Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے تو یہ پچھلے کام کی قبولیت کی علامت ہوتی ہے، ان کے ساتھ ان کے بیٹے مغیرہ اور اسامہ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ وہ اپنے والد محترم کے کام کو سنبھال رہے ہیں۔ اس خوشی کے اظہار کے ساتھ، باتیں تو تقریباً‌ ساری ہو چکی ہیں، وقت بھی اب کم ہے، اذان کا وقت ہو گیا ہے، اگر دس پندرہ منٹ کی گنجائش ہو تو حسبِ معمول دو باتیں کرنا چاہوں گا۔
پہلی بات یہ کہ ابھی حضرت مولانا سعد صدیقی صاحب اپنے انداز میں تثلیث اور توحید کی بات کر رہے تھے۔ میں ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہوں گا۔ سن ۱۹۹۰ء یا ۱۹۸۹ء کی بات ہے، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ اور میں شکاگو (امریکہ) گئے۔ ہمارے میزبان تھے ریاض وڑائچ صاحب، وہ بھی چنیوٹ کے تھے لیکن شکاگو میں کاروبار کرتے تھے۔ ہم وہاں گئے تو مجھے اطلاع ملی کہ شکاگو میں بہائیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ میری عادت ہے کہ جو کام بھی معلوم ہوتا ہے جہاں تک میری رسائی ہو خود پہنچ کر وہاں کے ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں، سیکنڈری سورس پر میرا اعتماد کم ہوتا ہے۔ مندروں میں بھی جاتا ہوں، گوردواروں میں بھی جاتا ہوں۔
میں نے مولانا چنیوٹیؒ سے کہا کہ چلیں بہائیوں کا مرکز دیکھتے ہیں۔ بہائیوں کا وہ مرکز دنیا کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کون وڑن دیسی؟‘‘ (وہاں کون جانے دے گا؟) میں نے کہا حضرت، اندر نہیں جانے دیں گے تو واپس آجائیں گے۔ خیر، میں نے تیار کر لیا۔ مولانا چنیوٹی رحمۃ اللہ علیہ، میں اور ریاض وڑائچ صاحب، ہم تین آدمی گئے کہ وہ لوگ جو کام کرتے ہیں ان کے کام کا انداز دیکھتے ہیں۔ ہم گیٹ پر تھے کہ ریسپشن تک جانے سے پہلے وہ ہمیں پہچان گئے کہ کون کون ہیں۔ خیر، انہوں نے پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمیں ویلکم کہا۔ بہت بڑا ہال تھا اور ایک ہی چھت کے نیچے چھ عبادت خانے تھے۔
بھائیوں کا عقیدہ ہے یہ کہ سارے مذاہب ٹھیک ہیں، جیسے آج کل ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کا تصور ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے انہوں نے دیا ہے۔ انہوں نے چھ مذہبوں کے عبادت خانے ایک ہال کے اندر بنائے ہوئے ہیں۔ ایک اس کونے میں، ایک اس کونے میں۔ ایک کونے میں مسجد ہے، بالکل مسجد کی طرز پر، چٹائیاں ہیں، منبر ہے، محراب ہے، خطیب صاحب کا ڈنڈا سا کھڑا ہے، قرآن پاک کی الماری ہے۔ اسی طرح گرجا ہے، اس میں جیسے بت ہوتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے۔ ایک طرف سینیگاگ ہے یہودیوں کا، ایک طرف مندر ہے ہندوؤں کا، درمیان میں گوردوارہ ہے سکھوں کا، اور ایک طرف بدھوں کا اسٹوپا یا پگوڈا ہے۔ چھ عبادت خانے ایک چار دیواری میں اور ایک چھت کے نیچے۔ ہمیں انہوں نے بتایا کہ یہ ہم نے بنا رکھے ہیں اور سارے مذہب اکٹھے کر رکھے ہیں۔ ہم صرف سروس مہیا کرتے ہیں، کسی مسلمان کا جی چاہے تو مسجد میں آ کر عبادت کرے، ہندو مندر میں کرے، عیسائی گرجے میں کرے، یہودی سینیگاگ میں کرے، چوبیس گھنٹے کھلا ہے، کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہم صرف چائے پانی اور وقت پہ کھانا وانا یعنی سروس ہم مہیا کرتے ہیں۔ خیر، آدھ پون گھنٹہ ایک گھنٹہ ہم نے دیکھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیسے ہو رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے تاثر پوچھا کہ آپ نے کیا محسوس کیا ہے؟ انچارج جو تھے وہ انڈیا کے تھے۔ میں نے کہا، بات یہ ہے کہ آپ کی محنت کی داد تو دیتا ہوں کہ اتنا بڑا سلسلہ ہے، آپ کی محنت تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اُس کونے میں مسجد ہے مکہ کے رخ پر، دوسرے کونے میں گرجا ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہاں خدا ایک تھا، وہاں پہنچتے پہنچتے تین ہو گیا ہے، وہاں سے واپس آیا تو پھر ایک ہو گیا، درمیان میں ٹرننگ پوائنٹ کونسا ہے جہاں سے وہ عبور کرتا ہے تو ایک سے تین ہو جاتا ہے اور واپسی پر تین سے ایک ہو جاتا ہے؟ انہوں نے کہا مولوی صاحب، یہ فلسفے کے مسائل ہیں۔ میں نے کہا، نہیں۔ خدا کا ایک ہونا یا تین ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ نہیں ہے، عقیدے کا مسئلہ ہے، فلسفہ کہہ کر نہیں ٹالو۔
میں یہ عرض کروں گا کہ آج بھی یہی تناظر ہے، عقیدے کے مسائل کو فلسفے میں الجھایا جا رہا ہے۔ یہ الحاد کیا ہے، دہریت کیا ہے؟ بنیادی طور پر عقیدے کے مسائل کو وحی سے ہٹا کر فلسفے میں الجھا کر خراب کیا جا رہا ہے۔ ساری بات کے پیچھے یہی ہے۔ میں پھر دہرا کر اگلی بات کرتا ہوں کہ خدا کا ایک ہونا، دو ہونا، یہ فلسفے کا مسئلہ ہے یا عقیدے کا مسئلہ ہے؟ میں نے کہا بھئی، فلسفے کے حوالے مت کرو ہمیں، یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اور مجھے بتاؤ کہ کون سا ٹرننگ پوائنٹ ہے جہاں ایک سے تین ہو گئے تھے اور واپسی پر تین سے ایک ہو گئے، وہ جگہ مجھے نہیں مل رہی۔ خیر، یہ میرا واقعہ ہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے واقعہ بیان کیا ہے تو میں نے کہا میں بھی عرض کر دوں۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں