Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

قدرت کاانتقام

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہربحران ایک فیصلہ کن موڑپرپہنچتاہے جہاں انتخاب ناگزیرہوجاتاہے۔یواے ای کے لئے یہ لمحہ بھی آچکاتھا۔پینتالیس دن کامحاصرہ کسی بھی معیشت کوہلا دینے کے لئے کافی ہوتاہے۔ ذخائر ختم ہونے لگے،کرنسی گرنے لگی،امیدیں دم توڑنے لگیں اوراعتمادختم ہورہا تھا۔ وہی پاکستان جس کودباؤمیں لانے کے لئے فوری طورپرعالمی بینک میں مشروط شرائط کے لئے رکھے گئے قرض کی فوری واپسی کا کہا گیا ، یواے ای کے مربیوں نے اس طرح پاکستان کا بازومروڑنے کامشورہ دیاتھا لیکن بات الٹی گلے کو پڑگئی اورپاکستان نے چاردن کے نوٹس میں اس قرض کی مکمل ادائیگی کرکے اس شکنجے سے اپنی گردن چھڑالی لیکن مجبوری بھی کیاچیز ہوتی ہے کہ خودی کو سرنگوں کردیتی ہے۔اس مشکل حالات میں پاکستان سے ثالثی کی درخواست اس بات کاثبوت تھی کہ یواے ای اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔ایسے میں ثالثی کی کوششیں شروع ہوئیں،مگر نتائج وہ نہ نکل سکے جن کی توقع تھی۔جب جواب میں سردمہری ملی تویہ واضح ہوگیاکہ اب کھیل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔
بالآخروہی ہواجوتاریخ میں اکثرہوتاآیاہے کمزورکو جھکناپڑتاہے۔آخرکاریواے ای کووہی کرنا پڑا جس سے وہ بچناچاہتاتھا۔اوپیک میں واپسی،بھاری ٹرانزٹ فیس،اوراخلاقی نقصان کابوجھ،یہ سب اس بات کی قیمت تھے جوایک غلط فیصلے کے بدلے اداکی گئی۔یہاں ایک گہراسبق پوشیدہ ہے:دولت عمارتیں بناسکتی ہے،مگر اسٹریٹیجک گہرائی نہیں خریدسکتی ۔ طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ حکمت سے حاصل ہوتی ہے۔ یواے ای نے طاقت کودولت میں تلاش کیا،جبکہ حقیقت جغرافیہ کے سینے میں چھپی ہوئی تھی۔
عالمی سیاست کی بساط پرمہرے مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔امریکا،چین،اورایران کے درمیان تعلقات نے ایک نئی شکل اختیارکرلی تھی۔ ٹرمپ اورچینی صدرکی ملاقات کے بعد آبنائے ہرمزکاچین کے لئے کھل جانا عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ تھا۔ ایران، جوکبھی دباؤمیں تھا،اب مصالحتی میزپرمضبوط پوزیشن میں آچکاتھا۔یواے ای نے جن مہروں پراعتمادکیاتھا،وہ یکے بعد دیگرے گرنے لگے۔ شطرنج کی یہ بازی اب اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔یواے ای،جوخودکوایک اہم کھلاڑی سمجھ رہاتھا،اب اس کھیل میں ایک کمزور مہرہ بن چکاتھا۔آخرکاروہ وقت آیاجب سب کچھ خاموش ہوگیا۔شور،جوکبھی طاقت کی علامت تھا،اب سناٹے میں بدل چکاتھا۔اورپھروہ وقت آیاجب محلات کے مندر سنسان ہوگئے،آوازیں دب گئیں،اورطاقت کے دعوے خاموشی میں بدل گئے۔’’ہورچوپو‘‘یہ لفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے،ایک ایساالمیہ ج اس وقت جنم لیتاہے جب غرورحقیقت سے ٹکرا جائے۔
یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتورکے ساتھ نہیں بلکہ سمجھدارکے ساتھ ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے محل ریت پربناتی ہیں ،وہ ایک دن ہواکے ایک جھونکے سے بکھرجاتی ہیں۔یہ انجام اس بات کی یاددہانی تھاکہ غرورکاانجام ہمیشہ زوال ہوتا ہے۔تاریخ کاپہیہ کبھی رکتانہیں، اورجو اس کے ساتھ نہیں چلتاوہ اس کے نیچے آجاتاہے۔ جب تاریخ اپنا فیصلہ سناتی ہے تواس کے الفاظ میں نہ جذبات ہوتے ہیں نہ رعایت،وہ صرف حقائق کی روشنائی سے وہ سچ لکھ دیتی ہے جسے مٹایانہیں جا سکتا ۔ دبئی کی چمکتی ہوئی راتیں، بلندوبالا عمارتیں اور دنیا کو مرعوب کرنے والی چکاچوند،یہ سب ایک لمحے میں اپنی معنویت کھوبیٹھتے ہیں جب تقدیرکا پہیہ الٹتا ہے۔
یہ داستان ہمیں پھراسی بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے کہ غرورصرف اللہ کی صفت ہے۔ جواسے اپنازیوربناتاہے،وہ دراصل اپنی بربادی کی بنیادرکھتاہے۔جب ایک فردکویہ حق نہیں کہ وہ دوسرے کی چادرکوہاتھ لگائے،توپھرکوئی ریاست، کوئی اتحاد،کوئی طاقت یہ جسارت کیسے کرسکتی ہے کہ اللہ کی چادرِکبریائی کوچھونے کی کوشش کرے؟یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ سزادیتی ہے ،خاموش مگر قطعی۔نہ توپیں بولتی ہیں،نہ میزائل گرتے ہیں،مگر جغرافیہ، معیشت، اور سفارت کے نام پرایک ایسا محاصرہ قائم ہوجاتاہے جوکسی بھی جنگ سے زیادہ ہولناک ہوتاہے۔دبئی کامعجزہ جب لرزنے لگا،تو دراصل یہ عمارتیں نہیں بلکہ ایک تصور ٹوٹ رہاتھاوہ تصورکہ دولت سب کچھ خریدسکتی ہے ۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ دولت راستے نہیں بناتی، جغرافیہ بناتاہے، طاقت عمارتوں سے نہیں،حکمت سے جنم لیتی ہے اور بقاء سرمایہ سے نہیں، انکساری سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ انجام صرف ایک ملک کانہیں،بلکہ ایک سبق ہے،ایساسبق جوہراس قوم کے لئے ہے جواپنے فیصلے غرورمیں کرتی ہے۔تاریخ کے دربارمیں کوئی وکیل نہیں ہوتا،کوئی اپیل نہیں ہوتی،و ہاں صرف اعمال پیش ہوتے ہیں اورفیصلے صادرہوتے ہیں اور جب فیصلہ صادر ہوتاہے،توپھروہی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے:کہ جواللہ کی چادرکو چھونے کی جسارت کرے،وہ محفوظ نہیں رہتا۔یہی قانونِ قدرت ہے،یہی فیصلہ تاریخ،اوریہی اس داستان کا حاصل۔
یہ داستان محض ایک ملک کی نہیں بلکہ ایک اصول کی ہے،وہ اصول جوکہتاہے کہ طاقت کاتوازن ہمیشہ حقیقت کے ساتھ ہوتاہے،نہ کہ خواہش کے ساتھ۔ یہ پوری کہانی ایک آئینہ ہے ،ایساآئینہ جس میں ہم اپنی غلطیوں،اپنی کمزوریوں اوراپنی خواہشات کاعکس دیکھ سکتے ہیں۔یہ محض یو اے ای کی داستان نہیں بلکہ ہراس ریاست کی کہانی ہے جوطاقت کے نشے میں حقیقت کوفراموش کردیتی ہے۔ جوقومیں اپنے فیصلے جذبات یاغرورمیں کرتی ہیں،وہ آخرکارتاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہیں اورتاریخ صرف فیصلہ سناتی ہے۔تاریخ کاقلم کبھی معاف نہیں کرتا؛وہ صرف لکھتاہے اورجولکھ دیاجائے،وہ پھرمٹایانہیں جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں