Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹی وی چینلز، بے حیائی اور اخلاق باختگی کے اڈے

(گزشتہ سےپیوستہ)
ناقدین کے مطابق یہ پروگرام بے حیائی و فحاشی اور لچر پن کو پروان چڑھانے میں صف اول کا رول ادا کر رہے ہیں ، معاشرتی اقدار کو مضبوط کرنے کی بجائے ایک مصنوعی اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے معاشرتی حساسیت کو نظر انداز کرنا درست ہے؟پاکستانی ڈرامہ کبھی دنیا بھر میں اپنی حقیقت پسندی، سادگی اور مضبوط کہانیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا۔ ماضی کے ڈرامے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے اور مثبت پیغام دیتے تھے، مگر حالیہ برسوں میں اس صنعت کا رخ کافی حد تک تبدیل ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب اکثر ڈراموں میں خاندانی سازشیں، غیر حقیقی رشتے اور منفی کرداروں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ بہن، بھائی خاوند ،بیوی،باپ بیٹی کے مقدس اور محترم رشتوں کو بھی بری طرح پامال کیا جا رہا ہے،جس سے معاشرے میں بداعتمادی، حسد،زنا اور غیر ضروری مقابلہ بازی جیسے رجحانات کو تقویت مل رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میڈیا صرف تفریح فراہم نہیں کرتا بلکہ سوچ اور رویوں کو تشکیل بھی دیتا ہے۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس کی بنیاد مذہبی اور ثقافتی اقدار پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میڈیا کے مواد کو ان اقدار سے متصادم سمجھا جاتا ہے تو ردعمل سامنے آتا ہے۔ ناقدین کا مقف ہے کہ غیر اسلامی اور غیر شرعی قانون سازی کے بعد میڈیا کے ذریعے معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ اقدامات ملک کو’’سیکولر‘‘ بنانے کی ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیے جاتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ثقافتی شناخت ہر قوم کے لیے حساس معاملہ ہوتی ہے۔اس تمام بحث میں سب سے اہم سوال نگران حکومتی اداروں کی کارکردگی کا ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کی ذمہ داری ’’پیمر‘‘کے پاس ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب حکمرانوں کے خلاف بیانات پر فوری نوٹس لیا جا سکتا ہے تو معاشرتی اقدار سے متعلق شکایات پر خاموشی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ کیا پیمرا کی ترجیحات میں توازن کی کمی ہے اور کیا سنسرشپ کے موجودہ قوانین موثر نہیں رہے؟ یہ سوالات عوامی سطح پر بھی زیرِ بحث ہیں۔پاکستانی معاشرے کی بنیاد خاندانی نظام پر قائم ہے۔ یہاں خاندان صرف رشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تربیت، اقدار اور روایت کا مرکز ہوتا ہے۔ جب خاندان کے افراد اکٹھے بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کریں تو یہ ایک سنجیدہ اشارہ ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اب بچوں کے ساتھ بیٹھ کر پروگرام دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور یہ احساس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میڈیا مواد کے معیار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ ’’جدیدیت‘‘اور ’’بے راہ روی‘‘میں فرق کہاں ختم ہو جاتا ہے؟ کیا ہم اپنی ثقافت اور مذہبی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے جدید میڈیا تخلیق نہیں کر سکتے؟ یقینا کر سکتے ہیں اور ماضی میں ہم یہ کر بھی چکے ہیں۔تنقید اپنی جگہ، مگر اصل سوال حل کا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے میڈیا پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، مواد کے معیار کے لیے واضح اور موثر رہنما اصول مرتب کئے جائیں، پیمرا کی فعال نگرانی کو یقینی بنایا جائے، شکایات پر فوری اور شفاف کارروائی کی جائے، مثبت مواد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایسے پروگراموں کو فروغ دیا جائے جو معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں۔ ساتھ ہی میڈیا، علما، دانشوروں اور عوام کے درمیان کھلا مکالمہ ضروری ہے۔موجودہ صورتحال واقعی کسی بھی مہذب معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں حکومت، نگران ادارے، میڈیا مالکان اور عوام سب شامل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادی اظہار اور معاشرتی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ اگر ہم نے یہ توازن برقرار نہ رکھا تو آنے والی نسلوں کی فکری اور اخلاقی تربیت متاثر ہو سکتی ہے۔اس خاکسار نے یہ بحث دراصل ایک بہتر اور ذمہ دار میڈیا کے حق میں چھیڑی ہے، ایسا میڈیا جو تفریح بھی فراہم کرے، معلومات بھی دے اور معاشرے کی اقدار کا محافظ بھی بنے۔مزید برآں، یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا ہاسز اپنے اندرونی احتساب کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ ادارتی بورڈز اور پروڈیوسرز کو صرف ریٹنگ یا اشتہارات کے دبا پر فیصلے کرنے کے بجائے اس بات کو مقدم رکھنا چاہیے کہ ان کے پروگرام معاشرے پر کس قسم کے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ صحافت اور نشریات کے شعبے سے وابستہ افراد کی تربیت میں اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسل کے میڈیا پروفیشنلز ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے سکیں۔اسی طرح والدین اور تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اگر گھروں اورسکولوں میں بچوں کو میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوئوں کے بارے میں آگاہی دی جائے تو وہ بہتر انتخاب کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ میڈیا لٹریسی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ ناظرین صرف دیکھنے والے نہ رہیں بلکہ سمجھنے اور پرکھنے والے بھی بنیں۔حکومت، میڈیا اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ جب تک تمام فریق ایک دوسرے کو مخالف کے بجائے شراکت دار سمجھ کر آگے نہیں بڑھیں گے، اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ ایک صحت مند اور متوازن ’’میڈیا‘‘ہی ایک مضبوط، باشعور اور متحد معاشرے کی ضمانت بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں