Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مشرقِ وسطیٰ کا طوفان

(گزشتہ سے پیوستہ)
تاہم ایران کی عسکری اورسیاسی حکمت عملی کوسمجھنے کے لئے اس کے تاریخی تجربات کومدنظر رکھنا ضروری ہے۔ایران نے1980ء کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ کا سامنا کیاتھاجس میں اسے شدیدجانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ کے بعدایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔اس نے روایتی فوجی طاقت کے بجائے میزائل پروگرام،ڈرون ٹیکنالوجی اورعلاقائی اتحادی گروہوں پرزیادہ انحصارکرناشروع کیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج ایران کے پاس ایک ایسا میزائل اورڈرون نیٹ ورک موجودہے جو پورے خطے میں اثراندازہوسکتاہے۔ موجودہ جنگ میں ایران اسی حکمت عملی کواستعمال کررہا ہے وہ براہ راست محاذآرائی کی بجائے مختلف محاذوں پردباؤڈال کراپنے مخالفین کو تھکانے کی کوشش کررہاہے۔
اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ خطرات کوابتدائی مرحلے میں ہی ختم کرنے کی کوشش کرے۔اسی اصول کے تحت اس نے ماضی میں عراق اورشام کے جوہری پروگراموں کونشانہ بنایاتھا۔ اسرائیل کے لئے ایران کاعسکری پروگرام اوراس کے علاقائی اتحادی ایک بڑاخطرہ سمجھے جاتے ہیں۔اسی لیے اسرائیل بارہایہ اعلان کرچکاہے کہ وہ ایران کوجوہری یاعسکری برتری حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔موجودہ جنگ کوبھی اسی پالیسی کاتسلسل سمجھاجا سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کسی بھی بڑی جنگ میں عالمی طاقتوں کاکردارہمیشہ اہم رہاہے۔امریکاتو براہ راست اس تنازع کاحصہ ہے،لیکن چین،روس اوریورپی ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں۔چین کی معیشت توانائی کے درآمدی وسائل پرانحصار کرتی ہے، اس لئے اسے خلیجی خطے میں استحکام کی ضرورت ہے۔ روس بھی اس خطے میں اپنی سفارتی اورعسکری موجودگی کو برقراررکھنا چاہتاہے۔ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ممالک جنگ بندی یاسفارتی حل کی کوششوں میں کرداراداکریں۔موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے چند ممکنہ منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔
پہلامنظرنامہ یہ ہے کہ جنگ محدوددائرے میں رہتے ہوئے چندہفتوں یامہینوں میں ختم ہوجائے۔اس صورت میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابیوں کااعلان کر کے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ طویل ہوجائے اورخطے کے مزید ممالک اس میں شامل ہوجائیں۔یہ صورتحال عالمی معیشت کے لئے انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
تیسرامنظرنامہ یہ ہے کہ بین الاقوامی دباکے نتیجے میں سفارتی مذاکرات شروع ہوجائیں اورکسی سمجھوتے کے ذریعے کشیدگی کم کردی جائے۔
ہرجنگ کی طرح اس جنگ کاسب سے بڑا نقصان عام لوگوں کواٹھاناپڑرہاہے۔شہری آبادیوں پرحملوں،نقل مکانی اورمعاشی مشکلات نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کومتاثرکیا ہے ۔بچے،خواتین اوربزرگ وہ طبقہ ہیں جوسب سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔جنگی ماحول میں تعلیم،صحت اورروزگار کے مواقع محدودہوجاتے ہیں اورمعاشرتی ڈھانچہ کمزورپڑنے لگتا ہے۔یہ انسانی پہلواکثرسیاسی بحثوں میں نظراندازہو جاتاہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی اصل قیمت یہی عام لوگ اداکرتے ہیں۔اگرمجموعی طورپر اس جنگ کاجائزہ لیا جائے تویہ واضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرایک اہم تاریخی موڑپرکھڑاہے۔اس جنگ کے اثرات صرف ایران،اسرائیل یاخلیجی ممالک تک محدودنہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اورمعیشت کوبھی متاثرکریں گے۔
یہ کہناابھی قبل ازوقت ہے کہ یہ جنگ کس سمت جائے گی،لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہاں ہونے والی جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ عالمی طاقتوں کی سیاست،توانائی کی منڈیوں اوربین الاقوامی تعلقات کوبھی نئی شکل دیتی ہیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں مؤرخین اس جنگ کواکیسویں صدی کے ان واقعات میں شمارکریں جوعالمی نظام کے توازن کوبدلنے کاسبب بنے۔
اگر اس پوری صورتحال کو ایران کے زاویے سے دیکھاجائے تویہ صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ بقاکی جنگ بن چکی ہے۔ایران واضح کرناچاہتا ہے کہ اگروہ غیرمستحکم ہواتو پورا خطہ بھی غیرمستحکم ہوجائے گا۔دوسری طرف خلیجی ممالک ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔اگرجنگ طویل ہوجاتی ہے تواس کی سب سے بڑی قیمت شاید انہی ممالک کوادا کرناپڑے گی۔ان کی معیشت،سلامتی اورعالمی سرمایہ کاری سب خطرے میں ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ اس جنگ کاحقیقی میدان شایدایران اوراسرائیل نہ ہوں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ہو۔اورتاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں شروع ہوتی ہیں توان کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیاکومتاثرکرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں