بلوچستان میں ریاست دشمن عناصر کی سرگرمیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ حقوق کے نام پر سادہ لوح بلوچ نوجوانوں کو ورغلا کر دہشت گردی کے جہنم میں جھونکا جارہا ہے۔ ریاست مخالف نفرت انگیز بیانئے کے ذریعے نوجوانوں کی تخریبی کاروائیوں کے لئے زہن سازی کا جال اب سیدھی سادی بلوچ خواتین پر بھی ڈالا جارہا ہے۔ تسلسل سے ایسے واقعات کا انکشاف ہو رہا ہے کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے اور اس سے وابستہ دہشت گرد گروہ گھریلو خواتین کو خودکش حملوں کے لئے استعمال کرنے کی مہلک حکمت عملی پر کاربند ہیں ۔ قومی سلامتی کے اداروں کی ہمہ وقت کاوشوں سے بہت سے دہشت گرد حملے ناکام بنائے جا چکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں چیف منسٹر بلوچستان کی پریس کانفرنس میں ایسے ہی ایک دہشت گرد منصوبے کا انکشاف کیا گیا کہ جو اگر بروقت ناکام نہ بنا یاجاتا تو وفاقی دارلحکومت میں بہت بڑی تباہی مچ جاتی۔ چیف منسٹر کے ساتھ پریس کانفرنس میں ایک نوجوان بلوچ لڑکی بھی موجود تھی۔ خیر النسا نامی یہ لڑکی بھی کالعدم بی ایل اے کے ہر کاروں کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔ پریس کانفرنس میں جو چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق خیر النسا کو اس کے ایک کزن نے ڈرا دھمکا کر خود کش حملے کے لیے مجبور کیا ۔آنے والے دنوں میں اس لڑکی کو تربت سے وفاقی دارالحکومت منتقل کروا کر خود کش حملے کے بھیانک منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جانا تھا۔ خفیہ ادارے اگر بروقت اس منصوبے کو بے نقاب نہ کر پاتے تو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بہت بڑی تباہی سے دوچار ہو جاتا۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دہشت گرد حملے کے منصوبہ ساز اسلام آباد میں حملہ کروا کر بیک وقت کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بنوں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملے کے لیے اس دن کا تعین کیا گیا کہ جب پوری قوم ازلی دشمن بھارت کی عسکری جارحیت کے خلاف معرکہ حق میں تاریخی کامیابی کا جشن منا رہی تھی ۔بلوچستان میں امن اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں کی تکمیل بھارت جیسے ازلی دشمن کو ہرگز منظور نہیں۔ گزشتہ برس معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانے کے بعد بی جے پی کی حکومت مسلسل تلملاہٹ کا شکار ہے۔ عسکری اور سفارتی محاذوں پر پاکستان کی بے مثال برتری نے ہندوستان کی مودی سرکار کی جلن اور حسد میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے مودی سرکار پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ افغانستان میں دستیاب پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گرد حملے کروا رہے ہیں۔ کالعدم بی ایل اے اور اس سے وابستہ مختلف دہشت گرد دھڑے اس ایجنڈے پر کاربند ہیں کہ بلوچستان میں نسلی تعصب کی آگ اس انداز میں بھڑکائی جائے کہ پورا صوبہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے جھوٹے بیانیے پھیلائے جاتے ہیں، سادہ لوح بلوچ نوجوانوں سے قلم و کتاب چھین کر ان کے ہاتھوں میں ہتھیار تھمائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کے پیچیدہ سکیورٹی حالات کو مسلسل جذباتی کہانیوں، یکطرفہ الزامات اور سوشل میڈیا پراپیگنڈا کے ذریعے اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے ہر واقعے کے پیچھے صرف ریاستی جبر ہو، جبکہ زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف اور خطرناک ہے۔ بی وائی سی پنجگور کی سابق صدر ادیبہ ظہیر کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ بی وائی سی کے بعض پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصا خواتین، کو جذباتی اور اشتعال انگیز بیانیوں کے تحت ریاستی اداروں کے خلاف متحرک کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے۔ ادیبہ ظہیر نے خود اعتراف کیا کہ وہ بی وائی سی کے جلسوں، احتجاجی سرگرمیوں اور ریاست مخالف نعرہ بازی کا حصہ رہیں، مگر اب وہ ان سرگرمیوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے تنظیم سے لاتعلقی اختیار کر رہی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ اس نوعیت کے انکشافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی مختلف بیانات میں اس بات کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ بی وائی سی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو آہستہ آہستہ ایک ایسے انتشاری بیانیے کی طرف دھکیلا گیا جہاں احتجاجی سیاست اور انسانی حقوق کے نام پر ریاست مخالف سوچ کو معمول بنایا گیا۔ خاص طور پر یہ خدشات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں کہ بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین، کو علامتی اور عملی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کے سہولت کار نیٹ ورکس سوشل میڈیا اور سیاسی فرنٹس کے ذریعے نرم ہمدردی پیدا کرتے ہیں۔ہر قانونی کارروائی، تفتیش یا حراست کو فوری طور پر جبری گمشدگی اور فاشزم قرار دینا اب ایک منظم حربہ بن چکا ہے۔ بلوچستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور شدت پسند پراپیگنڈا مشینری کے خلاف کارروائیوں کو جان بوجھ کر سیاسی مظلومیت کا رنگ دیا جاتا ہے تاکہ عالمی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی خدشات، شدت پسند روابط اور مشکوک سرگرمیوں کے تناظر میں کئی افراد قانون کی گرفت میں آتے ہیں، مگر انہیں فوری طور پر سیاسی کارکن بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔قتل جیسے واقعات کو بھی بغیر کسی عدالتی یا تفتیشی نتیجے کے فورا ریاست سے جوڑ دینا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد گروہ خود بھی خوف، خاموشی اور اندرونی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، لیکن ہر واقعے کا الزام فورا ریاست پر ڈال کر ایک مخصوص بیانیہ گھڑا جاتا ہے تاکہ اصل دہشتگرد نیٹ ورکس پس منظر میں چلے جائیں۔اصل سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں فورسز، مزدوروں، اساتذہ، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں پر ہونے والے دہشتگرد حملوں پر یہی حلقے خاموش کیوں رہتے ہیں؟ کیوں ہر ایسے فرد یا خاندان کو فوری طور پر مزاحمت کی علامت بنایا جاتا ہے جس کے روابط متنازع سیاسی نیٹ ورکس سے ہوں؟ انسانی حقوق کا مطلب یہ نہیں کہ دہشتگرد بیانیوں، ریاست مخالف مہمات اور شدت پسند نیٹ ورکس کو مکمل استثنی دے دیا جائے۔ بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ امن، ترقی اور استحکام بندوق، بارودی مواد اور انتشاری سیاست سے نہیں بلکہ آئینی اور قومی دھارے سے جڑے رہنے میں ہے۔دہشت گرد گروہ بلوچ روایات کے برعکس گھریلوخواتین کو دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی اس بات کا وضح ثبوت ہے کہ نام نہاد گروہ دراصل بلوچ عوام کے ہمدرد نہیں بلکہ ان کے دشمن ہیں۔