Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سفارت کی میز، جنگ کا سایہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکاکے نزدیک یہ خطرے کی گھنٹی ہےجبکہ ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسےمحض پرامن مقاصد کے لئے قرار دیتا ہے اورایران اسےاپنی خودمختاری کااستعارہ سمجھتا ہے۔ یہ اختلاف دراصل طاقت اورخوف کے درمیان ایک کشمکش ہے،امریکا کاخوف اورایران کی طاقت کی خواہش۔ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے بیان میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھا،ہمیں الفاظ نہیں،یقین چاہیے۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران سے ایسی ٹھوس یقین دہانی حاصل کرناہے جومحض الفاظ تک محدود نہ ہو۔ان کے مطابق مذاکرات کی روح یہی تھی کہ ایران کونہ صرف جوہری ہتھیاربنانے سے بازرہنا ہوگا بلکہ اس کےلئےدرکارتمام وسائل اور صلاحیتوں سےبھی دستبردارہوناہوگابلکہ اس سمت جانےوالےتمام راستے بھی مسدودکرنے کی تحریری یقین دہانی کرواناہوگی۔یہ مطالبہ دراصل عدم اعتمادکی بنیادپرکھڑاہے، امریکا کو ایران کے وعدوں پریقین نہیں اوروہ عملی اقدامات کا خواہاں ہے مگربقول ان کے، یہ آمادگی ابھی افق پر نمودار نہیں ہوئی۔
ایران اپنے مؤقف پرکوہِ گراں کی مانند قائم ہےکہ جوہری عدم پھیلاؤکےمعاہدے کے تحت اسے پرامن مقاصد کے لئےیورینیم افزودہ کرنےکاپوراحق حاصل ہے۔ایران اپنے مؤقف میں یہ دلیل پیش کرتاہے کہ وہ جوہری عدم پھیلائوکے معاہدے کادستخط کنندہ ہےلہذااسے پرامن مقاصدکے لئےیورینیم افزودہ کرنےکاحق حاصل ہے۔اسکی دس نکاتی تجویز اسی اصول کی بین الاقوامی توثیق کی طلب گارہےگویاوہ اپنے حق کوسندِ جوازدلواناچاہتاہے،جس میں وہ عالمی سطح پراپنےاس حق کی تسلیم شدگی کاحق دارہے۔یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایران کی قومی خودمختاری اور وقار کا سوال ہے۔امریکی خاکہ اس کے برعکس ایک انتہائی مطالبہ پیش کرتاہے،امریکاکے15نکاتی منصوبے میں ایران سے یہ مطالبہ کیاگیا ہےکہ وہ اپنی سرزمین پرہرقسم کی یورینیم افزودگی مکمل طورپرختم کرے۔ یہ مطالبہ ایران کے لئے ناقابلِ قبول ہےاوریہ ایسامطالبہ ہےجوایران کے لئے اپنی ملکی اورسائنسی خودمختاری سے دستبرداری کے مترادف ہے۔اوریہی وہ مقام ہےجہاں مفاہمت کی راہیں مسدودہوجاتی ہیں۔ یوں یہ اختلاف ایک ایسی لکیربن جاتاہے جسے عبورکرنا دونوں کے لئے مشکل ہے۔
مشترکہ جامع منصوبہ عمل(جوائنٹ کمپری ہینسوپلان آف ایکشن)ایران جوہری معاہدے کا باقاعدہ نام ہے۔یہ2015ء میں (امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس،علاوہ جرمنی)اور یورپی یونین اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہواتھا،جواقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کومحدود کرنے کے لئے ڈیزائن کیاگیاتھا۔ایک زمانے میں امیدکی کرن تھا،یہ ایک ایسامعاہدہ تھاجس نے ایک وقت میں امیدکی نئی راہیں کھولی تھیں جسے طویل سفارتی ریاضت کے بعدحاصل کیاگیامگرآج وہ ایک ایسی داستانِ نیم تمام معلوم ہوتاہے جسے وقت کی گردنے دھندلادیا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ معاہدہ اپنی افادیت کھوبیٹھاہے اورآج یہ ایک ادھوری کہانی کی مانندمحسوس ہوتاہوا ایک ایساباب جو مکمل ہونے سے پہلے ہی بندہوگیا۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں ان مذاکرات پرایک ایسے گہرے سائے کی مانندچھائی رہیں جیسے بادل سورج کی روشنی کومدہم کر دیتے ہیں۔ایران کے اتحادی گروہ، خصوصاًحزب اللہ،اس تنازع کااہم حصہ ہیں۔ ایرانی صدرمسعود پزشکیان کی تنبیہ اس امرکی غماز تھی کہ میدانِ جنگ کی گونج،میزِ مذاکرات کی آواز کودبا سکتی ہے۔اگریہ کارروائیاں جاری رہیں تومذاکرات کی حیثیت محض رسمی رہ جائے گی۔
جنگ بندی کااعلان بظاہرایک مثبت قدم تھا، مگراس کی پائیداری مشکوک رہی۔اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری کارروائیوں نے اس معاہدے کوکمزورکردیا۔یہ صورتحال اس حقیقت کوظاہرکرتی ہے کہ میدانِ جنگ کی حقیقتیں اکثرسفارتی معاہدوں کوبے معنی بنادیتی ہیں۔ اسلام آبادسے امریکی وفدکی روانگی کے فوراًبعد جنوبی لبنان میں حملوں کی خبریں اس حقیقت کااعلان تھیں کہ جنگ بندی محض کاغذی معاہدہ بھی ہوسکتی ہے۔گویا لفظوں کے قلعے،بارود کی ایک چنگاری سے مسمارہوجاتے ہیں۔
آبنائے ہرمزایک ایسی گزرگاہ ہے جس سے دنیاکی ایک بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔یہ گزرگاہ محض جغرافیہ نہیں،بلکہ عالمی معیشت کی نبض ہے۔ایران کا اس پرکنٹرول جہاں عالمی سطح پرتشویش کا باعث ہے وہاں ایران کااس پرسخت کنٹرول اور جہازوں سے محصولات وصول کرنا مریکا کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ امریکاکامؤقف ہے کہ یہ بین الاقوامی پانی ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کا حصہ قراردیتاہے۔یہ تنازع دراصل جغرافیہ اورمعیشت کے ملاپ کانتیجہ ہے،یہاں مفاداوراختیارکی کشمکش اپنے عروج پرہے۔ ایران آبنائے ہرمزکو اپنے پانی قراردے کرجہاں ایک نئی قانونی وسیاسی بساط بچھاناچاہتاہے وہاں آبنائے ہرمزپراپنی گرفت کومضبوط کرتے ہوئے اسے باضابطہ شکل دیناچاہتاہے۔یہ قدم دراصل اس کی اس خواہش کااظہارہے کہ وہ خطے میں اپنی بالادستی کوباضابطہ شکل دے۔وہ نئے قواعدوضوابط متعارف کروانے کی بات کررہاہے تاکہ اس گزرگاہ پراس کاکنٹرول مزیدمستحکم ہوسکے۔یہ قدم اس کی علاقائی حکمت عملی کاحصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی پوزیشن کومضبوط بناناچاہتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں