(گزشتہ سے پیوستہ)
ان اصول کے دائرہ میں اس علم کا ارتقا جاری رہتا ہے لیکن اس کے بنیادی اصولوں کو نہ کبھی چیلنج کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں جامد قرار دے کر تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر علم صرف کو سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ اس کے اصول اور بنیادی قوانین انسانوں نے ہی وضع کیے ہیں اور ماضی، مضارع، فاعل، امر، نہی اور ظرف وغیرہ کے صیغوں کی تشکیل اور دیگر ضوابط ایک دور میں صرف کے اماموں نے طے کیے ہیں، ان میں جزوی ترمیمات وتوضیحات ہر دور میں ہوتی رہی ہیں لیکن بنیادی قواعد کا ڈھانچہ وہی چلا آ رہا ہے جو اس کے ابتدائی ائمہ نے طے کر دیا تھا۔ اسے نہ تو کسی بھی دور میں چیلنج کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ سوال اٹھانا عقل مندی کی بات ہوگی کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کے لوگوں کو قواعد وضوابط بنانے کا حق تھا تو آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ حق ہمیں کیوں حاصل نہیں ہے؟ ہم ان قواعد وضوابط میں اضافہ کر سکتے ہیں، ان کی ضرورت کے مطابق نئی تشریحات کر سکتے ہیں لیکن اس کے بنیادی ڈھانچہ کی نفی نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کی نسبت تبدیل کر سکتے ہیں کہ یہ اعزاز تقدیر وتاریخ میں جن کے لیے طے تھا، ان کو مل چکا ہے اور اب قیامت تک ان سے یہ کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا۔
۳- علما، دور جدید اور اجتہاد
آج کل عام طور پر ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ علماء کرام نے ’’اجتہاد‘‘ کا دروازہ بند کر دیا ہے اور جمود کو امت پر مسلسل مسلط کر رکھا ہے جس کی وجہ سے امت پر ترقی کے دروازے مسدود ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس مرحلہ پر اس سوال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے لیا جائے تو مناسب بات ہوگی۔
جہاں تک اجتہاد کے بنیادی اصول وضوابط کے تعین کی بات ہے، اس کا دروازہ تو ابتدائی تین صدیوں کے بعد سے اس لحاظ سے بند ہے کہ اس کے بعد اجتہاد کا عمل انہی دائروں میں ہوتا آ رہا ہے جو مسلمہ فقہی مکاتب فکر نے طے کر دیے تھے اور یہ دروازہ کسی کے بند کرنے سے بند نہیں ہوا بلکہ ضرورت پوری ہو جانے کے بعد فطری طور پر خود بخود بند ہو گیا ہے جیسا کہ کسی بھی علم کا فطری پراسیس ہوتا ہے، البتہ مسلمہ فقہی مکاتب فکر کے متعین کردہ اصولوں کے دائرہ میں اجتہاد کا معاملہ قدرے تفصیل طلب ہے۔ ہمارے خیال میں جو فقہ جس دور میں بھی کسی اسلامی مملکت کا قانون رہی ہے، اس میں وقت کی رفتار اور ضرورت کے مطابق اجتہاد کا عمل بھی جاری رہا ہے۔ اس اجتہاد میں نئے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پرانے فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی کا عمل بھی شامل ہے۔ خلافت عثمانیہ اور جنوبی ایشیا کی مغل حکومت دونوں کا قانون فقہ حنفی پر مبنی تھا۔ خلافت عثمانیہ میں ’’مجلۃ الاحکام العدلیہ‘‘ کی تدوین اور مغل حکومت میں ’’فتاویٰ عالم گیری‘‘ کی ترتیب کے کام پر نظر ڈال لیجیے، آپ کو سابقہ فقہی فتاویٰ پر نظر ثانی اور نئے مسائل کے حل کی اجتہادی کاوشیں دونوں جگہ یکساں دکھائی دیں گی۔ موجودہ دور میں سعودی عرب میں حنبلی فقہ کی عمل داری ہے، آپ اس کا جائزہ لیں گے تو سعودی قضاۃ کے فیصلوں میں آپ کو حنبلی فقہ اب سے دو سو برس قبل کی جزئیات کی شکل میں نہیں بلکہ آج کی ضروریات اور تقاضوں کے حوالے سے جدید اجتہادات کی روشنی میں آگے بڑھتی نظر آئے گی۔ اسی طرح اہل تشیع نے ایران میں فقہ جعفری کو ملکی قانون کا درجہ دیا ہے تو یقیناًانہوں نے صدیوں پہلی کتابیں اٹھا کر انہیں عدالتی قانون کی حیثیت نہیں دے دی بلکہ آج کے حالات اور تقاضوں کے مطابق انہیں جدید اجتہادات کے ساتھ جدید قانونی زبان اور اصطلاحات کے ذریعہ نافذ العمل بنایا ہے۔
یہ فقہی مذاہب کے اس کردار کی بات ہے جو انہوں نے مختلف ممالک میں سرکاری مذاہب کے طور پر ادا کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اس سے ہٹ کر پرائیویٹ سیکٹر میں دیکھ لیجیے۔ ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں مغل اقتدار کے خاتمہ کے بعد اجتہاد اور افتا کا یہ عمل عدالت اور سرکار کے دائرہ سے نکل کر عوامی حلقوں میں آ گیا تھا۔ اس خطے میں گزشتہ دو صدیوں کے دوران سینکڑوں دار الافتا قائم ہوئے ہیں جو اب بھی کام کر رہے ہیں اور ان میں سے بیسیوں کو علمی وعوامی حلقوں میں اس درجہ کا اعتماد حاصل ہے کہ دینی معاملات میں ان کی بات کو حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بلا مبالغہ لاکھوں فتاویٰ جاری کیے ہیں جو کئی ضخیم کتابوں کی صورت میں مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اگر اہل علم کی کوئی ٹیم اس کام کے لیے مقرر کی جائے کہ وہ ان فتاویٰ کا جائزہ لے کر یہ تجزیہ کرے کہ ان میں کتنے فتوے ایسے ہیں جن میں ان مفتیان کرام نے اجتہادی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں جدید مسائل کے نئے حل پیش کیے ہیں تو ہمارے محتاط اندازے کے مطابق ان کا تناسب مجموعی فتاویٰ کے بیس فی صد سے کسی طرح کم نہیں ہوگا۔ آپ ان کے فتاویٰ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ انہوں نے نئے مسائل کا سامنا کیا، ان کے حل کے لیے اجتہاد کا عمل اختیار کیا اور جدید مسائل میں مسلمانوں کی راہ نمائی کی ہے۔
ہم تھوڑا سا اور آگے بڑھ کر ایک دو حوالے اور دینا چاہیں گے۔ ایک یہ کہ پاکستان بننے کے بعد جب یہ سوال اٹھا کہ اسلامی نظام کا نفاذ کس مذہبی فرقہ کی تشریحات کے مطابق ہوگا تو تمام مذہبی مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام جمع ہوئے۔ علامہ سید سلیما ن ندویؒ کی سربراہی میں انہوں نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات طے کر کے واضح کر دیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالہ سے مذہبی مکاتب فکر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان دستوری نکات کو مذہبی مکاتب فکر کے اتحاد اور اتفاق کے مظہر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ بات درست ہے، لیکن ہمارے نزدیک تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات اتحاد امت کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم اور حساس ملی معاملات میں اجتہادی عمل کے آئینہ دار بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ایک نکتہ اجتہادی عمل کی عکاسی کرتا ہے اور ان سرکردہ علماء کرام کی اجتہادی صلاحیتوں کی علامت ہے۔ مثال کے طور پر ان علماء کرام نے متفقہ طور پر طے کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں حکومت کی تشکیل عوام کے ووٹوں سے ہوگی اور منتخب قیادت ہی ملک پر حکمرانی کی اہل ہوگی۔ ہمارے خیال میں یہ اتنا بڑا اجتہادی فیصلہ ہے جسے خلافت عثمانیہ اور مغل حکومت کے صدیوں سے چلے آنے والے خاندانی سیاسی ڈھانچوں کے تناظر میں گزشتہ صدی کے دوران علماء کرام کا سب سے بڑا اجتہادی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک اور بات پر غور کر لیا جائے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد علماء کرام نے ۲۲ دستوری نکات میں وحدانی طرز حکومت کو ملک کے لیے موزوں قرار دیا تھا لیکن جب ۷۳ء کے دستور کی تشکیل کے دوران انہوں نے حالات کا تقاضا دیکھا تو وحدانی طرز حکومت کے بجائے وفاقی پارلیمانی نظام کی طرف منتقل ہوتے ہوئے کوئی سوال اور اشکال کھڑا نہیں کیا بلکہ اسلام کو ملک کا ریاستی مذہب قرار دلواتے ہوئے وفاقی پارلیمانی نظام کو اس کے سسٹم کے طور پر قبول کر لیا۔ اسے اگر اجتہادی عمل تسلیم نہ کیا جائے تو یہ نہ صرف ان علماء کرام کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ خود اجتہاد کے مفہوم ومعنی سے بھی ناواقفیت کا اظہار ہوگا۔
تھوڑا سا اور آگے بڑھیں تو ایک اور منظر آپ کے سامنے آپ کی توجہ کا طلب گار ہے اور وہ ۷۳ء کے دستور کے تحت قائم ہونے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ ہے جو اس نے ملکی قوانین کا جائزہ لے کر قرآن وسنت کی روشنی میں ان میں ضروری ترامیم کے لیے مرتب کی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملکی قوانین کا جائزہ لیا ہے، ان پر نظر ثانی کی ہے، قرآن وسنت کے اصولوں کو دیکھا ہے، حالات کے تقاضوں اور ضروریات کو جانچا ہے اور ملکی اور عالمی سطح پر سرکردہ ارباب دانش کی مشاورت سے تمام مروجہ قوانین کے حوالے سے اپنی سفارشات ترتیب دی ہیں۔
(جاری ہے)