Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

آزاد کشمیر!منکرین ختم نبوت کی بڑھتی سرگرمیاں

کراچی میں رہائش پذیر کشمیری علماء کرام ، آزاد کشمیر میں منکرین ختم نبوت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصے متفکر ہیں،جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر سندھ زون کے سرپرست مولانا عبدالوحید، سینئر نائب امیر مفتی عزیز الرحمن دانش، ادارہ معارف القرآن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی واضح علیحدگی کو ریاستی آئین، اسلامی تشخص اور انتخابی شفافیت کا ناگزیر تقاضا قرار دیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے سرپرست مولانا عبدالوحید نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر محض ایک خطہ نہیں، بلکہ نظریہ الحاقِ پاکستان اور اسلامی شناخت کی بنیاد پر قائم ایک اہم ریاستی وحدت ہے، اس لئے اس کے آئینی، انتخابی اور قانونی ڈھانچے میں اسلامی اصولوں اور عقیدہ ختم نبوت کے تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی غیر واضح رجسٹریشن نہ صرف آئینی ابہام پیدا کرتی ہے بلکہ مستقبل میں قانونی و انتخابی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ان نے کہا کہ پاکستان میں دوسری آئینی ترمیم 1974ء کے ذریعے قادیانیوں کو باقاعدہ طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا، جبکہ انتخابی قوانین، شناختی دستاویزات اور ووٹر رجسٹریشن کے نظام میں مذہبی شناخت کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ اسی تناظر میں آزاد کشمیر کے انتخابی نظام کو بھی واضح آئینی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا عزیز الرحمن دانش نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں قادیانیوں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی موجودگی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، مگر ووٹر لسٹوں میں ان کی مذہبی حیثیت واضح طور پر درج نہ ہونا ایک سنگین آئینی و قانونی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ رہنماں کے مطابق جب ریاستی سطح پر غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق، عبادت گاہوں اور مذہبی ضروریات کو تسلیم کیا جا چکا ہے تو انتخابی ریکارڈ میں بھی ان کی آئینی شناخت کو واضح انداز میں درج کیا جانا چاہیے۔رہنمائوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے ہمیشہ حساس اور بیدار رہے ہیں اور ماضی میں بھی ریاست بھر کے علما، دینی جماعتوں اور عوام نے اسلامی تشخص کے دفاع کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں میں مذہبی شناخت کی وضاحت کسی طبقے کے خلاف اقدام نہیں، بلکہ آئین، قانون اور انتخابی نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کی ایک قانونی و آئینی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹوں میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی علیحدگی واضح نہ کی گئی تو مستقبل میں انتخابی تنازعات، قانونی اعتراضات اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر جدید ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم کے تحت ووٹر ڈیٹا کی ازسرنو جانچ کرے اور مذہبی شناخت کے حوالے سے واضح اور شفاف طریقہ کار اختیار کرے۔رہنماں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں موجود بعض غیر مسلم افراد کو ووٹر ریکارڈ میں مسلمان ظاہر کئے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو نہ صرف آئینی تقاضوں کے منافی ہے، بلکہ انتخابی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نادرا، الیکشن کمیشن اور متعلقہ ریاستی ادارے مشترکہ طور پر ووٹر لسٹوں کا تفصیلی آڈٹ کریں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط اندراج یا ابہام کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔جے یو آئی رہنماں نے اس امر پر زور دیا کہ ہائیکورٹ آزاد کشمیر کے مختلف فیصلے، اسلامی نظریاتی تقاضے اور اسمبلی میں پیش کی جانے والی متعدد قراردادیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ریاستی قوانین اور انتخابی نظام کو مکمل طور پر اسلامی اور آئینی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں میں واضح مذہبی تفریق نہ ہونے کی صورت میں انتخابی شفافیت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد بھی مجروح ہو سکتا ہے۔انہوں نے آزاد کشمیر حکومت، قانون ساز اسمبلی اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں میں مسلم اور غیر مسلم ووٹرز کی مستقل، واضح اور الگ رجسٹریشن کے لیے فوری آئینی و قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ ریاست کے اسلامی تشخص، آئینی تقاضوں اور انتخابی شفافیت کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے ریاست بھر کے علماء، وکلا، سیاسی و سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس اہم آئینی و دینی مسئلے پر مشترکہ آواز بلند کریں تاکہ آزاد کشمیر کا انتخابی نظام ہر قسم کے ابہام سے پاک اور مکمل طور پر آئین و قانون کے مطابق بنایا جا سکے۔آزاد کشمیر اپنی نظریاتی اساس، اسلامی شناخت اور پاکستان کے ساتھ روحانی و سیاسی رشتے کی بنیاد پر ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس ریاست کے آئینی، قانونی اور انتخابی نظام کا ایسا ہونا ناگزیر ہے جو نہ صرف شفاف اور منصفانہ ہو بلکہ عوام کے مذہبی و نظریاتی جذبات کی حقیقی ترجمانی بھی کرے۔ ووٹر لسٹوں میں مذہبی شناخت کی وضاحت کا مطالبہ دراصل اسی وسیع تناظر میں سامنے آتا ہے جہاں انتخابی شفافیت، قانونی وضاحت اور عوامی اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں انتخابی نظام پر اعتماد ہی جمہوری استحکام کی بنیاد بنتا ہے، اور اگر اس بنیاد میں ابہام پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات دیرپا اور دور رس ہو سکتے ہیں۔یہ امر بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی آئینی شناخت کا اعتراف ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے مذہبی شناخت کی درست رجسٹریشن کو کسی طبقے کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتظامی و قانونی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد انتخابی عمل کو ہر قسم کے تنازع اور شکوک و شبہات سے محفوظ بنانا ہے۔ جدید ڈیجیٹل دور میں جب ریاستی ادارے ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جدید نظام اختیار کر رہے ہیں، تو ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں بہتری بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے، سیاسی جماعتیں، علماء، وکلا اور سول سوسائٹی باہمی تعاون اور سنجیدگی کے ساتھ ایسے اقدامات کی حمایت کریں جو قانون کی حکمرانی، انتخابی شفافیت اور ریاستی استحکام کو مضبوط بنائیں۔ باہمی احترام، آئینی دائرہ کار اور قومی یکجہتی کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو مستقبل میں کسی بھی قسم کے اختلاف یا تنازع کی بنیاد نہ بنیں۔ یہی طرزِ فکر ایک مضبوط، مستحکم اور پر اعتماد انتخابی نظام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں