(گزشتہ سے پیوستہ)
کیا جیفری ایپسٹن کی تین ملین دستاویزات جس میں2ہزارسے زائدویڈیوز،ایک لاکھ 80 ہزارسے زائد تصاویرکے پیچھے کوئی ناقابل فہم داستان چھپی ہوئی ہے؟آخرکوئی کیوں اپنے اس قدرہولناک جرائم کااتنامکمل اورمستقل ریکارڈ بنائے گا؟اس کاپیمانہ ہمیں جواب دیتاہے، یہ صرف ایک آدمی کی بدحالی کاریکارڈنہیں تھا،یہ عالمی اشرافیہ کی کرپشن کاذخیرہ تھا،فائلوں میں ارب پتیوں،غیرملکی معززین، شہزادیوں، ماہرین تعلیم اعلیٰ سفارت کاروں اورجی ہاں،امریکاکے سابق اور موجودہ صدرکے نام بھی موجودہیں۔
ہم نے فحش ای میلز،جنسی طورپرواضح خطوط، مجرمانہ تصاویردیکھی ہیں لیکن یہ سمجھوتہ کرنے والے موادسے کہیں آگے ہے، ایپسٹین پراقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں جنسی غلامی،تشدد اورقتل سمیت بچوں کے خلاف جرائم کے ثبوت بھی موجود ہیں۔یہ تصورکہ طاقتورافرادایک دوسرے پررازکے ذریعے اثرانداز ہوتے ہیں، نیا نہیں۔ سردجنگ کے دورسے لے کر جدید سفارت کاری تک، معلومات ہمیشہ ایک طاقت رہی ہے۔توہم مرکزی سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ سب کیوں ریکارڈ کیاگیا؟جیفری ایپسٹن کے چھوٹے جزیرے سینٹ جیمزپرچھپے ہوئے کیمرے ذاتی تسکین کے لئے نہیں تھے،وہ ایک ٹول تھے۔ایپسٹین فائدہ اٹھانے کی ایک لائبریری بنارہاتھا، اب یہ بڑے پیمانے پربتایاگیاہے کہ وہ ایک انٹیلی جنس اثاثہ تھا،اسرائیل کے موسادسے آرڈرلے رہاتھا۔ مقصدواضح تھاکہ زمین کے طاقتورترین لوگوں کو جرائم کے جال میں پھنسایا جائے،جس کامقصدان سب کوایک غیر ملکی قوم صہیونی اسرائیل کی مرضی کے مطابق جھکانا ہے۔
یہ انکشاف کہ خفیہ کیمرے اورریکارڈنگ کسی وسیع تردبائو ؤیااثرورسوخ کے نظام کاحصہ تھے، ایک ایساخیال ہے جوجدیدسیاسی تجزئیے میں بارہا ابھرتا ہے۔تاریخ میں بھی ہمیں ایسے اشارے ملتے ہیں جہاں معلومات کوطاقت کے طورپراستعمال کیاگیاہے۔یہ تصورکہ راز، اقتدارکا خاموش سکہ ہیں،کسی تعارف کامحتاج نہیں۔سیاست کے ایوانوں میں جہاں مسکراہٹیں سفارت ہوتی ہیں وہیں پسِ پردہ معلومات کا تبادلہ ایک غیرمرئی قوت کے طورپرموجودرہتا ہے۔ طاقتورافرادایک دوسرے پررازکے ذریعے اثرانداز ہوتے ہیں،یہ حربہ نیانہیں۔سرد جنگ کے دورسے لے کر جدید سفارت کاری تک،معلومات ہمیشہ ایک طاقت رہی ہے۔ مگریہاں ایک اہم سوال اٹھتاہے،کیا ہرراز، غلامی کاسبب بنتاہے؟یابعض اوقات یہ محض انسانی کمزوری کاعکس ہوتاہے،نہ کہ کسی منظم عالمی جال کاثبوت؟ جیساکہ کہاجاتا ہے،ہر سرگوشی سازش نہیں ہوتی،اور ہر سایہ دیوارنہیں ہوتا جیسا کہ ’’جنگ کی ہنگامہ خیزی میں سچ اس قدرنایاب اورقیمتی ہوجاتاہے کہ اس کی نگہبانی کے لئے جھوٹ کے محافظ کھڑے کرنے پڑتے ہیں،سچ بہت قیمتی ہوتاہے مگریہ ہمیشہ وضاحت کامحتاج رہتاہے‘‘۔ حقیقت اوربیانیہ اکثرایک دوسرے میں گڈمڈہو جاتے ہیں۔
آج کے اس پر فتن دورمیں ہرباضمیراورامن پسندانسان پوچھ رہاہے کہ کیا آپ نے کبھی کسی عالمی رہنماکواپنے ہی لوگوں کے مفاد کے خلاف اتنا حیران کن،اتناظالمانہ فیصلہ کرتے دیکھاہے؟غزہ کونہ صرف کھنڈرات میں تبدیل کرکے جبری طورپروہاں اپنی مرضی کانیا سیاحتی شہربنانے کے لئےاسی خطے کے دیگرممالک کوسرمایہ فراہم کرنے کاحکم دیاجائے اوراس کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کاواضح اعلان کرکے بادی النظرمیں ناجائز اورظالم ملک اسرائیل کوتحفظ فراہم کرنے کے پلان کوعملی طورپرحقیقت بنایاجائے۔یہ کہ آپ نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہے،ایک لیڈراس قدر اتفاقی طورپرشہریوں پربمباری کرکے ہزاروں لوگوں کی ہلاکتوں کی نگرانی کرسکتا ہے،غیرملکی رہنمائوں کواغوایاقتل کرسکتاہے اوربغیرکسی پچھتاوے کےجھوٹ بول سکتاہے،وہ خودکواتنے معصوم کیسے محسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں یقین ہوکہ وہ بیکس اورمعصوم بچوں، عورتوں، بوڑھوں ،اور جوانوں کے قتل سے بچ سکتے ہیں اور پھربھی دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں۔ایبسٹن فائلیں ایک خوفناک معقول جواب فراہم کرتی ہیں۔وہ اس طرح کام نہیں کررہے کیونکہ وہ مضبوط ہیں؟وہ اس طرح کام کررہے ہیں کیونکہ وہ سمجھوتہ کررہے ہیں،ان کا ماضی ان کے خلاف ایک ہتھیارہے کیونکہ وہ کرتے ہیں جوانہیں کہاجاتا ہے ،وفاداری کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اپنے جرائم کےانکشاف کے خوف یارازداری کی حفاظت کی اشد ضرورت کے تحت ان جرائم کاارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں اوران جرائم کاراستہ ہمیں ٹرمپ تک بھی پہنچاتاہے۔ان کے فیصلہ سازی کی افراتفری کو دیکھیں ،فوڈ اسٹامپ ،میڈیکیڈ اور ہاؤسنگ سبسڈی میں کمی کرتےہوئے اربوں ڈالرزکےفوجی ہارڈویئراسرائیل کوبھیجے گئے ۔ ٹیرف کا ہتھیار بنانا،غزہ میں جنگی جرائم میں غیر متزلزل شراکت،اوراب ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کی طرف بڑ ھناجوتیسری جنگ عظیم شروع کرنے کاحقیقی امکان لئے ہوئے ہے۔
یہ سوال بجاہے کہ بعض عالمی فیصلے عوامی مفادسے متصادم کیوں محسوس ہوتے ہیں۔ جنگیں، پابندیاں اورسیاسی اتحادیہ سب بسااوقات ایسے نتائج پیداکرتے ہیں جواخلاقی طورپر تشویشناک ہوتے ہیں مگران کی وجوہات کوصرف ایک خفیہ سازش تک محدودکردینا ضرورت سے بڑھ کرسادہ کاری اورسہل ہوگاجبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
عالمی رہنماؤں کو کسی منظم منصوبے کے تحت قابوکیاجاتاہے،بظاہرایک نہایت سنگین مفروضہ رہاہے۔ جب کوئی عالمی رہنماایسافیصلہ کرتاہے جوعوامی مفادکے خلاف محسوس ہو،تودل میں ایک اضطراب جنم لیتاہے۔ مگرکیاہرمتنازع فیصلہ کسی خفیہ دباؤکانتیجہ ہوتاہے؟ یہاں ہمیں سیاسی پیچیدگی کوپوری سنجیدگی کے ساتھ دیکھناہوگا۔ تاریخی طور پر ،داخلی سیاست،بین الاقوامی تعلقات اور دباؤ ، معاشی مفادات، طاقت کے توازن، اورسفارتی اور دفاعی حکمت عملی کامرکب رہے ہیں اوریہ سب عوامل مل کرفیصلوں کی تشکیل کرتے ہیں، نہ کہ صرف خفیہ دباؤکانتیجہ۔ہم اس خیال کوکہ رہنمااپنے ماضی کے بوجھ تلے دب کرفیصلے کرتے ہیں،یاکسی رازکی وجہ سے مجبورہوجاتے ہیں،ایک دلکش، پرکشش مگرخطرناک مفروضہ بھی قرارنہیں دے سکتے لیکن اگران فیصلوں کو بلیک میلنگ کانتیجہ قراردیں،تواس سے جہاں اداروں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے،جمہوری عمل نظراندازہونے کے خدشات کا سامنا کرناپڑتا ہے،وہاں انسانی قدروں کوبے قدری اوربے توقیری کا سامناکرناپڑتا ہے۔ یادرکھیں کہ انسان کمزور ہو سکتا ہے ، مگر ہر کمزوری غلامی پرمجبورنہیں کرسکتی۔ اگرچہ انسانی کمزوری ایک حقیقت ہے،مگر اداروں ،آئینی ڈھانچوں،اورجمہوری عمل کو نظر انداز کر دیناہمیں حقیقت سے دورلے جاسکتا ہے۔
(جاری ہے)