Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

مولانا فضل الرحمن کا بیانیہ، وطن سے وفاداری

(گزشتہ سے پیوستہ)
حب الوطنی کے تصور کو بھی ہمارے معاشرے میں محدود کر دیا گیا ہے۔ اکثر حب الوطنی کو خاموشی سے جوڑ دیا جاتا ہے، جیسے سوال پوچھنا یا تنقید کرنا حب الوطنی کے خلاف ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک باشعور شہری وہی ہوتا ہے جو اپنے ملک کی بہتری کے لیے سوال اٹھاتا ہے، اصلاح کی بات کرتا ہے اور غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ خاموشی کبھی بھی ترقی کا راستہ نہیں بن سکتی۔ قومیں سوالوں سے آگے بڑھتی ہیں، تعریفوں سے نہیں۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص اپنی پسندیدہ جماعت یا رہنما کا دفاع اور مخالفین پر حملہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ دلیل کی جگہ جذبات نے لے لی ہے اور مکالمے کی جگہ طنز اور تضحیک نے۔ یہ رویہ نہ صرف سیاسی ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں تو قومی اتحاد کمزور پڑ جاتا ہے۔ ملک کو گھر سے تشبیہ دینا ایک خوبصورت اور معنی خیز استعارہ ہے۔ گھر میں اختلاف ہوتا ہے، بحث ہوتی ہے، شکایات بھی ہوتی ہیں، مگر کوئی اپنے گھر کو تباہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتا۔ اسی طرح سیاسی اختلاف ملک سے دشمنی نہیں بلکہ گھر کو بہتر بنانے کی کوشش ہوتا ہے۔ یہ شعور اگر عام ہو جائے تو سیاسی کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
سیاسی قیادت پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیانیے میں شائستگی اور برداشت کو فروغ دے۔ سیاست اگر نفرت اور الزام تراشی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے میں پھیل جاتے ہیں۔ الفاظ کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے؛ یہ یا تو معاشروں کو جوڑ دیتے ہیں یا ہمیشہ کے لئے تقسیم کر دیتے ہیں۔ اس لئے سیاست میں ذمہ دارانہ زبان کا استعمال نہایت ضروری ہے۔نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم کردار ہے۔ پاکستان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور وہی مستقبل کے معمار ہیں۔ اگر نوجوانوں کو یہ سکھایا جائے کہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے تو ایک صحت مند سیاسی کلچر جنم لے سکتا ہے۔ لیکن اگر انہیں نفرت اور تقسیم کا سبق دیا جائے تو مستقبل مزید مشکل ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو برداشت، مکالمہ اور دلیل کا راستہ اپنانا ہوگا۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ میڈیا معاشرے کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر میڈیا سنسنی خیزی کو ترجیح دے گا تو معاشرہ تقسیم ہوگا، اور اگر مکالمے کو فروغ دے گا تو معاشرہ متحد ہوگا۔ ذمہ دار میڈیا ہی ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھتا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ وطن صرف جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کا نام ہے۔ اگر عوام خوشحال نہ ہوں تو وطن کی ترقی کا تصور ادھورا رہتا ہے۔ عوام کو تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کی سہولتیں فراہم کرنا ہی اصل حب الوطنی ہے۔ جب شہری خود کو ریاست کا حصہ محسوس کرتے ہیں تو ان کی وابستگی اور محبت بھی بڑھتی ہے۔
سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کا سلسلہ اگر جاری رہا تو معاشرہ مزید تقسیم ہو جائے گا۔ لیکن اگر اختلاف کو جمہوری عمل کا حصہ تسلیم کر لیا جائے تو سیاست میں شائستگی اور برداشت کا راستہ کھل سکتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔آخرکار حقیقت یہی ہے کہ یہ ملک ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ یہاں رہنے والے ہر فرد کا اس پر برابر حق ہے۔ اس گھر کو بہتر بنانے کے لئے اختلاف بھی ضروری ہے اور مکالمہ بھی۔ وطن سے محبت کا مطلب خاموش رہنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کی جدوجہد جاری رکھنا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو آج کے حالات میں سب سے زیادہ اہم اور قابلِ غور ہے۔اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنے کی روایت اگر جاری رہی تو ہم بحیثیت قوم فکری جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو تنقید کو برداشت کرتے ہیں، سوال کو موقع دیتے ہیں اور مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حب الوطنی کا تقاضا صرف جذباتی نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔ جب شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور رکھتے ہیں اور ریاست ان کی فلاح کو اپنی ترجیح بناتی ہے تو قومیں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو نفرت اور تقسیم کے دائرے سے نکال کر خدمت اور اصلاح کے راستے پر گامزن کیا جائے۔ اختلاف کو برداشت کرنا، مخالف رائے کو سننا اور اجتماعی بہتری کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہی وہ راستہ ہے جو قومی وحدت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے اجتماعی رویوں میں برداشت، شائستگی اور مکالمے کو جگہ دے دی تو یقینا آنے والی نسلیں ایک زیادہ پرامن، باوقار اور مضبوط پاکستان کی وارث ہوں گی۔ وطن سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور اس مشترکہ گھر کو بہتر بنانے کے لئے اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں