(گزشتہ سے پیوستہ)
میڈیا اور ذرائع ابلاغ ایک مستقل موضوع بحث کی حیثیت رکھتے ہیں کہ میڈیا کے مختلف شعبوں کی کارکردگی نے انسانی سوسائٹی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟ مثال کے طور پر اس کے ایک جزوی پہلو کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی صوبہ ہریانہ کی ایک سکھ خاتون نے طلاق کی شرح میں مسلسل اضافے کو پی ایچ ڈی کے مقالہ کا موضوع بنایا اور اس کے مختلف اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے موبائل فون کو طلاق کی شرح میں ہوشربا اضافے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ شادی سے ایک سال قبل اور ایک سال بعد تک لڑکی کے پاس موبائل فون نہیں ہونا چاہیے، جبکہ چند ماہ قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی تباہ کاریوں کی یہ کہہ کر دھائی دی ہے کہ ہماری نئی نسل برباد اور ناکارہ ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہمیں نیٹ اور موبائل کے بارے میں قانون سازی کرنا ہوگی۔ اس سے ہٹ کر فحاشی اور عریانی کے فروغ اور اسلامی اور مشرقی اقدار و روایات کو کمزور کرنے میں میڈیا کا کردار سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دانش وروں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور موبائل، نیٹ، چینل اور دیگر ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ہی میں ان بین الاقوامی معاہدات اور قوانین کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا جو اس وقت دنیا کے عملاً حکمران ہیں۔ میں یہ بات اکثر کہا کرتا ہوں کہ دنیا پر آج حکومتوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدات کی حکمرانی ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقت ور اور دولت مند ملک اپنے لیے راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر کمزور ممالک خود کو ان کے سامنے بے بس پاتے ہیں اور معاہدات کی پابندی پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان معاہدات کا اسلامی تعلیمات کی رو سے جائزہ لینا ضروری ہے اور ہمارے اسکالرز کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی معاہدات کا اسلامی تعلیمات کے ساتھ تقابلی مطالعہ کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کریں۔ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر ایک بات عرض کروں گا کہ مجھے گزشتہ چند سالوں کے دوران ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے زیر اہتمام مختلف سیمیناروں میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جنگی متاثرین کی امداد کے سلسلہ میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں مسلم علاقوں میں ریڈ کراس کو دشواریاں پیش آرہی ہیں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ان دشواریوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے اس سلسلہ کے ایک سیمینار میں عرض کیا کہ اگر ریڈ کراس کی تشکیل اور اس کے قوانین اور طریق کار کی تدوین کے وقت اسلام کو ایک زندہ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اس کے نمائندوں کو بھی شامل کر لیا جاتا تو آج یہ مشکلات پیش نہ آتیں۔ اس وقت یہ سمجھ لیا گیا کہ مسیحی دنیا کی طرح مسلمان بھی اسلام کے معاشرتی کردار سے بالآخر دست بردار ہو جائیں گے، اس لیے بین الاقوامی قوانین کی تشکیل و تدوین میں مذہب کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا مگر عملاً ایسا نہیں ہو سکا، اس لیے کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اسلام آج بھی انسانی معاشرہ کی ایک زندہ اور متحرک قوت و حقیقت ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کا حل آج بھی یہی ہے کہ انسانی سوسائٹی میں اسلام کو ایک زندہ حقیقت اور نسل انسانی کے ایک بڑے حصے کے راہ نما کے طور پر تسلیم کیا جائے اور آج کے زمینی حقائق کی بنیاد پر بین الاقوامی قوانین و معاہدات کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے مسلم محققین اور دانش ور حضرات اسی ایک میدان کو اپنی علمی تگ و تاز کا مرکز بنا لیں تو تحقیق و تجزیہ کے سینکڑوں موضوعات ان کی توجہ کے طالب دکھائی دیتے ہیں۔ ان گزارشات کا مقصد اور خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اسلام کے دفاع کے ساتھ ساتھ اب اقدام اور پیش رفت کو بھی موضوع بنانا چاہیے اور مغربی فلسفہ و نظام کی ناکامی کے اسباب و عوامل کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی افادیت و ضرورت کو واضح کرنے کی علمی و فکری محنت کرنی چاہیے کہ یہ آج کی اہم ضرورت ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت محنت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔