(گزشتہ سے پیوستہ)
چین کی تیزرفتارعسکری ترقی اورفرانس کااپنے جوہری پروگرام کووسعت دینے کاارادہ دراصل اس بات کاثبوت ہے کہ طاقت کی سیاست میں اخلاقیات کی گنجائش محدودہوتی جارہی ہے۔جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کے لئے یہ دلیل مزید مضبوط ہوجاتی ہے کہ اگرانہیں زندہ رہناہے توانہیں بھی اسی راستے پرچلناہوگا۔یہ صورتحال عالمی نظام کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے، کیونکہ یہ عدم پھیلا ؤکے اصول کوکمزوراورایک نئے اسلحہ جاتی توازن کوجنم دیتی ہے۔
جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری ایک ایساعمل ہے جسے بظاہردفاعی بہتری کے طورپرپیش کیا جاتا ہے، مگرحقیقت میں یہ ان کے استعمال کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے،جوتباہی کانیاچہرہ اورایک نہایت خطرناک رجحان ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے گئے ہتھیارزیادہ تیز، زیادہ درست اور زیادہ تباہ کن ہوتےہیں۔ جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل انکے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے۔یہ ایک ایساکھیل ہےجس میں جیتنے والا بھی ہارتا ہے۔یہ ترقی ایک ایسے خطرناک رجحان کوجنم دیتی ہے جس میں ہتھیاروں کو ’’قابلِ استعمال‘‘بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یعنی وہ محض خوف کی علامت نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں استعمال کے قابل بھی ہوں۔یہ تصور انسانی تاریخ کے لئے ایک بھیانک موڑثابت ہوسکتاہے کیونکہ جب ہتھیارقابلِ استعمال بن جائیں توان کے استعمال کاامکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
نیوسٹارٹ معاہدےکاخاتمہ دراصل ایک ایسے خلاکی نشاندہی کرتاہے جسے پرنہ کیا گیا تو عالمی امن خطرے میں پڑسکتاہے اوردنیاایک نئے اسلحہ جاتی بحران کاشکارہوسکتی ہے۔یہ معاہدہ امریکااورروس کے درمیان اعتماداورتوازن کاایک ستون تھا،اوراس کے خاتمے نے اس ستون کوگرادیاہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک بغیرکسی مؤثرنگرانی کے اپنے ہتھیاروں کے ذخائرکوبڑھاسکتے ہیں۔یہ خلا نہ صرف ان دونوں ممالک کے لئے بلکہ پوری دنیاکے لئےخطرناک ہے ،کیونکہ اس سے اسلحہ جاتی دوڑکوتقویت ملتی ہے۔ دراصل تین بنیادی عوامل دنیاکوجوہری پھیلاؤاورایک غیریقینی مستقبل اورخطرناک سمت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اول،چین کی تیزرفتار صنعتی توسیع،یہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے جواپنے عسکری اثر ورسوخ کوبڑھانے کے لئے جوہری ہتھیاروں کو ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔دوم،روس کی یوکرین جنگ،اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ جوہری دھمکیاں بھی ایک مؤثر سیاسی ہتھیاربن سکتی ہیں۔سوم، امریکاکی غیرمتوقع پالیسی یہ عنصر نہ صرف حریفوں بلکہ اتحادیوں کے لئے بھی عدم یقین پیداکرتاہے۔یہ تینوں عوامل مل کرایک ایسی فضاپیداکرتے ہیں جس میں ہر ریاست خودکوغیرمحفوظ محسوس کرتی ہےاوریہی احساس جوہری ہتھیاروں کی طرف جھکاؤ کو بڑھاتاہے۔یوکرین نےاپنے جوہری ہتھیار ترک کئےمگراسےحملے سے نہیں بچایا جا سکا ۔ یوکرین کی مثال جہاں ایک عبرت ناک داستان ہے وہاں دیگرممالک کے لئے ایک اہم اورخطرناک سبق بن چکی ہے۔اس نے اپنی جوہری صلاحیت ترک کرکے مغربی ممالک پراعتماد کیالیکن ضمانتوں کے باوجوداسے حملےسےنہیں بچایا جا سکا ،اور تین دہائیوں بعداسے اس اعتمادکی بھاری قیمت چکاناپڑی جو مسلسل ابھی جاری ہے۔یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑہےکیونکہ اس نے یہ پیغام دیاکہ بین الاقوامی ضمانتیں ہمیشہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتیں۔ یہ سبق دیگرممالک کے لئے نہایت اہم ہےاور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لئے خودپرانحصارکرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
لیبیااورشمالی کوریاکی مثالیں عالمی سیاست کے دومتضادپہلوئوں کونمایاں کرتی ہیں۔ لیبیا نے اپنے جوہری ہتھیارترک کئےاوربالآخربیرونی مداخلت کا شکار ہوکر عبرتناک انجام کو پہنچاجبکہ شمالی کوریانے اپنے پروگرام کوجاری رکھااورآج تک محفوظ ہے۔یہ تقابل جہاں عالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتاہے وہاں ایک تلخ حقیقت کوبھی ظاہرکرتاہے۔یہ تقابل نہ صرف عالمی نظام کی اخلاقی کمزوری کو بے نقاب کرتاہے وہاں عالمی نظام میں اصولوں سے زیادہ طاقت کی اہمیت ہے۔یہی وہ سوچ ہےجودیگر ممالک کوجوہری ہتھیارحاصل کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔تمام ترخدشات کے باوجودیہ کہنادرست ہوگاکہ جوہری دوڑ ناگزیر نہیں۔یہ انسان کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ جوہری ہتھیارنہ صرف مہنگے،خطرناک اور پیچیدہ ہیں، ہر ریاست انہیں حاصل نہیں کرسکتی اورنہ ہی ہر ریاست کوان کی ضرورت ہے بلکہ ان کےحصول کے ساتھ اہم اقتصادی مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں۔اگرچہ حالات اس سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں مگرتاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان نے کئی بارتباہی کے دہانے سے واپس لوٹنے کاراستہ اختیارکیا ہے۔جوہری ہتھیاروں کےحصول کے ساتھ بے شمار مشکلات جڑی ہوتی ہیں،تکنیکی پیچیدگیاں،مالی اخراجات، بین الاقوامی پابندیاں اور سفارتی تنہائی۔یہی عوامل کئی ممالک کواس راستے سے دوررکھتے ہیں۔مزید برآں عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی اقدامات،معاہدوں کی بحالی اوراعتماد سازی کی کوششیں اس دوڑکوروک سکتی ہیں۔
جوہری ہتھیاروں کی دوڑمحض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔دنیااس وقت ایک ایسے موڑپرکھڑی ہےجہاں سےدوراستے نکلتے ہیں ایک جنگ اورتباہی کی طرف، دوسراامن اورمکالمے کی طرف۔یہ فیصلہ انسان کوکرناہےکہ وہ کس راستے کاانتخاب کرتا ہے ۔تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا غرورعارضی ہوتاہےمگراس کے اثرات دیرپا۔اگرعالمی برادری نے اس موقع پردانشمندی کامظاہرہ نہ کیاتویہ جوہری دوڑایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کوبھگتنا پڑے گااوروہ ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ دنیاایک بارپھر مکالمے کی طرف لوٹے،اعتمادکی بنیادیں استوار کرے اوراس حقیقت کوتسلیم کرے کہ امن کی ضمانت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ انسان کے باطن میں پوشیدہ ہے۔ورنہ یہ جوہری دوڑایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کااختتام کسی کے حق میں نہیں ہوگانہ فاتح کے،نہ مفتوح کےبلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک مشترکہ شکست کی صورت میں۔ اگردانش،تدبر اور اخلاقی جرات کوبروئے کار لایاگیا تو شاید یہ بحران ایک نئے عالمی شعورکو جنم دے ایسا شعور جو طاقت کے بجائے امن کوترجیح دے۔جب تاریخ اپنے اوراق سمیٹتی ہے تووہ صرف واقعات درج نہیں کرتی بلکہ قوموں کے فیصلوں کاحساب بھی رکھتی ہے۔آنے والی نسلیں جب اس دورکودیکھیں گی تووہ یہ نہیں پوچھیں گی کہ کس کے پاس کتنے ہتھیار تھےبلکہ یہ سوال کریں گی کہ جب دنیاتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی توانسانیت کے پاس کتنی دانش،کتنی ہمت اورکتنی بصیرت تھی۔آج کاانسان ایک ایسے دوراہے پرکھڑاہے جہاں ایک راستہ آگ کی وادیوں میں اترتا ہے اوردوسراامن کے سبزہ زاروں کی طرف جاتا ہےمگرالمیہ یہ ہے کہ آگ کاراستہ ہمیشہ زیادہ روشن دکھائی دیتاہے چمکدار، پرکشش، مگر اندر سے کھوکھلااور مہلک۔ اگرہم نےاس فریب کونہ پہچاناتو وہ دن دورنہیں جب زمین کا سینہ بارودسے بھرجائے گااورآسمان انسان کی بے بسی کا گواہ بن جائے گامگر ابھی وقت باقی ہے۔ابھی انسان کے پاس وہ اختیارموجودہے جس کے ذریعے وہ تقدیرکا دھارا بدل سکتا ہے۔اگردلوں میں نفرت کی جگہ ہمدردی لے لے، اگرطاقت کے نشے کی جگہ عقل وتدبرکوفوقیت دی جائے، اگرمفادات کی دیواروں کوگراکر انسانیت کے پل تعمیر کئے جائیںتوشاید یہ دنیاایک بارپھرامن کاگہوارہ بن سکتی ہے۔ یہ تحریرایک گزارش ہے، ایک التجاہے،ایک عہدکی پکارہےکہ اسےصرف پڑھ کرنہ چھوڑدیاجائے بلکہ اسےدل میں جگہ دی جائے،سوچ میں بسایا جائے، اورآگےبڑھایا جائے کیونکہ امن کاپیغام بھی اسی وقت زندہ رہتاہے جب وہ دل سے دل تک پہنچےاور انسان سے انسان تک منتقل ہو۔