Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سعودی عرب اور ایران

ریاستوں کے فیصلے اکثر عوامی جذبات سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہی فرق بعض اوقات لوگوں کو حیران بھی کرتا ہے اور ناراض بھی۔ جب خطے میں جنگ، میزائل اور دھمکیوں کی خبریں گردش کر رہی ہوں تو عوام کے ذہن میں ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے: جواب کیوں نہیں دیا جاتا؟ طاقت کیوں استعمال نہیں ہوتی؟ سعودیہ جواب کیوں نہیں دیتا؟سعودی شہزادے عبدالرحمن بن مساعد بن عبدالعزیز آل سعود (شاعر، سیاسی شخصیت اور سابق صدر الہلال کلب)سے سوال کیا جاتا ہے کہ: سعودی عرب ایران کو کم از کم ایک میزائل سے جواب کیوں نہیں دیتا؟عبد الرحمن: میں اس سوال کا جواب اس لئے دے رہا ہوں کیونکہ یہ سوال بار بار اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ خاموشی کوئی کمزوری ہو۔اگر سعودی عرب ایران پر میزائل داغ دیتا تو یہی لوگ کہتے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں شریک ہو گیا ہے۔ اس لیے جنگ میں نہ الجھنا ایک جذباتی نہیں بلکہ ایک حکمت پر مبنی ریاستی فیصلہ ہے۔اس وقت ایران پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے دبائو اور حملوں کی زد میں ہے، لہٰذا ایسی علامتی کارروائی کا کوئی حقیقی عسکری فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے ایک طاقتور شخص پہلے ہی ایک کمزور کو مار رہا ہو اور تیسرا شخص آ کر صرف ایک ہلکی ضرب لگا دے، اس سے صورتحال نہیں بدلتی۔اگر خلیجی ممالک جنگ میں شامل ہو جاتے اور بعد میں امریکا مذاکرات کے ذریعے جنگ روک دیتا، تو خطہ ایران اور خلیج کے درمیان مستقل کشیدگی میں پھنس جاتا، جس کا فائدہ کسی اور کو ہوتا۔میں تمہیں ایک ایسے ملک کی مثال دیتا ہوں جسے میں دشمن سمجھتا ہوں، یعنی اسرائیل، خلیجی جنگ کے دوران جب صدام حسین نے اسرائیل پر میزائل داغے، تو اسرائیل نے جان بوجھ کر جواب نہیں دیا تاکہ جنگ وسیع نہ ہو۔ حالانکہ وہ جواب بخوبی دے سکتا تھا۔ہر طاقت کا استعمال ضروری نہیں ہوتا۔
بعض اوقات ریاستی حکمت عملی میں صبر اور عدم ردعمل ہی اصل قوت ہوتی ہے اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے اپنے دفاعی اور اسٹرٹیجک فیصلوں سے یہی دکھایا ہے۔عام آدمی کے ذہن میں طاقت کا تصور بہت سیدھا ہوتا ہے۔ اگر کوئی حملہ کرے تو جواب دیا جائے۔ اگر کوئی دھمکی دے تو اس سے بڑی دھمکی دی جائے۔ لیکن ریاستیں جذبات سے نہیں بلکہ نتائج سے سوچتی ہیں۔ ایک میزائل کا جواب میزائل سے دینا آسان فیصلہ لگتا ہے، مگر اس کے بعد شروع ہونے والا سلسلہ اکثر قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی توقعات اور ریاستی حکمت عملی میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔خطے کی موجودہ صورتحال میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی شطرنج کا حصہ ہیں۔ اس شطرنج میں ہر چال کا ردعمل صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے خطے کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے جب یہ سوال اٹھتا ہے کہ سعودی عرب ایران کو میزائل سے جواب کیوں نہیں دیتا تو دراصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ایک علامتی ردعمل پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے؟عوام کے لئے خاموشی اکثر کمزوری لگتی ہے، مگر سفارتکاری کی زبان میں خاموشی ایک پیغام بھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات جنگ میں شامل نہ ہونا جنگ جیتنے کی پہلی شرط ہوتا ہے۔ مشرق وسطی کی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ ایک چھوٹا سا عسکری قدم برسوں پر محیط تنازع کو جنم دے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستیں فوری ردعمل کے بجائے طویل المدتی نتائج کو دیکھتی ہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ایران پہلے ہی عالمی دبا کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی نے خطے کو مسلسل عدم استحکام میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر خلیجی ممالک براہ راست عسکری ردعمل دیتے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی۔ ایک علامتی میزائل شاید عوامی جذبات کو مطمئن کر دیتا، مگر اس کا اسٹریٹجک فائدہ کیا ہوتا؟ یہی سوال اصل میں ریاستی سوچ کا مرکز ہے۔ریاستی فیصلوں میں ایک بنیادی اصول ہوتا ہے، ہر طاقت کا استعمال ضروری نہیں ہوتا۔ طاقت کا اصل مقصد استعمال نہیں بلکہ توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ جب طاقت صرف دکھانے کے لیے استعمال کی جائے تو وہ طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہی وہ فلسفہ ہے جسے اکثر عوام جذباتی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔تاریخ میں اس کی ایک اہم مثال صدام حسین کے دور میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جب خلیجی جنگ کے دوران اسرائیل پر میزائل داغے گئے تو اسرائیل کے پاس بھرپور جواب دینے کی صلاحیت موجود تھی، مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ اس فیصلے کو اس وقت بھی کئی لوگوں نے کمزوری سمجھا، مگر بعد میں یہ واضح ہوا کہ یہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا تاکہ جنگ مزید نہ پھیلے۔ جنگ کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا ہے، اس کا اختتام اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ خطے کی سیاست میں سب سے بڑا خطرہ یہی ہوتا ہے کہ ایک جنگ ختم ہونے سے پہلے دوسری جنگ شروع ہو جائے۔ اگر خلیجی ممالک ایران کے خلاف براہ راست جنگ میں شامل ہو جاتے اور بعد میں عالمی طاقتیں مذاکرات کے ذریعے جنگ روک دیتیں تو خطہ مستقل کشیدگی میں پھنس جاتا۔ اس کشیدگی کا فائدہ نہ سعودی عرب کو ہوتا نہ ایران کو، بلکہ وہ قوتیں فائدہ اٹھاتیں جو خطے کو تقسیم اور کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے، جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، معیشت، سفارتکاری اور عالمی رائے عامہ بھی جنگ کے ہتھیار ہوتے ہیں۔ جدید دنیا میں میزائل سے زیادہ اثر پابندیوں، اتحادوں اور عالمی دبائو کا ہوتا ہے۔ اس لئے کسی بھی عسکری ردعمل کو صرف فوجی زاوئیے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔عوامی جذبات فوری انصاف چاہتے ہیں، مگر ریاستی فیصلے مستقبل کے خطرات کو دیکھتے ہیں۔ ایک میزائل کا جواب عوامی غصہ ٹھنڈا کر سکتا ہے، مگر کیا وہ آئندہ دس سال کے خطرات کو کم کر سکتا ہے؟ یہی سوال ریاستوں کو صبر پر مجبور کرتا ہے۔ صبر اکثر سیاست کا سب سے مشکل ہتھیار ہوتا ہے، کیونکہ اس کا فائدہ فوری نظر نہیں آتا۔ریاستی حکمت عملی میں ایک اور پہلو بھی اہم ہوتا ہے، اتحاد۔ خلیجی ممالک کی سلامتی صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ اجتماعی نظام کا حصہ ہے۔ اگر ایک ملک جلد بازی میں قدم اٹھاتا ہے تو اس کا اثر پورے اتحاد پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے فیصلے اکثر خاموشی سے کیے جاتے ہیں اور ان کا اعلان بھی فوری نہیں ہوتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطی کی سیاست میں جذبات کی گنجائش کم اور حساب کتاب کی گنجائش زیادہ ہے۔ یہاں ہر قدم کا تعلق توانائی، تجارت، عالمی راستوں اور سلامتی سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک جنگ صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس لیے ایک میزائل کا مطلب صرف ایک دھماکہ نہیں بلکہ عالمی منڈیوں میں ہلچل بھی ہو سکتا ہے۔لوگ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر ختم کرنا مشکل۔ تاریخ میں بے شمار جنگیں ایسی ہیں جو ایک چھوٹے واقعے سے شروع ہوئیں مگر برسوں جاری رہیں۔ اسی لئے ریاستیں جنگ سے زیادہ امن کو ترجیح دیتی ہیں، چاہے وہ امن خاموشی کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔ریاستی سطح پر صبر کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی ایک شکل ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو فوری تالیاں نہیں سمیٹتی مگر طویل مدت میں استحکام پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جسے سمجھنا عوام کے لیے مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نتائج فوری دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخرکار سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا ہر حملے کا جواب حملہ ہونا چاہیے؟ یا بعض اوقات جواب نہ دینا ہی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے؟ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حکمت سے دیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں ریاستی فیصلے عوامی توقعات سے مختلف نظر آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی منطق واضح ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں