Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جلیل القدر شیخ الحدیث مولانا ادریس کی مظلومانہ شہادت

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید ،مولانا یوسف لدھیانوی شہید ،مولانا سعید جلال پوری شہید ، مولانا اعظم طارق ،مولانا حسن جان،مولانا معراج الدین ، مولانا نور محمد شہید،مولانا سمیع الحق شہید ،مولانا محمد عبداللہ شہید،مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید ،یہ تو شہید علما کے چند نام ہیں،وگرنہ ایسے جید علماء ومشائخ کی تعداد سینکڑوں میں ہے کہ جنہیں شیطانی نظریات کے حامل دہشت گرد گروہوں نے اپنی دہشت و وحشت کا نشانہ بنایا ،اس خاکسار کا ان شہید علماء ومشائخ سے براہ راست تعلق رہا ان کی محبتیں اور شفقتیں ہمارے سروں پر سایہ فگن رہیں، یہ سب کے سب اللہ کے عاجز اور سچے بندے اور رسول اکرم ﷺکے عاشق صادق اور انسانوں میں علم و حکمت اور نورانی علوم کی دولت بانٹنے والے تھے، شیخ الحدیث مولانا ادریس ؒ محض ایک شخصیت نہیں، بلکہ برِصغیر کے ان جلیل القدر شیوخِ حدیث میں سے تھے جن کا وجود قحط الرجال کے اس عہد میں غنیمت تھا۔حضرت شیخ کی علمی جلالت اور عوامی مقبولیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اس کا منہ بولتا ثبوت منگل کی شام آپ کا وہ جنازہ تھا جس نے زمین کے سینے پر ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا انسانی سمندر برپا کر دیا۔ آپ بیک وقت جامعہ حقانیہ اور جامعہ نعمانیہ جیسے عظیم علمی مراکز میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کر رہے تھے۔ پاکستان کے ان بڑے جامعات میں، جہاں دورہ حدیث کے طلبہ کی کثرت کسی مدرسے کے معیار کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہاں حضرت شیخ کا دو عظیم اداروں میں بخاری شریف کا درس دینا ان کے محدثانہ مقام اور عظمت کی واضح دلیل تھی۔
بلاشبہ آپ اس عہد کے سلطان المحدثین تھے۔قابلیت کا یہ عالم کہ اُفق کی بلندیوں کو چھوئے، مگر عاجزی اور انکساری ایسی کہ فرشِ خاک کی سادگی کو مات دے دے۔ آپ کی گفتگو میں وہ حلاوت اور مٹھاس تھی کہ گویا لفظوں سے شہد ٹپک رہا ہو۔ بالخصوص پشتو زبان میں آپ کا اندازِ بیاں اتنا سہل اور عام فہم تھا کہ علم کے پیاسے ہوں یا عام لوگ ہر کوئی سیراب ہوتا۔ آپ نفیس الطبع اور تقویٰ و طہارت کا جیتا جاگتا نمونہ تھے، آپ کا ظاہر و باطن سراپا دین کا ترجمان تھا۔ افسوس صد افسوس! کہ اس پیرانہ سالی میں بھی آپ کو سفاک قاتلوں نے نشانہ بنایا۔ یہ سمجھنے سے عقل قاصر ہے کہ کسی شقی القلب دشمن کے سینے میں انتقام کی کیسی آگ تھی کہ اس نے علم و عرفان کے اس مرکز کو لہو میں نہلا دیا۔ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے اکابر دشمن کے لئے تر نوالہ بن چکے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ بڑی شاہراہوں پر پولیس اور عوام کے ہجوم میں، قاتل بلا خوف و خطر وار کر کے نکل جاتا ہے۔ شائد اتنی آسانی سے کوئی مرغی والا اپنی دکان کے دڑبے سے مرغی نکال کر ذبح نہیں کر تا ہو گا، جتنا ہمیں علماء کی شہادتوں پر بے بسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دنیا کا دستور ہے کہ حق والوں کے مقدر میں گالیاں بھی ہیں اور گولیاں بھی۔ گالیوں سے دامن بچانا شاید ممکن نہ ہو مگر کم از کم گولی سے بچنے کے لئے تدبیر کرنا عین سنتِ نبوی ﷺ ہے، معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے۔ جب بھی کسی عالمِ دین کی ناگہانی اور پرتشدد موت کی خبر آتی ہے تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک پورے فکری سلسلے کے رک جانے کا خدشہ بن جاتی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت کی خبر نے اہلِ علم، اہل مدارس اور عام مسلمانوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیاہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک شخصیت کے سفر کا اختتام ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے بدلتے ہوئے مزاج اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی ایک تلخ علامت بھی ہے۔ مولانا محمد ادریس کا تعلق ایسے علمی ماحول سے تھا، جہاں دین کی خدمت کو زندگی کا مقصد سمجھا جاتا ہے۔ 1961ء میں ضلع چارسدہ کے نواحی علاقے میں پیدا ہونے والے مولانا ادریس نے ابتدائی تعلیم مقامی مکتب سے حاصل کی۔ ان کے والد بھی دین سے گہرا تعلق رکھتے تھے، اس لئے بچپن ہی سے ان کے دل میں علمِ دین کی محبت راسخ ہو چکی تھی۔دینی علوم کے حصول کے لئے انہوں نے مختلف معروف مدارس کا رخ کیا جہاں انہوں نے فقہ، حدیث اور تفسیر جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک کے ممتاز ادارے جامعہ دارالعلوم حقانیہ پہنچے، جہاں سے انہوں نے دور حدیث مکمل کیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جس نے ان کی علمی شخصیت کو مکمل طور پر نکھار دیا،تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا محمد ادریس نے تدریس کے میدان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
1983ء میں انہوں نے باقاعدہ تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنے حلق درس میں ایک سنجیدہ اور محنتی استاد کے طور پر پہچانے جانے لگے۔تقریباً تین دہائیوں پر محیط تدریسی زندگی میں انہوں نے ہزاروں طلبہ کو علمِ حدیث پڑھایا۔ ان کے شاگرد آج ملک کے مختلف حصوں میں مساجد، مدارس اور جامعات میں دین کی خدماتِ سر انجام انجام دے رہے ہیں۔ ان کا اندازِ تدریس سادہ، مدلل اور معتدل تھا۔ وہ مشکل علمی مباحث کو بھی آسان انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں