حالیہ دنوں میں ایک بیان سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے جو جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے منسوب ہے اور جسے مختلف پلیٹ فارمز خصوصاً Focus Media نے بھی نشر کیا،مولانا فضل الرحمن، سید سلمان گیلانی ؒ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں حکومت سے لڑتا ہوں،میں کسی پارٹی سے سیاسی اختلاف کرتا ہوں ،لیکن حکمرانوں سے لڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں وطن عزیز کا چہرہ بھی نوچنا شروع کر دوں ،یہ ملک میراہے،اس ملک کی حفاظت ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ، یہ ہمارا گھر بھی ہے ۔یہ ہماری عزت بھی ہے،اور ناموس بھی،یہ کسی جرنیل ،کسی بیوروکریٹ کانہیں،خان اور نواب کا نہیں ،جاگیردار ، صنعت کار اور سرمایہ دار کا نہیں ، بلکہ یہ وطن اس ملک کے غریب عوام کا ہے‘‘ بظاہر چند سادہ جملوں پر مشتمل یہ پیغام دراصل پاکستانی سیاست، جمہوری اقدار اور حب الوطنی کے مفہوم پر ایک گہری بحث کو جنم دیتا ہے۔ ان الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی گئی کہ حکومت سے اختلاف اور’’وطن سے دشمنی‘‘ایک ہی چیز نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو آج کے سیاسی ماحول میں سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سیاست کی سب سے بڑی کمزوریوں میں سے ایک یہ رہی ہے کہ یہاں حکومت، ریاست اور وطن کو اکثر ایک ہی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکومت ایک عارضی انتظامی ڈھانچہ ہے جو انتخابات کے ذریعے تبدیل ہوتا رہتا ہے، جبکہ ریاست ایک مستقل نظام ہے جو اداروں، آئین اور عوام کے باہمی معاہدے پر قائم ہوتا ہے۔ وطن اس سے بھی بڑا تصور ہے جس میں زمین، تاریخ، ثقافت اور سب سے بڑھ کر عوام شامل ہوتے ہیں۔ جب ان تینوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے تو اختلاف کو غداری کا رنگ دینا آسان ہو جاتا ہے، اور یہی وہ خطرناک رجحان ہے جس نے معاشرے کو تقسیم کیا۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کی روح ہوتا ہے۔ اگر اختلاف ختم ہو جائے تو جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں حکومتیں سخت ترین تنقید کا سامنا کرتی ہیں مگر وہاں اس تنقید کو ملک دشمنی قرار نہیں دیا جاتا۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ سوال پوچھنا حب الوطنی کے خلاف نہیں بلکہ حب الوطنی کا حصہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں حکومت سے سوال نہ کیا جا سکے، دراصل جمہوریت کی بنیادوں سے محروم ہو جاتا ہے۔پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بارہا ایسا ہوا کہ سیاسی مخالفین کو غدار، ملک دشمن یا غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا گیا۔ کبھی صحافیوں پر یہ الزام لگا، کبھی طلبہ پر، کبھی اپوزیشن پر اور کبھی سماجی کارکنوں پر۔ یہ روایت کسی ایک دور یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں برداشت کم ہوتی گئی اور مکالمے کی جگہ الزام تراشی نے لے لی۔بیان میں یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی کہ ملک کسی ایک طبقے کی ملکیت نہیں۔ نہ یہ صرف حکمرانوں کا ہے، نہ طاقتور اداروں کا، نہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا۔ یہ ملک اس کے عام شہریوں کا ہے، ان کروڑوں لوگوں کا جو روزانہ محنت کرتے ہیں، مشکلات برداشت کرتے ہیں اور اس امید کے ساتھ جیتے ہیں کہ ان کا مستقبل بہتر ہوگا۔ یہی وہ عوام ہیں جن کے نام پر سیاست کی جاتی ہے مگر جن کی آواز اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط اور نچلے طبقے پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دبا کا براہ راست اثر برداشت کرتے ہیں۔ جب ان کے مسائل حل نہیں ہوتے تو ان میں احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ یہی احساس محرومی سیاسی بے چینی اور سماجی تقسیم کو جنم دیتا ہے۔ اگر سیاست کا محور عوام نہ ہوں تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے۔حب الوطنی کے تصور کو بھی ہمارے معاشرے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ اکثر حب الوطنی کو خاموشی سے جوڑ دیا جاتا ہے، جیسے سوال پوچھنا یا تنقید کرنا حب الوطنی کے خلاف ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک باشعور شہری وہی ہوتا ہے جو اپنے ملک کی بہتری کے لیے سوال اٹھاتا ہے، اصلاح کی بات کرتا ہے اور غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ خاموشی کبھی بھی ترقی کا راستہ نہیں بن سکتی۔ قومیں سوالوں سے آگے بڑھتی ہیں، تعریفوں سے نہیں۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص اپنی پسندیدہ جماعت یا رہنما کا دفاع اور مخالفین پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ دلیل کی جگہ جذبات نے لے لی ہے اور مکالمے کی جگہ طنز اور تضحیک نے۔ یہ رویہ نہ صرف سیاسی ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں تو قومی اتحاد کمزور پڑ جاتا ہے۔ ملک کو گھر سے تشبیہ دینا ایک خوبصورت اور معنی خیز استعارہ ہے۔ گھر میں اختلاف ہوتا ہے، بحث ہوتی ہے، شکایات بھی ہوتی ہیں، مگر کوئی اپنے گھر کو تباہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ اسی طرح سیاسی اختلاف ملک سے دشمنی نہیں بلکہ گھر کو بہتر بنانے کی کوشش ہوتا ہے۔ یہ شعور اگر عام ہو جائے تو سیاسی کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
( جاری ہے )