Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

حاسدین کی آگ اور مولانا فضل الرحمن کی پرواز

پاکستان کی سیاست میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو محض سیاسی شخصیات نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل سیاسی حقیقت بن جاتے ہیں۔ وقت بدلتا رہتا ہے، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، اتحاد بنتے اور بکھرتے رہتے ہیں مگر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو ہر موسم میں اپنی جگہ قائم رکھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن انہی شخصیات میں شامل ہیں جن کے بغیر ملکی سیاست کی تصویر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں چین کے سفیر کی ملاقات، امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن کی حاضری اور پھر ایرانی سفیر کا وفد کے ساتھ مولانا کے گھر پہنچ جانا محض سفارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں بعض دروازے ایسے ہیں جو رسمی ایوانوں کے بجائے سیاسی وزن رکھنے والے رہنماں کے گھروں سے کھلتے ہیں۔یہ ایک دلچسپ ،مگر حقیقت پر مبنی منظر ہے کہ قومی سیاست کے بعد اب عالمی سیاست بھی مولانا فضل الرحمن کے روشن سیاسی چراغ سے اپنا چراغ جلانے کی جستجو میں ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں سے سیاسی ہوا کے رخ کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے اور بعض اوقات اس رخ کو تبدیل بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بہت سے رہنما آئے اور گئے مگر مولانا نے ثابت کیا کہ سیاست صرف اقتدار میں آنے کا نام نہیں بلکہ مسلسل اثر و رسوخ قائم رکھنے کا فن بھی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاست کی سب سے بڑی طاقت ان کی مستقل مزاجی ہے، وہ نہ وقتی جوش کے اسیر ہیں اور نہ وقتی مایوسی کے شکار، وہ جانتے ہیں کہ سیاست ایک طویل دوڑ ہے اور اس دوڑ میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو رفتار کے ساتھ ساتھ سمت کا بھی خیال رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومت میں، ان کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ ان کی جماعت جمعیت علماء اسلام پاکستان پارلیمنٹ میں عددی لحاظ سے کبھی بہت بڑی قوت نہیں رہی، مگر سیاسی وزن کے پلڑے میں اس کی اہمیت اکثر فیصلہ کن رہی ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی بحران پیدا ہوا، مولانا فضل الرحمن کا کردار نمایاں ہو گیا۔ وہ کبھی ثالث بن کر سامنے آئے، کبھی اپوزیشن کی قیادت کرتے دکھائی دیے اور کبھی حکومتی اتحاد کا حصہ بن کر نظام کو سہارا دیتے رہے۔ یہی سیاسی لچک دراصل ان کی طاقت ہے۔ ان کے مخالفین اسے موقع پرستی کہتے ہیں، مگر ان کے حامی اسے سیاسی بصیرت قرار دیتے ہیں۔مولانا کی سیاست کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ طاقت کے مراکز کو سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ سیاست صرف جلسوں اور نعروں سے نہیں چلتی، بلکہ اس کے پیچھے مفاہمت، حکمت اور وقت کی پہچان ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی نکتے پر بگڑ جائیں تو حکومت کو بھی ان کے دربار تک آنا پڑتا ہے اور جب وہ مفاہمت کی بات کریں تو اپوزیشن بھی ان کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔احتجاج کی سیاست میں بھی مولانا کا انداز منفرد رہا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ احتجاج محض سڑکوں پر نکلنے کا نام نہیں، بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کی احتجاجی کال کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلے نہیں کرتے، بلکہ حالات کا جائزہ لے کر قدم اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی تحریک کا اعلان کرتے ہیں تو اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل پیدا ہو جاتی ہے۔مولانا کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی پارلیمانی مہارت ہے۔ وہ ایوان کی کارروائی کو سمجھتے ہیں، آئینی معاملات پر گرفت رکھتے ہیں اور اپنی بات کو دلیل کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو کو توجہ سے سنا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مولانا جب بات کرتے ہیں تو سیاسی تجربہ اور زمینی حقیقت دونوں ان کے الفاظ میں جھلکتے ہیں۔پاکستان میں مذہبی سیاست کا موضوع ہمیشہ بحث کا مرکز رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاسی جماعتوں کا اثر کم ہوا، مگر مولانا فضل الرحمن نے اس خلا کو اپنی سیاسی حکمت عملی سے پر کیا۔ انہوں نے مذہبی سیاست کو صرف جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے قومی سیاست کے دھارے میں شامل رکھنے کی کوشش بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مذہبی سیاست کا ذکر ہو تو مولانا کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔ان کی سیاسی کامیابی کا راز صرف ان کی جماعت یا ووٹ بینک نہیں، بلکہ ان کی شخصیت ہے۔ وہ تعلقات بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیتے، اور یہی سیاست کی اصل روح ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ان سے اختلاف رکھتے ہیں وہ بھی ان سے رابطہ رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے اس اصول کو نہ صرف سمجھا، بلکہ اس پر مہارت بھی حاصل کی۔ کمال مگر یہ کہ انہوں نے ذاتی مفادات کی بجائے دینی اور نظریاتی مفادات کو مقدم رکھا ،وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں پل بنانے والے ہمیشہ دیواریں کھڑی کرنے والوں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ان کے ناقدین کی کمی نہیں۔ انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات سخت سیاسی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر بحران کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتا ہے۔مولانا کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ صرف آج کی سیاست نہیں کھیلتے بلکہ آنے والے کل کی بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ وہ وقتی فائدے کے لیے طویل المدتی نقصان مول نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی منظرنامے میں موجود رہتے ہیں۔حالیہ سفارتی ملاقاتوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ عالمی سفارت کار جب کسی رہنما سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک واضح پیغام ہوتا ہے۔ یہ پیغام یہی ہے کہ پاکستان کی سیاست کو سمجھنے کے لیے مولانا فضل الرحمن کو سمجھنا ضروری ہے۔’’حسد‘‘ ایک موذی بیماری ہے، خاص طور پر سیاست میں جہاں کامیابی کم اور مقابلہ زیادہ ہوتا ہے۔ مولانا کی سیاسی پرواز نے یقینا بہت سے لوگوں کو حیران بھی کیا اور پریشان بھی۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ سیاست میں کامیابی اتفاق سے نہیں ملتی، بلکہ مستقل محنت، حکمت عملی اور وقت کی پہچان سے حاصل ہوتی ہے۔پاکستان کی سیاست کا مستقبل کیا ہوگا، یہ کہنا مشکل ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ جب تک سیاسی منظرنامے میں مفاہمت، حکمت اور تجربے کی ضرورت رہے گی، مولانا فضل الرحمن جیسے کردار اہم رہیں گے۔ وہ سیاست کے اس فن کے ماہر ہیں جس میں شور کم اور اثر زیادہ ہوتا ہے۔حاسدین کی فوج ظفر موج کو کوئی بتائے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی پرواز صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست میں صبر، حکمت اور مستقل مزاجی ہمیشہ جلد بازی اور جذباتیت پر غالب رہتی ہے۔ حاسدین کی آگ اپنی جگہ ،مگر پرواز وہی بلند ہوتی ہے جس کے پروں میں تجربے کی طاقت ہو۔ پاکستان کی سیاست میں مولانا کی موجودگی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کچھ کردار وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ اور نمایاں ہو جاتے ہیں۔’’مولانا‘‘کی سیاسی بلند پروازی کو ان کے لاکھوں کارکن ہی نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے جید علماء ،بھی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں