریاضی، جدید تحقیق اور دیگر مضامین بھی پڑھائے جا رہے ہیں، مگر اصل مقصد دینی علوم کی حفاظت ہی ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں ریاست کے بعض اداروں کی پالیسیوں نے دینی مدارس کو اکثر مختلف عنوانات کے تحت تنگ کیا۔کبھی رجسٹریشن، کبھی فنڈنگ، کبھی غیرملکی طلبہ، کبھی نصاب ہرچند سال بعدایک نئی سختی سامنے آتی ہے۔ حالانکہ دینی مدارس کی قیادت نے ہمیشہ ہرحکومت کےساتھ تعاون کیااور ملک کی سلامتی و امن کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ریاست کے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ مدارس کو شک کی نظر سے نہیں، بلکہ شراکت دار کی حیثیت سے دیکھیں، کیونکہ یہ ادارے حقیقی معنوں میں قوم سازی کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)