وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خلع اور نان نفقہ کے مقدمات میں تیزی سے اضافہ صرف ایک عدالتی یا خاندانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی بحران بنتا جا رہا ہے۔ خاندان، جو کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا ہے، جب عدم استحکام کا شکار ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بچوں، خاندانوں اور پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس تشویشناک صورتحال کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں جہاں فیملی کورٹس میں روزانہ سینکڑوں نئے مقدمات کا اندراج معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مسئلے کو صرف عدالتی اعداد و شمار کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے پس منظر میں کارفرما معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی عوامل کو بھی سمجھا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے بڑے شہروں میں خاندانی تنازعات کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، مگر وفاقی دارالحکومت کی صورتحال خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ فیملی کورٹس میں یومیہ تین سو سے زائد مقدمات کا اندراج اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے مسائل اب نجی دائرے سے نکل کر عدالتی نظام پر بوجھ بن چکے ہیں۔ جب عدالتی اوقات کے ہر گھنٹے میں درجنوں مقدمات دائر ہوں تو یہ صرف قانونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ معاشرتی عدم توازن کی علامت بن جاتا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں معاشی دبائو سرِفہرست ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور مالی عدم استحکام نے گھریلو تنازعات کو شدت دی ہے۔ جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں تو ازدواجی زندگی میں تنا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک ایسا عنصر ہے جس نے خاندانی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ نشے کی لت نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ گھریلو تشدد، عدم اعتماد اور ذہنی دبائو میں بھی اضافہ کرتی ہے، جو بالآخر علیحدگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
سماجی رویوں میں تبدیلی بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ جدید دور میں خواتین میں شعور اور قانونی آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث وہ ناانصافی یا بدسلوکی برداشت کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر مثبت ہے کیونکہ یہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی نشاندہی کرتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ آخر ایسا کیا ہو رہا ہے کہ ازدواجی رشتے اس تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں۔یہ صورتحال صرف عدالتوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ تک محدود نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے کیسز بچوں کی نفسیاتی صحت، تعلیم اور سماجی تربیت پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو محض قانونی اعداد و شمار کے بجائے ایک قومی سماجی چیلنج کے طور پر دیکھا جائے اور اس کے حل کے لئے مربوط حکمت عملی تیار کی جائے۔یہ رپورٹ اسی بڑھتے ہوئے رجحان کے اسباب، اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ معاشرہ اس سنگین مسئلے کی گہرائی کو سمجھ سکے اور خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جا سکیں۔ایک بڑے اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ،وفاقی دارالحکومت میں خلع کی شرح میں خطرناک اضافہ، فیملی کورٹس میں یومیہ 300 سے زائد مقدمات دائر ہونے لگے ،خلع،نان نفقہ کے اوسطاً 38ً کیسز فی گھنٹہ دائر ہونے لگے، امسال تعداد 45ہزار سے تجاوز کر چکی،وکلا کا کہنا ہے کہ منشیات اور بے روزگاری کے باعث طلاق اور خلع کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے،فیملی کورٹس میں مقدمات کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔ ذرائع کے مطابق عدالتی اوقات کے ہر گھنٹے میں اوسطاً 38خلع اور نان نفقہ کے کیسز دائر ہو رہے ہیں۔
خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور جب یہی بنیاد کمزور ہونے لگے تو معاشرتی ڈھانچہ بھی لرزنے لگتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خلع اور نان نفقہ کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ایک واضح اشارہ ہے کہ ہمارا سماج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں فوری توجہ اور سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ یہ محض عدالتی فائلوں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں، بکھرتے ہوئے گھروں اور غیر یقینی مستقبل کی داستان ہے۔یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ازدواجی زندگی میں مشکلات ہمیشہ سے موجود رہی ہیں، مگر موجودہ دور میں ان مشکلات کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ معاشی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور منشیات کا پھیلا وہ عوامل ہیں جنہوں نے گھریلو سکون کو متاثر کیا ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے، جب ذہنی دبائو روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے اور جب اعتماد کی فضا کمزور پڑ جائے تو ازدواجی رشتہ سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔ یہی مسائل عدالتوں کے دروازوں تک پہنچ کر خلع اور نان نفقہ کے مقدمات کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تاہم اس صورتحال کو صرف منفی زاویے سے دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک پہلو خواتین میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور خودمختاری بھی ہے۔ آج کی عورت اپنے حقوق سے واقف ہے اور ظلم یا ناانصافی کو خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کر رہی ہے۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ ازدواجی زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے اور نبھانے کے لئے مناسب رہنمائی فراہم کر رہا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف عدالتوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے حل کے لئے سماجی سطح پر اقدامات کریں۔ شادی سے پہلے رہنمائی اور کونسلنگ کا نظام متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ نوجوانوں کو ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں، صبر و برداشت اور باہمی احترام کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح منشیات کے خاتمے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنے جیسے اقدامات بھی خاندانی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریاست، معاشرہ اور تعلیمی ادارے اگر مل کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کریں تو اس بڑھتے ہوئے رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ میڈیا اور علماء بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ برداشت، مفاہمت اور خاندانی اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔ کیونکہ ایک مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کی ضمانت ہوتا ہے۔آخرکار، پاکستان کے مستقبل کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کو کس حد تک محفوظ اور مستحکم بنا پاتے ہیں۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ بڑھتا ہوا رجحان ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھیں، اس پر مکالمہ کریں اور ایسے اقدامات کریں جو گھروں کو ٹوٹنے سے بچا سکیں اور معاشرے کو مضبوط بنیادیں فراہم کر سکیں۔