Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

حقوق العباد اور ہمارا طرزِ عمل

حقوق العباد کی پامالیوں کی وجہ سے آج ہمارا معاشرہ جس زبوں حالی کا شکار ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے، دکھ کی بات یہ ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی تو دور کی بات ہمارے ہاں تو اس حوالے سے سوچ بھی ناپید ہوتی جا رہی ہے ، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابط حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ باہمی معاملات میں بھی واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے انسانوں کے باہمی حقوق کو بڑی اہمیت دی ہے، خصوصاً ہمسایوں، رشتہ داروں، غلاموں اور ماتحت افراد کے حقوق کے بارے میں سخت تاکید فرمائی ہے۔ ایک مسلمان کی پہچان صرف اس کی نماز اور روزہ نہیں بلکہ اس کا اخلاق، حسنِ سلوک اور دوسروں کے ساتھ انصاف بھی ہے۔حضرت ابو رمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو ضرر پہنچائے، اللہ تعالیٰ اس کو ضرر پہنچائیں گے اور جو شخص دوسروں پر مشقت ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ملعون ہے وہ شخص جوکسی مومن کو نقصان پہنچائے یا اس کیخلاف کوئی سازش کرے۔حضرت مجاہدؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکے گھر میں بکری ذبح کی گئی،حضرت عبداللہ ؓ گھر تشریف لائے تو فرمایا؟ تم لوگوں نے ہمارے یہودی ہمسائے کو بھی گوشت بھیجا کہ نہیں؟ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جبریل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے بارے میں ہمیشہ وصیت وتاکید فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ اسے وارث بنا کے چھوڑیں گے۔
حضرت عائشہ ام المومنین صدیقہ بنت صدیقؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جبریل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے بارے میں ہمیشہ (حسن سلوک کی)وصیت وتاکید فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ اس کو وارث بنا دیں گے۔تشریح: یعنی ہمسائے کے حقوق کے بارے میں اتنی تاکید فرماتے رہے کہ مجھے گمان ہوا کہ جس طرح کسی شخص کے مرنے پر اس کے عزیز واقارب وارث ہوتے ہیں اسی طرح ہمسائے کو بھی وارث نہ بنادیا جائے، اس حدیث سے ہمسائے کے حقوق کی حفاظت میں مبالغہ مقصود ہے۔ ہمسایہ عموما ًاس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا گھر اس کے گھر سے ملا ہوا ہو، ہمسائے کا لفظ مسلم اور کافر، عابد اور فاسق، دوست اور دشمن، اجنبی اور شہری، عزیز واقارب اور اجنبی سب کو شامل ہے اور حسب مراتب ہر ہمسائے کے حقوق کی نگہداشت لازم ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں، ایک وہ ہے جس کا ایک ہی حق ہے اور وہ کافر ومشرک ہمسایہ ہے جس کے ساتھ قرابت کا کوئی تعلق نہ ہو، اس کا صرف ایک ہی حق ہے یعنی ہمسائیگی کا حق۔ اور ایک وہ ہے جس کے دو حق ہیں، یہ مسلمان ہمسایہ ہے اس کا ایک حق ہمسائیگی کا ہے، دوسرا اسلام کا اور ایک وہ ہے جس کے تین حق ہیں، یہ وہ مسلمان ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اس کا ایک حق ہمسائیگی کا ہے، دوسرا اسلام کا اور تیسرا قرابت کا۔شیخ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: ’’ہمسائے کی نگہداشت کمال ایمان میں سے ہے، اہل جاہلیت بھی اس کی نگہداشت کرتے تھے اور ہمسائے کے بارے میں جو وصیت فرمائی گئی ہے اس کی تعمیل اس طرح ممکن ہے کہ حسب طاقت اس کے ساتھ نوع درنوع حسن سلوک کیا جائے، مثلاً ہدئیے دینا، سلام کہنا، بوقت ملاقات خندہ پیشانی سے پیش آنا، اس کی خبر گیری کرنا اور جن چیزوں کی اس کو ضرورت ہو ان میں اس کی مدد کرنا اور اس نوعیت کے دوسرے امور۔ نیز ہمسائے کی ایذا کے اسباب کی مختلف قسمیں ہو سکتی ہیں حسی بھی اور معنوی بھی۔ ان تمام اسباب ایذا سے باز رہنا اور آنحضرتﷺ نے اس شخص سے ایمان کی نفی فرمائی ہے جس کی شرارتوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو اور اس بارے میں ایسا مبالغہ فرمایا ہے جس سے ہمسائے کے حق کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ کہ ہمسائے کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے اور ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں نیک اور برے ہمسائے کی حالت میں فرق ملحوظ رہے گا‘‘ ۔
ایک حدیث میں ہے کہ ’’حضرت معاویہ بن حیدہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے دریافت کیا کہ میرے پڑوسی کا مجھ پرکیا حق ہے؟ فرمایا، اگر بیمار پڑے تو اس کی عیادت کرو، اگر مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائو، اگر قرض مانگے تو قرض دو، اگر تنگ دست ہو جائے تو اس کی پردہ پوشی کرو، اس کی خوشی کے موقع پر اسے مبارکباد دو اور اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو اور اس کی عمارت سے اپنی عمارت بلند نہ کرو، جس سے اس کی ہوا رک جائے اور اپنے گھر میں(عمدہ سالن کی)ہنڈیا کی خوشبو سے اس کا جی برا نہ کرو، الا یہ کہ اس کو بھی اس میں سے کچھ دے دو‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا رفقا میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو اپنے رفیق کے حق میں سب سے اچھا ہو اور ہمسایوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہمسایہ سب سے اچھا ہے جو اپنے ہمسایہ کے حق میں سب سے اچھا ہو۔اس حدیث کے ساتھ حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنا قصہ بھی بیان فرمایا ہے، موردبن سوید کہتے ہیں میں ربذہ میں حضرت ابوذرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا کہ انہوں نے ایک حلہ پہن رکھا ہے اور ٹھیک ویسا ہی حلہ اپنے غلام کو پہنا رکھا ہے، میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میری ایک غلام کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی تھی، میں نے اس کو ماں کا طعنہ دیا، آنحضرتﷺ نے فرمایا!ابوذرؓ تجھ میں جاہلیت پائی جاتی ہے، تو نے اس کو ماں کا طعنہ دے ڈالا؟ (آگے وہی ارشاد ہے جو اوپر آچکا) ۔حضرت ابوبکرصدیقؓ آپ ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جو اپنے غلاموں اور ماتحتوں سے بدسلوکی کرنے والا ہو۔ ابن ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ’’غلام کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘تو صحابہؓ نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ!کیا آپﷺ نے ہمیں نہیں بتایا تھا کہ اس امت میں غلام اور یتیم پہلی امتوں کی بہ نسبت زیادہ ہوں گے؟ (اور عموماً غلام لونڈیوں سے لوگ اچھا سلوک نہیں کیا کرتے، اب اگر ان سے بدسلوکی جنت سے محرومی کا ذریعہ ہے تو اس امت کے زیادہ لوگ دوزخ میں جائیں گے)فرمایا، ہاں!(اس امت میں غلام اور یتیم تو ساری امتوں ںسے زیادہ ہوں گے) اس لئے تم ان سے ایسا شریفانہ برتائو کرو جیسا کہ اپنی اولاد سے کرتے ہو اور ان کو وہی کچھ کھلائو جو خود کھاتے ہو، صحابہ نے عرض کیا، پس ہمیں کون سی چیز دنیا میں نفع دے گی؟ فرمایا وہ گھوڑا جس کو تم اس مقصد کیلئے رکھو کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو اور تمہارا غلام تم کو کافی ہے اور جب وہ نماز پڑھے تو تمہارا بھائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں