(گزشتہ سے پیوستہ)
غزہ اوردیگرتنازعات میں اسرائیل کی کارروائیوں نے اسے عالمی قانونی فورمزکے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اب اس کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔مگراس سب کے باوجود اسرائیل کامؤقف یہی ہے کہ اس کی سلامتی ہراصول پرمقدم ہے۔ امریکاکی غیر متزلزل حمایت اور پشت پناہی اس مقف کومزیدمضبوط بناتی ہے،جس سے عالمی نظام کے توازن پر سوالات اٹھتے ہیں۔یہ صورتحال عالمی نظام میں عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں قانون کا اطلاق یکساں نہیں رہتا۔
امریکاکاکرداراس پوری داستان میں مرکزی حیثیت رکھتاہے۔وہ نہ صرف اس نظام کاحصہ ہے بلکہ اس کامعماربھی ہے اورنگران بھی، جس کے تحت دنیانے دہائیوں تک سانس لی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعداس نے عالمی اداروں،عسکری اتحادوں اورقانونی اصولوں کی ایسی بساط بچھائی جس سے اس کااثرونفوذ عالمی سطح پرمستحکم ہوا۔اس نے عالمی سیاست کے قواعدوضوابط وضع کئے اوران کے ذریعے اپنی برتری کو برقراررکھامگراب جب وہ خود ان اصولوں سے انحراف کرتادکھائی دیتاہے اوراب اس کے رویے میں ایک تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ اب یہ سوال جنم لیتاہے کہ جب معمارہی اپنے اصولوں سے انحراف کرنے لگے توعمارت کی بنیادیں ہلنافطری امرہے۔ کیامعمار اپنی ہی تعمیرکو منہدم کرنے پرآمادہ ہوچکاہے؟
عراق جنگ اس تضادکی ایک نمایاں مثال تھی ۔ 2003ء میں عراق پرحملہ وہ لمحہ تھاجب امریکانے اس نظام سے صریحاانحراف کیا،امریکا نے اس جنگ کو عالمی اتحادکے پردے میں پیش کیا، حالانکہ اس کے قانونی جوازپرشدیداختلاف موجود تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب اصول اور مفادکے درمیان خلیج واضح ہونے لگی۔مگراس وقت بھی ایک کوشش موجودتھی کہ عالمی نظام کالبادہ برقراررکھا جائے، اصولوں کا احترام کمزور ضرورہوامگرمکمل طورپرختم نہ ہواگویا اصولوں سے انحراف بھی اصولوں کے پردے میں کیا گیایہی اس نظام کی اخلاقی نزاکت تھی۔تاہم موجودہ تصادم میں یہ پردہ بھی چاک ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بیانات میں وہ سفارتی شائستگی باقی نہیں رہی جوکبھی بڑی طاقتوں کا طر امتیاز اور سفارت کاری کاخاصہ تھی ۔اب الفاظ میں بھی وہی شدت درآئی ہے جو میدانِ جنگ میں نظرآتی ہے اوربعض اوقات جارحانہ بیانیہ گولی سے زیادہ زخم دیتاہے۔ یہ تبدیلی عالمی سیاست کے مزاج میں ایک گہری تبدیلی کی عکاس ہے۔ گویا زبان بھی بارودکی بوسے آشناہوگئی ہے۔ اب الفاظ بھی ہتھیاربن چکے ہیں تیز، بے باک اورکبھی کبھی بے مہار،یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست کامزاج تبدیل ہورہا ہے۔
اس نئے عہدمیں معاشی ہتھیاربھی تلوارکی طرح استعمال ہورہے ہیں۔محصولات،تجارتی پابندیاں اور مالیاتی دبایہ سب محض معاشی تدابیرنہیں بلکہ سیاسی حربے بن چکے ہیں اور دوست ودشمن کی تمیزبھی دھندلا گئی ہے۔معاشی ہتھیار ب زیادہ واضح، ارحانہ اورتلوار کی طرح استعمال ہورہے ہیں بلکہ ٹیرف،پابندیاں اور مالیاتی دبائو اب صرف اقتصادی پالیسی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی اوردباکے ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ ایک ایسامیدان ہے جہاں جنگ بغیرگولی چلائے لڑی جاتی ہے،مگراس کے اثرات کسی بھی عسکری کارروائی سے کم نہیں ہوتے۔یہ ایک خاموش جنگ ہے جس کے اثرات دوررس اورگہرے ہوتے ہیں۔
امریکاکی جانب سے اپنے اتحادیوں پردباؤ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی نظام کے اندرونی تضادات بڑھ رہے ہیں اورعالمی نظام کے ستونوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جوخوداپنی بنیادوں کوہلارہے ہیں۔ جب اتحادی بھی ایک دوسرے پراعتمادکھو دیں تونظام کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں۔اگرمعمار ہی دیواروں کو کمزورکرنے لگے توعمارت کی پائیداری پرسوال اٹھنا فطری امرہے۔یہ صورتحال ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ہرملک اپنی بقاکے لئے خودہی راستہ تلاش کرے گا۔
ایران نے ماضی میں اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندررکھا،حتیٰ کہ 12روزہ جنگ جیسے مواقع پر بھی اس نے اپنی سرخ لکیروں کا لحاظ کیا،ہمیشہ اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندر رکھا۔یہ احتیاط اس کی حکمتِ عملی کا حصہ تھی تاکہ تصادم قابوسے باہرنہ ہو۔ یہ طرزِ عمل اس کی سیاسی بصیرت کاعکاس اور سٹریٹجک بصیرت کامظہرتھا کہ وہ تصادم کوقابو میں رکھتا تھا مگر حالیہ جنگ میں یہ توازن متزلزل دکھائی دیتا ہے۔ امریکااوراسرائیل نے باقاعدہ ملی بھگت سے ایران پرجارحانہ حملے کرکے اس کی قیادت کے50سے زائدافرا کو شہیدکردیا اور اب تک بقول ٹرمپ کے ایران کوتاراج کرنے کیلئے8ہزارسے زائد خوفناک فضائی حملے کرکے ہزاروں مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ قیادت کے نقصان کے بعد ایران کاردعمل زیادہ وسیع اورشدید ہوگیااور بڑھتے ہوئے دباؤنے ایران کو ایک زیادہ جارحانہ ردعمل پرمجبورکردیاہے ۔خلیج کے پانیوں سے لے کر عالمی منڈیوں تک اس کے اثرات محسوس کئے گئے۔ آبنائے ہرمزمیں خلل نے یہ ثابت کر دیاکہ علاقائی جنگ بھی عالمی معیشت کوہلاسکتی ہے،گویا ایک چنگاری نے عالمی بازار کو لرزا دیا ۔ آبنائے ہرمز میں خلل اورعالمی منڈیوں پر اثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب محض علاقائی نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پراثر اندازہورہا ہے۔ آبنائے ہرمزمیں خلل اورعالمی منڈیوں پراثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ گویا ایک علاقائی چنگاری نے عالمی نظام کو لرزادیاہے۔
بڑی طاقتیں اس صورت حال سے اپنے اپنے نتائج اخذکررہی ہیں اوراپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہی ہیں روس کے لئے توانائی کی بڑھتی قیمتیں ایک بہترین معاشی موقع ہیں،جبکہ چین اس پورے منظر نامے کوایک سٹریٹجک تجربہ گاہ کے طورپردیکھ رہاہے کہ عالمی اصول کس طرح بدلتے ہیں اور طاقت کا توازن کس سمت جھکتا ہے۔ہرطاقت اس بحران سے اپنے لیے راستے تلاش کررہی ہے اور اپنے مفادات کے مطابق نتائج اخذ کر رہی ہے۔
یورپ اس تمام منظرنامے میں ایک کمزور کردار کے طورپرسامنے آرہاہے اوراس تمام ہنگامے میں ایک خاموش ناظردکھائی دیتاہے۔ یورپ کی محدود حیثیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں اس کاکردارکمزور پڑتا جا رہا ہے۔وہ اب فیصلہ سازنہیں بلکہ ایک مبصربن کررہ گیا ہے۔سفارتی کوششوں کے باوجود وہ فیصلہ سازی میں نمایاں کردارادا نہیں کرپارہا۔ یہ اس کے عالمی اثرورسوخ میں کمی کی علامت ہے۔تاریخ کا یہ بھی ایک تلخ سبق ہے کہ ایسے ادوار عموما عدم استحکام اورانتشار کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اگریہ ڈھانچہ مزیدکمزور ہوا تو دنیاایک ایسے عہدمیں داخل ہو سکتی ہے جہاں اصولوں کی جگہ محض طاقت کاراج ہو اور تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب قانون کی روشنی مدہم پڑجائے توطاقت کااندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے یہاں تک کہ وہ بھی جو کبھی اس روشنی کے امین تھے۔
یہ تمام نکات مل کرایک ایسی تصویرپیش کرتے ہیں جونہ صرف موجودہ عالمی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی واضح کرتے ہیںایک ایسا مستقبل جوغیریقینی، پیچیدہ اور شاید پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیاایک نئے عہد کے دہانے پرکھڑی ہے ایک ایساعہدجوغیر یقینی ،پیچیدہ اورشایدپہلے سے زیادہ خطرناک ہے،مگر اسی میں مستقبل کے امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔