Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جنگ کے سائے میں امن کی تلاش

(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارتی صحافیوں کی جانب سے پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلاب قراردینا ایک غیرمعمولی تلخ اعتراف ہے۔یہ وہی پاکستان ہےجسےاکثر تنقیدکانشانہ بنایاجاتارہا،اورآج وہی ملک عالمی امن کی امید بن کرابھررہاہے۔ برسوں سے پاکستان کوناکام ریاست قراردینے والے آج اسی کے کردارکوسراہنے پرمجبورہیں۔ اگر پاکستان اس آگ کوبجھانےمیں کامیاب ہوجاتا ہےتویہ نہ صرف ایک جنگ کا خاتمہ ہو گا بلکہ عالمی سطح پرطاقت کے توازن میں ایک نمایاں تبدیلی بھی ہوگی۔تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان کی کامیابی بھارت کےلئےایک سفارتی دھچکاہوسکتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب دلی کواپنے فیصلوں پرنظرثانی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔بھارتی اپوزیشن ششی تھرور کا بیان ایک اعتراف ہے،ایک ایسااعتراف جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ بھارت ایک اہم موقع کھو بیٹھا ہے۔ ششی تھرورکابیان دراصل ایک آئینہ ہےجس میں بھارت کی سفارتی کمزوری صاف جھلکتی ہے۔ان کا یہ کہنا کہ حکومت کوامن مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے تھی، اس بات کااعتراف ہےکہ بھارت ایک اہم موقع گنوا بیٹھا ہے اوریہ عظیم ناقابل تلافی سیاسی حادثہ مودی جیسے نااہل کے دورمیں ہواہے۔ثالثی بذاتِ خودکوئی معجزہ نہیں مگراس کی کامیابی ایک قوم کی ساکھ کونئی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے۔آج دنیاکی نظریں اسلام آباد پر مرکوزہیں،اب عالمی سفارت کاری کا مرکز بنتاجارہا ہے۔ہربیان، ہرملاقات اورہر پیش رفت کو بغور دیکھا جارہا ہے۔گویایہ شہرایک ایسےاسٹیج میں بدل چکاہے جہاں عالمی سیاست کاڈرامہ اپنے عروج پرہے۔
ہربیان،ہرملاقات اورہر پیش رفت کو بغور دیکھاجارہاہے۔گویایہ شہرایک ایسے اسٹیج میں بدل چکا ہےجہاں عالمی سیاست کاڈرامہ اپنے عروج پر ہے۔ تاریخ گواہ ہےکہ ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کاکردار اداکیاپاکستان ماضی میں بھی عالمی ثالثی میں اہم کرداراداکرچکاہے۔یہ ایک ایسی روایت ہےجو آج بھی زندہ ہے۔یہ وہی شہرہے جس نے کبھی واشنگٹن اوربیجنگ کوقریب لانےمیں کلیدی کردارادا کیاتھا۔آج پھروہی داستان نئے اندازمیں رقم ہورہی ہے۔یہ پہلاموقع نہیں کہ پاکستان نے عالمی سطح پرثالثی کا کردار ادا کیا ہو۔ماضی میں بھی اسلام آبادنے بڑی طاقتوں کے درمیان پل کاکرداراداکیاتھا۔یہ روایت آج بھی زندہ ہےاور ایک نئے باب کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ پاکستان کی حکمت عملی مفاہمت اورتوازن پرمبنی ہےجواسےایک مؤثرثالث بناتی ہے۔ دنیاکی نظریں اسوقت اسلام آبادپرمرکوز ہیں۔یہ شہرایک ایسے اسٹیج میں تبدیل ہوچکاہے جہاں عالمی سیاست کے اہم کرداراپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ امریکاکی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی حمایت اس بات کاثبوت ہےکہ عالمی طاقتیں بھی اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کررہی ہیں۔ امریکاکااعتماد پاکستان کے لئےایک اہم سفارتی سرمایہ بن چکا ہے اورکبھی یہی کردارپاکستان نےدوحہ میں افغان امریکا مذاکرات میں بھی بڑی خوش اسلوبی سے ادا کیاتھا اس کےبعد مریکا کا فغانستان سے انخلاممکن ہواتھا۔
ہمیں یہاں بہت محتاط ہو کرآنے والے اقدامات کے لئے ایک واضح اور جامع پالیسی تیارکرنا ہو گی کہ ایک مرتبہ پھرصدرٹرمپ کی انتظامیہ کایہ اعتماداور انحصارپاکستان کے لئے کہیں کوئی نئی آزمائش نہ بن جائے۔پاکستان کی ممکنہ کامیابی کوسفارتی انقلاب قرار دینا دراصل اس کے کردارکی اہمیت کاجہاں اعتراف ہے وہاں دوحہ میں طالبان کے مذاکرات کے بعداب ہم جس صورتحال سے گزررہے ہیں،فیلڈمارشل عاصم منیر کا بطورثالث ابھرناپاکستان کی فیصلہ کن قیادت کا مظہر ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت پاکستان کی فیصلہ کن پالیسیوں کی عکاس ہے۔یہ قیادت نہ صرف داخلی سطح پرمضبوط ہےبلکہ عالمی سطح پر بھی اپنااثردکھارہی ہے۔ان کی سفارتی سرگرمیاں اورعالمی رہنمائوں سے روابط اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان محض ردعمل دینے والاملک نہیں بلکہ مشکل حالات کوتعمیراتی شکل دینے والا کردارادا کر رہاہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بھارت کی پالیسی ایک زمانے تک توازن اوراحتیاط کی مثال سمجھی جاتی تھی۔ایران،خلیجی ممالک اوراسرائیل کےساتھ اسکےتعلقات ایک نازک توازن پرقائم تھےمگر حالیہ برسوں میں مودی حکومت نےیہ توازن بری طرح بگاڑدیاہے ۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں میں واضح تبدیلی آئی ہےجواس کے لئے سفارتی چیلنجزپیدا کررہی ہے۔جہاں پہلے وہ توازن کی پالیسی اپناتاتھا، اب اس کاجھکائو ایک خاص سمت میں نظر آتا ہے۔یہ تبدیلی اس کے علاقائی تعلقات پراثر انداز ہو رہی ہے۔اسجھکائو کاایک خاص سمت میں ہونااسکی غیرجانبداری کو متاثرکررہاہےیعنی ایران پرحملوں کے بعد بھارت کا موقف اورجھکائو واضح طور پر امریکا اور اسرائیل کے حق میں نظر آتاہے۔اس یک طرفہ روئیے نے نہ صرف اس کی غیرجانبداری کومشکوک بنادیابلکہ اسے ایک فریق کے طورپرپیش کیاہے جس نے اس کے علاقائی تعلقات کوبھی متاثر کیا ہے۔ سفارت کاری میں توازن کھو دینا ایسے ہی ہےجیسےکشتی بان اپناقطب نماگم کردےپھرسمتیں دھندلاجاتی ہیں اورمنزل کھو جاتی ہے۔ایران پرحملوں کے بعد بھارت کامؤقف واضح طور پرامریکا اوراسرائیل کے حق میں نظرآتاہے۔اس یک طرفہ روئیے نے اس کی غیرجانبداری کو متاثر کیاہے۔ یہ جنگ ایک پیچیدہ صورتحال اختیارکرچکی ہےجس میں ہرقدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ ایران کی جنگ ایک پیچیدہ شطرنج ہے جس میں ہرچال سوچ سمجھ کرچلنی پڑتی ہے اورہرچال کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ اسرائیل، امریکا،ایران اوردیگر علاقائی طاقتیں اس کھیل کےاہم کردار ہیں۔ پاکستان اس کھیل میں ثالث کاکرداراداکر رہا ہے، جوسب سے مشکل مگرسب سے مؤثرکردارہوتا ہے۔ پاکستان کےاس سےعدم تعلق کےباعث ثالثی کاعمل مزید دشوار ہوجاتا ہے۔تاہم امریکا کی حمایت نے پاکستان کووہ اعتماد عطاکیاہے جو بڑے فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے۔ سفارت کاری میں توازن ہی کامیابی کی کنجی ہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست میں توازن ایک بنیادی اصول ہےجوممالک اس توازن کو برقراررکھتے ہیں،وہی دیرپااثرات چھوڑتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکمت عملی اسی اصول کی عکاس ہے۔ پاکستان کوجو اعتمادحاصل ہے،وہ اسکی سب سے بڑی قوت ہے۔امریکاکی حمایت اور ایران کے ساتھ تعلقات نے اسے ایک منفرد حیثیت دی ہے۔بھارت نے ابتداہی سے ایک واضح صف بندی اختیارکرلی ہے،اوراس بحران میں اس کاکردار محدوددکھائی دیتاہے۔خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی مفادات اور امریکاکے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات نےاسے ایک خاص سمت میں دھکیل دیاہے۔اس کے بیانات اوراقدامات اسی جھکاؤکی عکاسی کرتے ہیں۔امریکاکااس پرعدم اعتماد دراصل اسی خلاکی نشاندہی کرتا ہے ۔ یوں بھارت ایک خودمختار ثالث کی بجائے ایک تابعداراتحادی کے طور پرسامنے آتاہے۔اس کی پالیسیوں نے اسےایک ثالث کی بجائے اسے خطے کی ظالم قوت کافعال ساتھی بنادیاہے۔بھارت کے اندرونی حلقوں میں بڑھتی ہوئی تنقیداس امرکی غمازہےکہ اس کی خارجہ پالیسی اپنی سمت کھو بیٹھی ہے۔غزہ سے لے کرایران تک،اسکی کمزورآواز نے اس کے وقار کومتاثرکیاہے۔عالمی سیاست میں خاموشی اکثر بے وزنی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔بھارت کےاندرونی حلقوں میں ہونے والی تنقیداس بات کی نشاندہی کرتی ہےکہ اس کی خارجہ پالیسی پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایران جیسے قریبی ہمسائےکےمعاملے میں خاموشی یاجانبداری ایک بڑی سفارتی لغزش سمجھی جارہی ہے۔جب جنگ دروازے پردستک دے رہی ہوتوخاموشی بھی ایک کمزوری کی علامت اورایک بھیانک مکروہ جرم بن جاتی ہے۔ پاکستان اوربھارت کی قیادت کے اندازمیں واضح فرق نظرآتاہے۔اس خطے میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے۔ ایران کی مزاحمت،اسرائیل کی جارحیت اور امریکا کی مداخلت نے ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر دی ہے۔ خلیجی ممالک اس بحران میں اہم حیثیت اوران کے فیصلے مستقبل کومتاثرکرسکتے ہیں۔ان کے مفادات اور تعلقات اس تنازع کےنتائج پراثر انداز ہوسکتے ہیں۔یہ خطہ ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہاہےجہاں ہرطاقت اپناکرداراداکر رہی ہے۔یہ بحران عالمی سیاست میں ایک نئےباب کا آغاز کر سکتا ہے۔ طاقت کےتوازن میں تبدیلیاں اورنئے اتحاداس کے ممکنہ نتائج ہیں۔اگرپاکستان اپنی ثالثی میں کامیاب ہوتاہے تواس کاعالمی وقارغیرمعمولی حدتک بڑھ جائے گا۔یہ ایک تاریخی کامیابی ہوگی۔ایک کامیاب ثالثی نہ صرف جنگ کوختم کرسکتی ہے بلکہ مستقبل کے تنازعات کے لئے ایک مثال بھی قائم کرسکتی ہے۔یہ صورتحال بھارت کے لئےایک سبق بھی ہےکہ خارجہ پالیسی میں توازن اوربروقت فیصلے کتنے اہم ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں