Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

نئے عالمی نظام کی پہلی گونج

عین قرینِ قیاس ہے کہ امریکا،اسرائیل اورایران کے مابین برپاحالیہ کشمکش کواس نوخیزعالمی نظام کی اولین بڑی تمہیدی جنگوں میں شمارکیاجائے جوابھی اپنی ہیئت وماہیت متعین کرتے ہوئے اپنی فکری اورعملی تشکیل کے مراحل سے گزررہاہے۔ تاریخ کاچلن یہ رہاہے کہ جب بھی عالمی طاقت کا توازن بدلتاہے تواس کی تمہیدمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے، اوراس کامقدمہ سفارت کے ایوانوں میں۔یہ وہ عہدِنوہے جس میں پرانے اصول،جو کبھی بین الاقوامی سیاست کے ستون سمجھے جاتے تھے،اب وقت کی گردمیں اپنی تاثیرکھوتے محسوس ہوتے ہیں؛گویاتاریخ کاپہیہ ایک نئے مدارمیں داخل ہوچکاہے جہاں ضابطے نہیں بلکہ طاقت کی نئی تعبیرات فیصلہ کن حیثیت اختیارکررہی ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہرنیاعالمی نظام کسی نہ کسی بڑے تصادم کی آغوش میں جنم لیتاہے۔جیسے یورپ کی مذہبی جنگوں نے قومی ریاست کے تصورکوجنم دیااورپہلی ودوسری عالمی جنگوں نے بین الاقوامی اداروں کی بنیادرکھی،اسی طرح موجودہ کشاکش بھی ایک ایسے عہدکاپیش خیمہ ہوسکتی ہے جہاں اصولوں کی بجائے طاقت کے نئے پیمانے متعین ہوں گے۔یہ وہ لمحہ ہے جب عالمی سیاست ایک نئی لغت ترتیب دے رہی ہے اورپرانے محاورے اپنی معنویت کھوتے جارہے ہیں۔آج کا منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہے ایک ایساعہدجس میں پرانے اصول گویاخزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑتے محسوس ہوتے ہیں،اور نئی قدریں ابھی پوری طرح جڑنہیں پکڑسکیں۔ یہ کشمکش محض جغرافیائی یاعسکری نہیں بلکہ تہذیبی،فکری اور نظامی تبدیلی کی علامت ہے،گویادنیاایک نئے میثاقِ قوت کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعدعالمی سیاست ایک ایسے منضبط سانچے میں ڈھلی رہی جس کی بنیاد بین الاقوامی قانون اورعالمی اداروں پر رکھی گئی تھی۔اگرچہ اس عمارت میں کہیں کہیں دراڑیں بھی پڑیں،مگرریاستیں عمومااپنے اقدامات کواسی نظام کیاندررہتے ہوئے جائز قراردینے کی سعی کرتی رہیں۔یوں قانون اورقوت کا ایک نازک توازن قائم رہاایک ایسا توازن جو بظاہر ٹوٹنے لگاہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعدقائم ہونے والا عالمی نظام دراصل ایک تہذیبی معاہدہ تھا وہ دراصل طاقت کو اخلاقی حدودمیں مقیدکرنے کی ایک شعوری کوشش تھی۔ ایک ایساغیر تحریری عہد نامہ جس میں طاقت کوقانون کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی۔اقوام متحدہ،جنیوا کنونشنز،عالمی عدالت انصاف اورمختلف بین الاقوامی معاہدے اسی خواب کی تعبیرتھے کہ جنگ بھی قانون کے تابع ہواورامن بھی اصولوں کاپابند۔اگرچہ بڑی طاقتوں نے کئی مواقع پران اصولوں کواپنے مفادات کے تابع اوراپنی مرضی کے مطابق ڈھالا،مگروہ اس حقیقت سے انکارنہ کرسکیں کہ انہیں اپنے اقدامات کے لئے کسی نہ کسی قانونی واخلاقی جوازکی ضرورت ہے اوراقرارکایہ پہلوباقی رہاکہ قانون ایک حوالہ ہے،ایک میزان ہے جس پرعمل کوپرکھاجاسکتا ہے۔یہی وہ اخلاقی جبرتھاجوطاقتورکوبھی کسی نہ کسی حدتک جواب دہ بنائے رکھتاتھا۔یہی وہ تہذیبی پردہ تھاجو طاقت کوبے مہارہونے سے روکتاتھامگراب یہی پردہ تارتار ہوتادکھائی دیتاہے،اورقانون کی کتابیں طاقِ نسیاں کی زینت بنتی جارہی ہیں۔
ماضی میں عسکری کارروائی محض توپ وتفنگ کی گھن گرج نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ سفارتی گفت وشنید، قانونی موشگافیاں اور اتحادوں کی شطرنج بھی بچھائی جاتی تھی بلکہ ایک مکمل بیانیہ تھی جس میں قانونی دلائل،سفارتی روابط اوراتحادوں کی بساط شامل ہوتی تھی جہاں سفارتی میزوں پربھی ان کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ہر عسکری اقدام کے ساتھ ایک سفارتی جواز بھی پیش کیا جاتا تھا تاکہ عالمی رائے عامہ کومطمئن کیاجاسکے۔ ہرگولی کے پیچھے ایک دلیل ہوتی تھی،ہرحملے کے ساتھ ایک وضاحت پیش کی جاتی تھی، لیکن ایران کے حالیہ قضیے میں یہ تمام لوازمات ثانوی حیثیت اختیارکرتے دکھائی دیتے ہیں اوحالیہ ایرانی تنازع میں یہ روایت ماندپڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اب فیصلے قانون کے ایوانوں میں نہیں بلکہ سٹریٹجک تھنک ٹینکس اورعسکری ہیڈکوارٹرزمیں کئے جاتے ہیں۔ گویا فیصلے اب خفیہ کمروں میں کیے جاتے ہیں جہاں قانون کی کتابیں نہیں بلکہ طاقت کے نقشے بچھے ہوتے ہیں۔سفارت کاری کی جگہ سٹریٹجک حساب کتاب نے لے لی ہے۔فیصلے اب قانون کی میزان پرنہیں بلکہ مفادکے ترازومیں تولے جارہے ہیں۔گویادنیاایک ایسے دور میں داخل ہورہی ہے جہاںحقکی تعریف طاقت کے ہاتھ میں ہے۔
ایران کے لئے یہ طرزِعمل کوئی اجنبی نہیں۔ ایران کی تاریخ اس امرکی شاہدہے کہ اس نے ہمیشہ نامساعد حالات میں اپنی راہ خود متعین کی ہے ۔ ایران کیلئے یہ حالات نئے نہیں۔انقلابِ 1979ء کے بعد سے یہ ملک مسلسل عالمی پابندیوں ،سیاسی تنہائی اور سفارتی دبائوکاسامناکرتا آیا ہے۔ دہائیوں سے پابندیوں اور تنہائی کے خارزارمیں سفر کرتے ہوئے اس نے بقا کے ایسے قرینے سیکھ لئے ہیں جورسمی عالمی ضوابط سے ماوراہیں۔اسی کڑے امتحان نے اسے ایک ایسی خودانحصاری عطاکی جودیگرممالک کے لئے مثال بھی ہے اورمعمہ بھی۔ اسی مسلسل آزمائش نے اسے ایک منفردسٹریٹجک ذہن عطا کیا ہے۔اس کی معیشت اورسفارت دونوں نے ایک متبادل نظامِ کاروضع کرلیا ہے ۔ایران نے غیررسمی مالیاتی نیٹ ورکس،علاقائی اتحادوں اورمتبادل تجارتی راستوں کے ذریعے اپنی معیشت کوزندہ رکھا۔گویااس نے عالمی نظام کے باہرایک ذیلی نظام تشکیل دے لیا۔ایک ایسا نظام جوپابندیوں کے حصارمیں بھی سانس لے سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جوبظاہرغیرروایتی ہے مگر موثرہے گویاایران نے عالمی نظام کے پہلومیں ایک متوازی نظام قائم کرلیاہو۔
ایران کی تیل کی برآمدات اس کی معاشی شہ رگ ہیں اورپابندیوں کے باوجودان کاجاری رہنااس کی حکمتِ عملی کی کامیابی کاثبوت اور اس کی معاشی استقامت کی روشن مثال ہے ۔ حیرت انگیزامریہ ہے کہ کڑی عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھیں بلکہ بعض اوقات وسعت بھی دی اورخطے میں اپنااثرورسوخ بھی برقراررکھا۔ گویااس نے ثابت کیاکہ اگرارادہ صیقل ہوتوبند دروازوں میں بھی راستے نکل آتے ہیں۔یہ ایک ایساکارنامہ ہے جومحض معاشی تدبیرنہیں بلکہ سیاسی بصیرت کامظہربھی ہے۔یہ امراس بات کاغمازہے کہ عالمی نظام کی سخت ترین رکاوٹیں بھی مستقل عزم کے سامنے کمزورپڑسکتی ہیں۔ ایران نے یہ ثابت کیا کہ اگرریاستی ارادہ مضبوط ہو تو عالمی دبائوبھی اس کی سمت متعین نہیں کرسکتا۔ایران نے ثابت کیاکہ عالمی نظام کے دروازے بندہوں تو کھڑکیاں تلاش کی جاسکتی ہیںاوراگر کھڑکیاں بھی بند ہوں تودیواروں میں راستے بنائے جاسکتے ہیں۔
ایران کی سٹریٹجک ثقافت میں کشیدگی کوایک فن کے طورپربرتاجاتاہے۔ایران کی سٹریٹجک ثقافت میںحساب شدہ کشیدگیایک کلیدی تصورہے۔ ایران کی سٹریٹجک ثقافت دراصل صبروتدبر اور نفسیاتی دباکاایک حسین امتزاج ہے۔وہ تصادم کو ایک فن کی طرح برتتا ہے، جس میں شدت اوراعتدال دونوں کاخیال رکھا جاتا ہے وہ تصادم کواس حدتک بڑھاتاہے جہاں دشمن کے لئے قیمت بڑھ جائے،مگرآگ اس درجہ نہ بھڑکے کہ پوراخطہ لپیٹ میں آجائے۔اس کی حکمتِ عملی میں ردعمل بھی نپاتلاہوتا ہے اورپیغام بھی گہرادبائوبڑھا، مگر دروازہ بند نہ کرو۔
اس کامقصد دشمن کومکمل طورپرشکست دینانہیں بلکہ اسے اس نہج پرلے آناہے جہاں وہ خود مفاہمت پرآمادہ ہوجائے۔یہ حکمت عملی بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہے مگردرحقیقت اس میں ایک گہری بصیرت پوشیدہ ہے کہ ہرجنگ جیتناضروری نہیں،بعض اوقات جنگ کو طول دیناہی کامیابی ہوتی ہے۔یہ ایک ایساطرزِعمل ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھایاجاتا ہے، اور ہرردعمل ایک پیغام لیے ہوتاہے۔ گویاایران جنگ کومحض لڑتانہیں بلکہ اسے ایک فن کے طورپربرتتاہے۔
دوسری طرف اسرائیل کامزاج اس سے مختلف ہے۔اس کی عسکری فکراس کے برعکس ایک فوری اور فیصلہ کن ردعمل اورجارحیت پر مبنی ہے اوروہ پیشگی حملہ اوربرق رفتارفیصلہ کن کارروائی کواپنے آقا اور مربی امریکاکی شہہ پرپڑوسی ملکوں کوتاراج کرنا اپنا بنیادی حق سمجھتاہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں