گلگت بلتستان الیکشن اپنے اختتام کو پہنچے،ایسے نتائج سامنے آئے جس کی کسی کو توقع نہیں تھی-گلگت بلتستان کا محل وقوع دیکھیں تو یہ علاقہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔1840 ء سے پہلے یہ سارا علاقہ مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ہنزہ اور ننگر ہار خود مختار علاقے تھے جبکہ ان علاقوں کو جنرل زور آور نے فتح کر کے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔تقسیم ہند کے وقت ریاست کشمیر کا پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ اٹھا،تو ریاست کے اکثریتی باشندوں کی خواہش کے برخلاف مہاراجہ کشمیر نے ہندوستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا الحاق کر دیا۔اس وقت گلگت سکاٹس کے مقامی افسران کی رہنمائی میں مقامی لوگوں نے مہاراجہ کشمیر اور اس کی فوج کے خلاف بغاوت کی اور شکست دے کر گلگت سمیت دیامر،استور اور بلتستان کے اکثریتی علاقے آزاد کرا لیئے کچھ عرصہ گلگت میں مقامی لوگوں کی حکومت رہی۔جس کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے پولیٹیکل ایجنٹ بھیج کر گلگت بلتستان کو اپنے زیر انتظام کر لیا۔گلگت بلتستان کا دارالخلافہ گلگت ہے۔جبکہ سب سے بڑا شہر سکردو ہے۔گلگت بلتستان کی اپنی ہائی کورٹ ہے جب کہ باقی نظام ویسے ہی ہے جیسے پاکستان میں چلتا ہے۔اس کا رقبہ27,991مربع میل یعنی 72,496 کلومیٹر ہے۔آبادی 1,492,924 نفوس پر مشتمل ہے۔ گلگت بلتستان میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں شینازبان،گوجری،بلتی،وخی، بروشسکی، کھوار اور ڈوما لکی شامل ہیں۔ریاست کی دفتری زبان اردو ہے۔گلگت بلتستان کے تین ڈویژن اور 14اضلاع ہیں جبکہ تحصیلوں کی تعداد 31ہے۔یہاں 113یونین کونسلیں ہیں اور ریاستی اسمبلی میں ممبران کی تعداد 24 ہے۔ یہاں بولی جانے والی تمام زبانوں میں سب سے بڑی زبان شینا ہے۔جو یہاں کے 65فیصد لوگ بولتے اور سمجھتے ہیں۔یہیں ہنزہ بھی ہے جو بہت خوبصورت تفریحی مقام ہے۔
پاکستان اور غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے اکثر سیاح یہاں سیاحت کے لئے آتے ہیں۔گرمیوں میں سیاحوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔جس سے مقامی لوگوں کا روزگار چلتا ہے اور وہ خوب پیسہ کماتے ہیں۔گلگت بلتستان سے ملحق سات ہزار میٹر سے بلند 50چوٹیاں ہیں۔دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش بھی یہاں آ کر ملتے ہیں۔دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے جبکہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشیر بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے قدیم زمانے میں چینی سیاح جب اس علاقے میں داخل ہوئے تو یہاں پلولا نامی ریاست قائم تھی جو،اب گلگت بلتستان کے نام سیجانی جاتی ہے۔ساتویں صدی میں اس کے بعض حصے تبت میں چلے گئے اور وہاں کی شاہی حکومت کا حصہ بن گئے۔نویں صدی آئی تو یہ علاقہ کئی مقامی ریاستوں میں بٹ گیا۔1947ء میں برصغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہاں بھی آزادی کی شمع جلنے لگی تو کرنل مرزا حسن خاں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پورے علاقے کو ڈوگرہ استبداد سے آزاد کرا لیا۔گلگت بلتستان پر 1848 ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجا نے بزورِ طاقت قبضہ کر لیا تھا اور ان کا یہ قبضہ طویل عرصہ جاری رہا۔پاکستان آزاد ہوا تو یہ علاقہ تبت میں شامل تھا،تاہم یہاں رہنے والوں کی اکثریت پاکستان کا حصہ بننا چاہتی تھی۔1948 ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی۔اس آزادی کا آغاز گلگت سے ہوا۔یکم نومبر 1947 ء کو گلگت پر ریاستی فوج کے مسلمان افسروں نے قبضہ کر لیا اور آزاد گلگت کا اعلان کر دیا۔اس آزادی کے 16دن بعد پاکستان نے اس کی آزاد حیثیت ختم کر کے یہاں ایف سی آر نافذ کر دی۔آزادی کے بعد سے یہ علاقہ ایک گمنام علاقہ سمجھا جاتا تھا۔جو شمالی علاقہ جات کے نام سے بھی مشہور ہوا۔ لیکن 2009 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دے دیئے۔یہ واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں چار ملکوں سے ملتی ہیں۔اسی وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم بھی گزرتی ہے۔ 2009 ء میں اس علاقے کو نیم صوبائی حیثیت دے کر پہلی مرتبہ یہاں عام انتخابات کرائے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیراعلی منتخب ہوئے۔جون 2026ء میں یہاں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی یہاں کی مقبول ترین جماعت ہے۔
گلگت بلتستان کے اس الیکشن میں تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن)پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں جبکہ جمعیت علمائے السلام (ف)نے بھی الیکشن میں حصہ لیا۔تحریک انصاف کے امیدواروں نے پارٹی ٹائٹل اور پارٹی نشان (لوگو)کے بغیر انتخاب لڑا۔ہر پارٹی نے اپنی انتخابی کمپین بھرپور طریقے سے چلائی۔ تاہم نتائج کے بعد پتہ چلا کہ پی ٹی آئی یہاں ایک ہزیمت زدہ جماعت بن چکی ہے۔اس کے حمایت یافتہ صرف دو آزاد امیدوار ہی کامیاب ہو سکے۔الیکشن کمپین کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،ان کی بہن اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کافی دن گلگت بلتستان میں گزارے اور مختلف اضلاع میں کئی عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔جبکہ نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کے کئی وزیر جن میں سابقہ وزیر بھی شامل تھے،بڑھ چڑھ کر اپنی انتخابی مہم چلاتے رہے۔سوشل میڈیا نے بھی اس دوران گلگت بلتستان الیکشن کی دھوم مچائے رکھی۔ہر جماعت کے میڈیا سیل نے اپنی استعداد اور بساط کے مطابق اپنی انتخابی مہم کو بھرپور طریقے سے چلانے کی کوشش کی لیکن 9 جون کو الیکشن کے اختتام پر ٹی وی پر رزلٹ آنے شروع ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی ووٹوں کی اکثریت سے سرفہرست تھی۔کہتے ہیں جو جماعت عنانِ حکومت میں ہو یعنی وفاق میں حکومت کر رہی ہو،گلگت بلتستان اسی کا ہوتا ہے۔اسی جماعت کی یہاں حکومت بنتی ہے لیکن 2026 ء کے انتخابی نتائج نے ان دعوں کو غلط ثابت کر دیا۔خواجہ سعد رفیق کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرنی ہی تھی کیونکہ وہ بڑے عرصے سے یہاں موجود ہے اور تنظیمی ڈھانچہ بھی یہاں کافی مضبوط ہے۔یہی سبب اس کی کامیابی کی وجہ بنا۔انتخابی نتائج تحریک انصاف کے لیئے بہت مایوس کن رہے۔ایک طرح سے اگر یہ کہا جائے کہ گلگت بلتستان میں اس کا صفایا ہو گیا تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔مسلم لیگ (ن)کی موجودگی میں اس بڑی کامیابی پر پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی لیڈر شپ یقینی طور پر بہت زیادہ مبارکباد کی حق دار ہے۔