Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بدبودار سسٹم کے ڈھیر پہ انمول پنکیاں ؟

جب تک پاکستان میں بوسیدہ اور بدبودار نظام رائج رہے گا اس وقت تک “انمول پنکیاں”قوم کے بچوں اور بچیوں کو نشے میں غرق کرتی رہیں گی،کہیں میرا جسم میری مرضی والی آنٹی شیما کرمانی اور کہیں کو کین گرل انمول پنکی؟24کروڑ انسانوں پر مشتمل اسلامی جمہوریہ پاکستان نظام اسلام کے نفاذ کے لئے ترس رہا ہے, ہر کوئی کان کھول کے سن لے، جب تک پاکستان میں خلفاء راشدین والا مبارک نظام نافذ نہیں ہوتا اسوقت تک یہاں انمول پنکیاں پیدا ہوتی رہیں گی،موجودہ سسٹم منشیات فروشوں ،رسہ گیروں ،بے حیائی و فحاشی پھیلانے والوں ،قبضہ گروپوں ، سرمایہ داروں اور رشوت خوروں کے مفادات کا کھلے عام محافظ ہے،کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی، جسے پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر قرار دیا جارہا ہے، پر الزام ہے کہ وہ طلبہ، بااثر شخصیات اور مختلف شہروں تک پھیلے ہوئے ایک بڑے نیٹ ورک کو منشیات فراہم کرتی تھی۔ رپورٹس کے مطابق وہ خود نہایت مہنگی اور اعلیٰ معیار کی کوکین تیار کرتی تھی، جبکہ اس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ مولانا امان اللہ حقانی نے درست لکھا کہمنشیات کسی بھی قوم کے نوجوانوں کو تباہ کرنے کا سب سے خطرناک ہتھیار ہوتی ہیں۔جب تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات اور عام نوجوان اس لعنت کا شکار ہونے لگیں تو یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے عناصر دولت، طاقت اور اثرورسوخ کے ذریعے معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیتے ہیں،اس معاملے میں ایک پہلو جس نے عوام کی خاص توجہ حاصل کی،وہ ملزمہ کو عدالت میں پیش کرنے کا انداز تھا۔عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا کہ ایک انتہائی مطلوب ملزمہ، جو درجنوں مقدمات میں مفرور رہی، اسے بغیر ہتھکڑیوں کے عدالت میں پیش کیا گیا،جبکہ پولیس اہلکار اس کے پیچھے چلتے دکھائی دیے۔ایک اور پہلو،جو سب سے زیادہ قابلِ توجہ ہے،یہ ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت کی تعلیمات، اخلاقی و معاشرتی اقدار اور مشرقی تہذیب پر رکھی گئی ہے۔ عدالت میں پیشی کے وقت ملزمہ نے جو اخلاق باختہ لباس زیبِ تن کر رکھا تھا،وہ عدالت جیسے باوقار ادارے کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ایسا مختصر اور بے پردہ لباس نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ پاکستانی معاشرتی اقدار کے بھی منافی ہے،اس کے بے باکانہ انداز اور طرزِ لباس سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ وہ اخلاقی تعفن پھیلانے والوں کی نمائندہ سوچ کی حامل ہے۔پاکستان کا آئین واضح طور پر اس امر پر زور دیتا ہے کہ ملک کے قوانین اور اجتماعی ماحول کو قرآن و سنت کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ ہماری معاشرتی روایات بھی حیا، پردے اور شائستگی کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عام شہری کسی ادارے میں غیرمناسب لباس کے باعث روکا جاسکتا ہے تو پھر عدالت جیسے مقدس اور باوقار ادارے میں اس معاملے پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ حالانکہ معزز جج صاحبان ان تمام حساس پہلوؤں سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔جج صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ سماعت سے قبل ملزمہ کو سنے بغیر مناسب اور درست لباس کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت دیتے، کیونکہ عدالت صرف قانون نافذ کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ریاستی وقار، اخلاقی سنجیدگی اور معاشرتی اقدار کی علامت بھی ہوتی ہے۔ جب عدالت جیسے اداروں میں ایسی چیزوں کو نظرانداز کیا جائے تو معاشرے میں یہ پیغام جاتا ہے کہ شاید ہماری دینی اور اخلاقی حساسیت کمزور پڑچکی ہے۔اگر عدلیہ قرآن و سنت، آئین اور معاشرتی روایات کے احترام کو نمایاں اور مقدم نہ رکھیں تو معاشرے میں بے راہ روی اور اخلاقی انتشار بڑھنے کا خدشہ مزید گہرا ہوجاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عدالتوں سمیت تمام قومی ادارے اپنے ماحول، ضابطوں اور طرزِ عمل میں اسلامی اور معاشرتی اقدار کے احترام کو واضح طور پر برقرار رکھیں، تاکہ قوم کا اعتماد بھی قائم رہے اور نئی نسل کے سامنے ایک مثبت مثال بھی پیش کی جاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی مضبوطی صرف معاشی ترقی یا بلند عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے اخلاقی، سماجی اور فکری ڈھانچے سے جانی جاتی ہے۔ جب ایک قوم کے نوجوان منشیات جیسے زہر کی لپیٹ میں آنے لگیں، جب قانون کی عملداری کمزور نظر آنے لگے اور جب ریاستی اداروں کے وقار پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ لمحۂ فکریہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں محض وقتی ردعمل یا جذباتی بیانات مسئلے کا حل نہیں بنتے بلکہ سنجیدہ، مربوط اور مستقل اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ امر بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ معاشرتی بگاڑ کبھی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جس میں بے حسی، لاپرواہی، قانون کی کمزور عملداری، اور اخلاقی تربیت کی کمی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ کم ہوجائے اور برائی کو معمول سمجھ لیا جائے تو پھر اس کے اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں انفرادی، اجتماعی اور ادارہ جاتی سطح پر خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کے ذہن، جسم اور کردار کو نشے، بے راہ روی اور مایوسی سے آلودہ ہونے دیا جائے تو مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بھی فروغ دیں۔ والدین، اساتذہ اور سماجی رہنما سب کو مل کر ایسی فضا قائم کرنی ہوگی جہاں نوجوان مثبت سرگرمیوں، علم، ہنر اور تخلیقی سوچ کی طرف راغب ہوں۔ریاستی اداروں کا کردار اس تمام عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ قانون کی برابری اور شفافیت وہ ستون ہیں جن پر عوام کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ جب عام شہری کو یہ محسوس ہو کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، تو معاشرے میں نظم و ضبط اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح عدالتیں، پولیس اور دیگر ادارے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ہیں بلکہ وہ معاشرے کے لیے اخلاقی مثال بھی ہوتے ہیں۔ ان کے طرزِ عمل، فیصلوں اور ماحول سے عوام کے دلوں میں اعتماد اور احترام پیدا ہوتا ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی اصلاح صرف تنقید سے ممکن نہیں۔ تنقید کے ساتھ ساتھ تعمیری سوچ، مثبت اقدامات اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور عام شہری سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ منشیات کے خلاف آگاہی مہمات، نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کا فروغ، اور قانون کی سخت عملداری جیسے اقدامات اس سمت میں اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں انصاف مضبوط ہو، اخلاقیات کو اہمیت دی جائے، اور نوجوانوں کو محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کیا جائے۔ یہ مقصد صرف حکومتی اقدامات سے حاصل نہیں ہوگا بلکہ ہر فرد کو اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے اصلاح کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ اگر ہم نے آج سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر ہم نے اتحاد، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ قدم بڑھایا تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس پر ہم سب فخر کر سکیں اور جس میں ہماری آنے والی نسلیں محفوظ، باوقار اور باصلاحیت زندگی گزار سکیں۔

یہ بھی پڑھیں