Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مشرقِ وسطیٰ کا طوفان

اگراس جنگ کوصرف ایران اوراسرائیل کے درمیان ایک عسکری تصادم کے طورپردیکھاجائے تو شاید اس کی اصل نوعیت سمجھ میں نہ آئے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تقریباًہربڑی جنگ دراصل علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن کی کشمکش کامظہرہوتی ہے۔ موجودہ جنگ بھی اسی طویل تاریخی سلسلے کاایک نیاباب معلوم ہوتی ہے۔
اس خطے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے تنازعات کبھی محض دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتے بلکہ ان کے پیچھے وسیع ترجغرافیائی سیاسی مفادات کارفرماہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط سے لے کرآج تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست تین بنیادی عوامل کے گردگھومتی رہی ہے:توانائی کے وسائل،عالمی طاقتوں کی مداخلت اورعلاقائی طاقتوں کی رقابت۔موجودہ جنگ کو بھی انہی عوامل کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
گزشتہ ہفتے28فروری کی شب،جب دنیا کے بیشترحصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی،مشرقِ وسطیٰ کی فضائوں میں ایک نئی ہلچل جنم لے رہی تھی۔جمعہ اورہفتہ کی درمیانی شب اچانک امریکا اور اسرائیل نے ایران پروسیع فضائی حملوں کاآغاز کر دیا۔ چندہی گھنٹوں کے اندراندروہ خطہ جوپہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی،پراکسی جنگوں اورطاقت کے توازن کی کشمکش کامیدان رہا ہے،ایک نئی اورخطرناک جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔صبح ہوتے ہوتے دنیاکو معلوم ہو چکا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ ایران نے فوری طورپرجوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اورخطے میں موجودامریکی فوجی اڈوں کونشانہ بناناشروع کردیا۔چنددنوں میں صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پوراخطہ اس تصادم کی زدمیں آگیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ایران کی اعلی قیادت کوشدید نقصان پہنچاہے۔ ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی قیادت کے متعددافرادہلاک ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ امریکی اوراسرائیلی حملوں میں ایک ہزارسے زائدایرانی شہری مارے جاچکے ہیں جن میں ڈیڑھ سوسے زیادہ سکول کی بچیاں بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔دوسری طرف ایران کی جوابی کارروائیوں میں اسرائیلی شہریوں اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔لیکن اس جنگ کادائرہ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔لبنان،عراق اورشام کے بعداب خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کررہے ہیں۔ سعودی عرب، قطر، عمان،بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس تصادم کے سائے میں آچکے ہیں۔ایران نے ایک طرف آبنائے ہرمزکو بندکرنے کااعلان کیاہے،جبکہ دوسری طرف خلیجی ممالک کے اندرموجودتوانائی کے بنیادی ڈھانچے، امریکی سفارت خانوں اور ایئرپورٹس کوبھی نشانہ بنایاہے۔جیسے جیسے یہ جنگ پھیل رہی ہے، خطے میں جانی اورمالی نقصان بڑھتا جارہا ہے۔ اس پس منظرمیں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ اسرائیل اور امریکاکے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے خلیجی عرب ممالک اور پورے مشرقِ وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ اسی تناظر میں دو بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
ایران امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے غیرفوجی اہداف کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟
اس تنازع کاخلیجی ممالک کے باہمی تعلقات اورامریکاکے ساتھ ان کے تعلقات پرکیااثرپڑسکتا ہے؟
اگر موجودہ صورتحال کاجائزہ لیاجائے توامریکا اوراسرائیل کادعویٰ ہے کہ ایران میں کئی اہم فوجی اورسیاسی اہداف کونشانہ بنایاگیا ہے۔ان کے مطابق رہبرِاعلیٰ کے کمپاؤنڈ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹراورصدارتی دفترسمیت کئی اہم مقامات کوتباہ کیاگیا۔امریکی حکام کے مطابق پہلے 48 گھنٹوں میں ایران کے اندر1200سے زائد اہداف پرحملے کیے گئے۔دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران میں منیاب کے مقام پرایک سکول پرتین میزائل داغے گئے جن میں150 سے زائد طالبات شہید ہوئیں ۔ اسی طرح کرمان شاہ اورتبریز میں فوجی تنصیبات،جبکہ بندرعباس اورکنارکے علاقوں میں ایرانی بحری تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکی افواج نے ایران کے28بحری جہازتباہ کردئیے اورایران کے بحری ہیڈکوارٹرکو تقریباً ناکارہ بنادیا۔ایران نے پہلے ہی خبردارکیاتھا کہ اگراس پرحملہ ہواتووہ پورے خطے میں امریکی اوراسرائیلی مفادات کونشانہ بنائے گا۔ اورواقعی یہی ہوا۔ایران نے اپنی جوابی کارروائی میں اسرائیل کے علاوہ کویت،اردن، بحرین ،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پرسینکڑوں میزائل داغے اورتقریباًایک ہزارڈرون حملے کیے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر، سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری اوردبئی کی جبل علی بندرگاہ جیسے اہم مراکزکونشانہ بنایاگیا۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا امریکا کو یہ اندازہ نہیں تھاکہ ایران اس طرح پورے خطے میں جوابی کارروائی کرے گا؟تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کو اس بات کا مکمل اندازہ تھا کہ ایران ردعمل دے گا۔درحقیقت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکی فوج نے اپنی کئی اہم تنصیبات کو محفوظ مقامات پرمنتقل کردیاتھا۔بحرین میں موجود پانچویں بحری بیڑے کے کچھ جہازہٹادیے گئے، قطر کے العدید ایئربیس سے کئی طیارے منتقل کر دئیے گئے اورکچھ فارورڈآپریٹنگ پوزیشنز کواردن اوراسرائیل کے اندرمنتقل کیاگیایعنی جنگ کی قیمت اوراس کے ممکنہ اثرات پہلے ہی حساب میں لائے جاچکے تھے۔
اگرچہ فوجی نقصان کی شدت کے بارے میں مختلف آراموجودہیں،لیکن ایک چیزپرسب متفق ہیں کہ اس جنگ کی معاشی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تیل اورگیس کی عالمی قیمتیں تیزی سے اوپرجا رہی ہیں۔عالمی مارکیٹوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کارمحتاط ہوگئے ہیں۔معاشی ماہرین کاکہناہے کہ مارکیٹیں عموماً غیرمتوقع واقعات پرشدید ردعمل دیتی ہیں،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اکثر حالات معمول پرواپس آجاتے ہیں۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثرمختصر نہیں ہوتیں۔
خلیجی ممالک کے اندربڑھتی بے چینی اب ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے۔کچھ سعودی حکام اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کی دفاعی حکمت عملی کا اصل مرکزاسرائیل ہے،نہ کہ خلیجی ممالک۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکااسرائیل کی سلامتی کے بارے میں تو فوری ردعمل دیتاہے،لیکن خلیجی ممالک کوپہنچنے والے نقصانات پراتنی سنجیدگی نہیں دکھاتا۔ یہ احساس بہت حد تک درست اور خلیجی ممالک میں ایک طرح کی ناراضی کوجنم دے رہا ہے۔ سیاسی نظام جب دبائومیں آتے ہیں توان کے اندرموجود دراڑیں بھی نمایاں ہوجاتی ہیں۔یہی صورتحال اب خلیجی خطے میں نظرآرہی ہے۔
ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟یہ سوال اس جنگ کاسب سے اہم پہلو ہے۔ایران کا مؤقف یہ ہے کہ وہ براہ راست خلیجی ممالک کونشانہ نہیں بنارہابلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنا رہا ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں