Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کشمیر! افلاطونی سیاست اور قرآنی و فلاحی خدمات

ریاست آزاد جموں و کشمیر ایک ایسی دھرتی ہے جس نے بڑے بڑے جبال علم اور کبار علماء اور سیاست دان پیدا کئے ہیں، ہر شعبے کا ماہر فن اپ کو اس دھرتی پر کسی نہ کسی صورت میں نظر آئے گا، سیاست دان بھی ملے گا تاجر بھی ملے گا مولوی بھی ملے گا قران کا قاری و خادم بھی ملے گا جس وقت بھی جس چیز کا ماحول ہو اس وقت میں اس چیز کے ماہر دیکھنے کو ملتے ہیں،یہ خاکسار مظفرآباد،دھیر کوٹ، باغ ،عباسپور،فاروڈ کہوٹہ ،راولا کوٹ،میر پور اور کشمیر کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان شہزادوں کو بھی جانتا ہے کہ جو مقبوضہ کشمیر کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع میں بھارتی فوج کے درندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادتوں کے جام نوش کر کے “قبرستان شھیداں” کا رزق بن گے،سیاست کے “آوے ہی آوے اور جاوے ہی جاوے”کے بے ہنگم شور شرابے میں اگر کوئی جہاد کشمیر کے “بیس کیمپ”کے نقوش تلاش کرنا بھی چاہے تو اسے دھندلاہٹ کے علاؤہ ایک آدھ “بونا ” سیاست کے ڈھیر سے “عزت” تلاش کرتا ہوا ملے گا، چنانچہ ایسے ماحول میں اس خاکسار کی کوشش ہوتی ہے کہ افلاطونی سیاست کشمیری ہو یا پاکستانی بونا کردار سیاست دانوں کی بجائے مینارہ نور کے ذریعے دین اسلام کے خوبصورت پیغام کو عام کیا جائے ،چند سالوں سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں دینی مدارس کے طلباء کے درمیان قران مجید کے مسابقوں اور مقابلوں کا ماحول اور رجحان دیکھنے کو ملا، اس خاکسار کو قرآن مجید کے ایسے کئی مسابقات میں شرکت کا موقع ملا ، قرآن مجید کے شاندار مسابقو ں میں شرکت کے بعد اندازہ ہوا کہ ان مسابقات کا سہرا بھی سرزمین کشمیر کے ایک سپوت کے سر سجتا ہے، جئید علمائے کرام اور مشائخ عظام اپنی زبان سے جس شخصیت کو قران مجید کے خادم کا لقب دے چکے ہیں ،کیونکہ جس شخص کے شب و روز قران مجید کی تعلیم کو عام کرنے اور اس فکر میں گزر جائیں کہ کسی طرح قرآن مجید کا کام بہتر سے بہتر ہو سکے، یقینا وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اسے خادم قران کہا جائے۔انہی لوگوں میں سے ایک نام خادم قران حضرت مولانا عبدالوحید صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا ہے جن کے ماضی میں قران مجید کے منعقد کیے گئے مسابقات کی ایک طویل فہرست ہے، حال ہی میں 23 اپریل 2026 دھیر کوٹ آزاد کشمیر کے مقام پر ریاست بھر کے مدارس کے مابین ایک عظیم الشان مسابقہ حفظ القرآن الکریم مع تجوید منعقد کیا، جس میں ریاست بھر کے نامور مدارس کے طلبہ شریک ہوئے۔۔۔ قران مجید کی تعلیم کو کیسے مدارس میں بہتر کیا جا سکتا ہے؟اور پھر قرآن پاک کی تعلیم کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرنا یقیناً ایک مستحسن عمل ہے، صرف یہی نہیں بلکہ قران مجید کی خدمات کے ساتھ ساتھ رفاہی اور فلاحی خدمات کا جال بھی بچھا رکھا ہے، ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ اس شخصیت کے بنائے گئے پانی کے منصوبوں سے سیراب ہو رہے ہیں کچھ ایسی آفشور فلاحی خدمات ہیں، جس کی مثالیں کسی بڑی سے بڑی این جی اوز میں بھی نہیں ملتیں ،بہرحال یہ ساری خدمات دیکھنے کے بعد خیال ایا کہ اس شخصیت کے پاس تو جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے نائب امیر کا عہدہ بھی ہے، لیکن خدمات کے بدلے میں عوام کی طرف سے ان کو ووٹ کے ذریعے اسمبلی میں پہنچانا اس لئے آسان نہیں، کیونکہ خدمات نہیں بلکہ برادری ازم کی بنیاد پر افلاطونی سیاست اپنا رنگ جماتی ہے،جہاد کشمیر کے بیس کیمپ میں مولانا عبد الوحید نے قرآنی تعلیم کو عام کرنے اور فلاحی خدماتِ کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ نظریات فروشی کر کے اسمبلی کا ممبر بننے سے ہزار درجے بہتر ہے. ریاست آزاد جموں و کشمیر اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علمی، دینی اور سماجی خدمات کی ایک روشن تاریخ بھی رکھتی ہے۔ یہ دھرتی صرف سرسبز پہاڑوں اور بہتے دریاؤں کی سرزمین نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی آماجگاہ ہے جنہوں نے علم، دین، سیاست اور فلاحی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہاں کے لوگ ہمیشہ سے اپنے عقیدے، تہذیب اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے حساس رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس خطے سے ہر دور میں ایسے افراد سامنے آتے رہے ہیں جو معاشرے کی اصلاح اور خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔کشمیر کے سماجی اور دینی ماحول کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں دین اسلام سے وابستگی صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ مدارس دینیہ، مساجد اور فلاحی ادارے اس معاشرتی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہیں۔ انہی اداروں کی بدولت نئی نسل نہ صرف قرآن مجید اور دینی علوم سے روشناس ہو رہی ہے بلکہ اخلاقی اور سماجی تربیت بھی حاصل کر رہی ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم و اشاعت کا سلسلہ خصوصاً اس خطے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہی تعلیم نوجوانوں کے کردار کی تعمیر اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں قرآن مجید کے حفظ اور تجوید کے مقابلوں کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی خوش آئند علامت ہے کہ معاشرے میں دینی شعور اور قرآن سے محبت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے مقابلے نہ صرف طلبہ کے اندر مقابلے کی مثبت فضا پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں محنت، نظم و ضبط اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی طرف راغب بھی کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے پیچھے کئی مخلص افراد اور اداروں کی شبانہ روز محنت شامل ہوتی ہے جو کسی صلے یا شہرت کی خواہش کے بغیر یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔فلاحی خدمات کے میدان میں بھی کشمیر کے لوگ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ صاف پانی کے منصوبے، تعلیمی معاونت، غریبوں کی مدد اور قدرتی آفات کے وقت امدادی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں خدمت خلق کو عبادت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان خدمات کے پیچھے اکثر ایسے افراد ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں اور اپنی پہچان سے زیادہ اپنے کام کو اہمیت دیتے ہیں۔آج کے دور میں جب سیاست اکثر ذاتی مفادات اور برادری ازم کے گرد گھومتی نظر آتی ہے، ایسے ماحول میں دینی و فلاحی خدمات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ معاشرے کو ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو عملی خدمت کو ترجیح دیں اور نئی نسل کے لیے مثبت مثال قائم کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرتی ہم آہنگی، اخلاقی بہتری اور اجتماعی ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔اس پورے جائزے کے بعد یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ معاشروں کی اصل تعمیر سیاست کے نعروں سے نہیں بلکہ خدمت، اخلاص اور کردار کی طاقت سے ہوتی ہے۔ جب کوئی فرد اپنی زندگی کو دین کی خدمت، قرآن مجید کی تعلیم کے فروغ اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کی خدمات محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر اور تحریک کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقتی سیاسی مفادات اور برادری ازم کی سیاست اکثر ایسے مخلص کرداروں کو وہ مقام نہیں دے پاتی جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی خدمات وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہوتی جاتی ہیں اور آنے والی نسلیں انہیں مشعلِ راہ کے طور پر یاد رکھتی ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ ایسے مثبت کرداروں کی حوصلہ افزائی کریں، خدمت اور اخلاص کے جذبے کو فروغ دیں اور اپنی نئی نسل کو علم، دین اور فلاح کے راستے پر گامزن کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف فرد کی کامیابی بلکہ پوری قوم کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے۔ یہی پیغام اس مضمون کا خلاصہ اور اس کا اصل مقصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں