(گزشتہ سے پیوستہ)
دینی مدارس ہی سے بہترین قرا،حفاظ،خطباء، آئمہ، مفتیان، مدرسین، محققین اور فقہی ماہرین تیار ہوتے ہیں۔یہ افراد مساجد، مدارس، جامعات، عدالتوں، میڈیا، فلاحی اداروں، اور معاشرتی اصلاحی تنظیموں میں رہنمائی کا کردارادا کرتے ہیں۔ مسلمان قوم اگر اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ دینی علوم کے ماہرین موجود رہیں اور یہ ضرورت صرف دینی مدارس ہی پوری کر سکتے ہیں۔کچھ حلقے مدارس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، یاسائنسدان بھی تیار کریں۔یہ مطالبہ ایسے ہی ہے جیسے کھیل کے میدان میں فٹ بال ٹیم سے کرکٹ جتانے کا مطالبہ کیا جائے۔مدرسے کا کام ڈاکٹر بنانا نہیں بلکہ ایمان و دین کی حفاظت کرنا ہے۔تاہم بہت سے مدارس میں آج کمپیوٹر انگلش، ریاضی، جدید تحقیق اور دیگر مضامین بھی پڑھائے جا رہے ہیں، مگر اصل مقصد دینی علوم کی حفاظت ہی ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں ریاست کے بعض اداروں کی پالیسیوں نے دینی مدارس کو اکثر مختلف عنوانات کے تحت تنگ کیا۔کبھی رجسٹریشن، کبھی فنڈنگ، کبھی غیرملکی طلبہ، کبھی نصاب ہرچند سال بعدایک نئی سختی سامنے آتی ہے۔ حالانکہ دینی مدارس کی قیادت نے ہمیشہ ہرحکومت کےساتھ تعاون کیااور ملک کی سلامتی و امن کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔ریاست کے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ مدارس کو شک کی نظر سے نہیں، بلکہ شراکت دار کی حیثیت سے دیکھیں، کیونکہ یہ ادارے حقیقی معنوں میں قوم سازی کر رہے ہیں۔
مدارس کے مثبت کردار کے حوالے سے مخالفین جس ذہنی انتشار کا شکار ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہے وہ حلقے جو مساجد کی اذانوں تک پر اعتراض کرتے ہیں، یا جنہیں مذہب سے خدا واسطے کا بیر ہے، وہی مدارس کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ان کے دلائل میں وزن نہیں ہے۔مدارس کے خلاف بعض الزامات غیر ملکی لابیوں،فکری غلامی، اور بیرونی دبائو کا نتیجہ ہیں، جنہیں وہی لوگ تقویت دیتے ہیں جو مغربی اداروں کے مفادات کے تابع ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ مدارس نےکبھی قومی خزانہ نہیں لوٹا،کبھی قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد کے نام پر قرضےنہیں ہڑپ کئے،کبھی بدعنوانی یاکرپشن کا بوجھ نہیں ڈالا،ہمیشہ امن، اخلاق اور خدمتِ خلق کی تعلیم دی،یہ کردار کسی مفروضے یا پروپیگنڈے سے چھپایا نہیں جا سکتا۔اگر پاکستان سے دینی مدارس ختم کر دئیےجائیں تو مساجد خالی ہو جائیں، قرآن پڑھانے والے کہاں سے آئیں گے، دینی رہنمائی کا خلا پیدا ہو جائے’اخلاقی تربیت کا نظام ٹوٹ جائے، مذہبی شناخت کمزور پڑ جائے، سماجی طبقات مزید محرومی کا شکار ہو جائیں، مدارس وہ چراغ ہیں جن سے قوم کا ایمان، اخلاق اور ثقافتی شناخت روشن رہتی ہے۔ہر باشعور ریاست یہ سمجھتی ہے کہ دینی و اخلاقی تعلیم کے بغیر قوم مکمل نہیں ہوتی۔اس لئے ضروری ہے کہ مدارس کو آسانیاں دی جائیں۔ نصاب میں تعمیری مشاورت کی جائے، اعتماد کا ماحول فراہم کیا جائے، بلاوجہ کی پابندیوں سے گریزکیاجائے اور انہیں ترقی کے مواقع دئیے جائیں یہ رویہ نہ صرف دینی طور پر درست ہے بلکہ معاشرتی استحکام کے لئے بھی ضروری ہے۔دینی مدارس پاکستان کے روحانی،اخلاقی اورعلمی قلعے ہیں۔یہ ادارے صرف علم نہیں دیتے بلکہ کردار،خدمت، ایمان،تقوی اورتہذیب بھی دیتے ہیں۔ریاست اور معاشرہ اگر ترقی، امن اور اخلاقی استحکام چاہتے ہیں تو دینی مدارس کے ساتھ تعاون، احترام اوراعتماد پر مبنی تعلق اختیار کرنا ہوگا۔مدارس کی اہمیت وقت کے ساتھ کم نہیں ہوئی بلکہ جدید دور کے اخلاقی اور فکری چیلنجوں کے مقابلے میں مزید بڑھ گئی ہے۔یہ دینی ادارے پاکستان کے دینی تشخص کے محافظ ہیں اور ان کی مضبوطی صرف قوم کے مستقبل کی مضبوطی ہی نہیں، بلکہ دو قومی نظریہ کی اور ملک کی بھی مضبوطی ہے۔