یہ داستان محض سیاست کے خشک اوربے روح ابواب میں سے ایک باب نہیں،بلکہ یہ انسانیت کے سینے پرلکھی ہوئی وہ دردناک تحریر ہے جس کے ہرلفظ سے بارودکی بو اور ہر سطرسے آہوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ معاملہ دوریاستوں کے درمیان کشمکش کا نہیں بلکہ اس عالمی ضمیرکاامتحان ہےجوصدیوں کی تہذیب،مذہب،اخلاق اور انسان دوستی کے دعوؤں کے باوجود آج بھی طاقت کے بت کے سامنے سجدہ ریزدکھائی دیتاہے۔
عصرِحاضرکی دنیابظاہرترقی،علم اورٹیکنالوجی کے بامِ عروج پرکھڑی ہے،مگرباطن میں وہی قدیم درندگی،وہی ہوسِ اقتداراوروہی خون آشام مفادات آج بھی زندہ ہیں۔طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے وہ عناصر،جواپنےمفادات کی شمع کوروشن رکھنےکےلئے پوری انسانیت کواندھیروں میں دھکیلنے سے بھی گریزنہیں کرتے،دراصل اسی المیے کے معمارہیں۔ یہ وہ قوتیں ہیں جوامن کے نام پرجنگ کی تجارت کرتی ہیں اور انسانیت کے نام پرانسانوں کے لہوسے اپنے ایوانوں کی بنیادیں مضبوط کرتی ہیں۔یہی وہ پس منظرہے جس میں یہ تنازع ایک معمولی سفارتی اختلاف سے بڑھ کرایک عالمی سانحہ بن جاتاہے۔یہاں ہرفیصلہ صرف سیاسی نہیں،بلکہ انسانی تقدیروں کافیصلہ بن جاتا ہے۔ایک طرف طاقت کاغرور ہے، تو دوسری جانب بقاکی جدوجہد،ایک طرف مفادات کا اندھاکھیل ہے،تو دوسری جانب انسانیت کی سسکتی ہوئی آواز۔
یہ وہ لمحہ فکریہ ہےجہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ آیاہم جنگ کے اس اندھے طوفان کاحصہ بنیں گے یاامن کی اس شمع کوروشن کریں گے جواندھیروں کے سینے کو چیر کر روشنی کی نویددیتی ہےکیونکہ تاریخ گواہ ہےکہ جب بھی انسان نے تلوارکودلیل پرترجیح دی تواس کے ہاتھ میں فتح نہیں بلکہ اپنے ہی وجودکی شکست آئی۔ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان نہیں بلکہ عہدِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست کے اس پیچیدہ شطرنج کا نقشہ ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہے۔یہ معاملہ محض دوریاستوں کے درمیان اختلافات کانہیں اورنہ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان ہےبلکہ عصر ِحاضرکی عالمی سیاست کے اس پیچیدہ شطرنج کا نقشہ اوراس پیچیدہ باب کاعنوان ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہےجس میں طاقت ،نظریہ، مفاد اورخوف چاروں عناصرایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکےہیں کہ ان کی تفریق محال نظرآتی ہے۔
امریکااورایران کےتعلقات کی داستان ایک ایسے آئینےکی مانندہےجس میں بدگمانی کی دھند ہمیشہ چھائی رہتی ہے۔اس وقت امریکااور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات ایسے موجود ہیں جوکامیابی کی صلیب پردنیاکیامن کوللکاررہے ہیں۔پہلا، ایرانی جوہری پروگرام کے متعلق ہے، یہ وہ عقدہ ہے جومدتوں سے کھلنے کانام نہیں لیتا؛یہ وہ بنیادی نکتہ نزاع ہےجس نے دہائیوں سے دونوں ممالک کوآمنے سامنے لاکھڑا کیاہے۔امریکاکے نزدیک ایران کاجوہری پروگرام ایک ممکنہ خطرہ ہےجبکہ ایران اسےاپنی قومی خودمختاری اورسائنسی ترقی کاحق سمجھتا ہے۔ گویاایک کے نزدیک یہ خطرہ ہے دوسرے کے نزدیک جائزحق اوروقارکامسئلہ ہے۔دوسرا،علاقائی اثرورسوخ ہے،ایران کا محورِ مزاحمت اًمریکا واسرائیل کےلئے ’’خارِراہ‘‘ ہے۔ ایران نےمشرقِ وسطی میں اپنےاتحادیوں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے ایک ایسا جغرافیائی دائرہ قائم کیاہےجسے وہ مزاحمت کامحورکہتا ہے۔امریکااوراس کے اتحادی اسےعدم استحکام کا سبب سمجھتے ہیں۔یوں یہ اختلاف صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے۔ تیسرا،پابندیوں اورمعاشی دبائوکاہے،امریکاکی اقتصادی پابندیوں کی تلوار،ایران کی گردن پر ہمیشہ معلق رہی ہے۔امریکاکی عائدکردہ پابندیاں ایران کی معیشت کومسلسل دباؤ میں رکھتی ہیں۔ایران ان پابندیوں کواقتصادی جنگ قراردیتاہےجبکہ امریکا انہیں دباؤ کا سفارتی ہتھیارسمجھتاہے۔ چوتھا، آبنائے ہرمزکاتنازع ہے،یہ محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ایران اس پر اپنی خودمختاری کادعویٰ کرتا ہےجبکہ امریکااسےبین الاقوامی پانی قراردیتاہے۔اس اختلاف میں عالمی معیشت کی دھڑکن شامل ہےاور پانچواں، اعتماد کا شدیدفقدان ہے،سب سے بڑامسئلہ شایدیہی ہے کہ دونوں کے درمیان اعتمادکارشتہ ناپید ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان بدگمانی کی دیواریں اس قدربلند ہیں کہ مکالمہ بھی سر ٹکراتا محسوس ہوتا ہے۔ ہرمعاہدہ شک کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اور ہر بیان کے پیچھے نیت پرسوال اٹھایاجاتاہے۔
اسلام آبادکی سرزمین پرہونے والے مذاکرات بظاہرایک نئی صبح کی امیدتھے،گویااس چراغ کی مانندتھے جسے آندھی کے بیچ روشن کرنےکی سعی کی گئی ہو مگر درحقیقت یہ ایک ایسے سفرکاآغازتھاجس کی منزل خوددھندمیں لپٹی ہوئی تھی۔ابتداہی سے یہ امرروزِ روشن کی طرح عیاں تھاکہ دونوں اطراف کے مابین ایسے بنیادی اختلافات کے پہاڑحائل ہیں جو نہ محض سفارتی مسکراہٹوں سےحل ہوسکتےہیں اورنہ ہی الفاظ کے پل سے عبورکیا جا سکتاہے۔یہ مذاکرات ایک ایسے دریا پرپل بنانے کی کوشش تھے جس کے دونوں کنارے نہ صرف دورتھے بلکہ درمیان میں طوفانی اورسرکش شیطانی موجیں بھی سر اٹھائے کھڑی تھیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کابیان اس حقیقت کاآئینہ دارہےکہ مذاکرات مکمل ناکام نہیں تھے،مگرچندبنیادی نکات ایسےتھےجو ’’گرہِ کور‘‘بنے رہے اورکامیابی سے بھی کوسوں دوررہےلیکن ایرانی ترجمان کے بیان سے یہ حقیقت بھی مترشح ہوتی ہے کہ اگرچہ کئی امورپرمفاہمت کی کرن پھوٹی مگر دویاتین اہم نکات ایسےتھےجو ’’گرہِ ناگشودہ ‘‘بنےرہے۔ آبنائے ہرمزجیسے نئےموضوعات نےاس پیچیدگی میں مزیدتہہ درتہہ اضافہ کیا، ہر موضوع اپنے اندر ایک نئی الجھن لئےہوئےتھا،گویاایک مسئلہ حل کرنےکےلئےکئی نئے مسائل کو جنم دیاجارہاہو۔ یوں یہ مذاکرات منزل سے پہلے ہی تھک کربیٹھ گئے۔
ایران کاجوہری پروگرام اس تنازع کامرکزی ستون ہے۔یہ تنازع گویاایک ایسی پرانی داستان ہےجس کےاوراق بوسیدہ ضرورہوچکے ہیں مگراسکی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ امریکاکامؤقف ہےکہ ایران اس پروگرام کی آڑمیں جوہری ہتھیاربنانےکی صلاحیت حاصل کرنا چاہتاہے۔(جاری ہے)