Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

علم کے میناروں پر زوال کے سائے

دیگر شعبوں کی طرح پاکستانی تعلیمی نظام کی حالت زار آج انتہائی تشویش ناک ہے۔ عالمی سطح پر یونیورسٹیوں کی تازہ ترین درجہ بندیوں میں پاکستانی ادارے ایک بار پھر نیچے گرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد عالمی سطح پر 381نمبر پر آئی ہے جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 384 نمبر پر۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ تعلیم نہ صرف ترقی نہیں کر رہی بلکہ مسلسل زوال کا شکار ہے۔ یہ صرف چند یونیورسٹیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے جو قومی ترقی کے لیے بنیادی ستون ہونا چاہیے تھا۔تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تعلیم کمزور ہوتی ہے تو معاشرہ، معیشت اور سیاست سب متاثر ہوتے ہیں۔ آج پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی صورتحال دیکھیں تو دل دکھتا ہے۔ ہزاروں طلبہ خواب دیکھتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئر یا سائنسدان بنیں گے لیکن حقیقت میں ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ فنڈز کی کمی، تحقیق کی عدم حوصلہ افزائی، استادوں کی بھرتی میں سیاست کرپشن اور بین الاقوامی تعاون کی کمی نے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی رینکنگ جیسے کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز 2027ء میں کوئی پاکستانی یونیورسٹی ٹاپ 350میں جگہ نہیں بنا سکی۔ یہ شرمناک حقیقت ہے کہ ہمارے بہترین ادارے بھی عالمی معیار سے کوسوں دور ہیں۔قائد اعظم یونیورسٹی جو پاکستان کی نمبر ایک یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے پچھلے سال عالمی درجہ بندی میں 354نمبر پر تھی اور اب 381 پر آ گئی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)بھی 371سے 384پر گر گئی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز 560کے قریب، پنجاب یونیورسٹی588 اور(لمز)لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز 608کے آس پاس ہے۔ یہ گرائوٹ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہماری قومی صلاحیت کے زوال کی نشاندہی کرتی ہے۔
رینکنگ کے مختلف پہلوئوں جیسے اکیڈمک ریپیوٹیشن، تحقیق کے حوالے سے حوالہ جات، بین الاقوامی فیکلٹی کا تناسب اور ملازمت دہندگان کی رائے میں ہم پیچھے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں زوال کی وجوہات گہری ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ فنڈنگ کا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مسلسل فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ یونیورسٹیوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں ہوتی رہتی ہیں جس سے نئی عمارتیں، تجربہ گاہیں اور جدید آلات خریدنے میں رکاوٹ آتی ہے۔ استادوں کی تنخواہوں میں بروقت اضافہ نہ ہونے سے بہترین دماغ باہر جانے لگتے ہیں۔ برین ڈرین ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے باصلاحیت پروفیسرز اور محققین یورپ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں چلے جاتے ہیں جہاں انہیں بہتر سہولیات اور تنخواہ ملتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے اداروں میں تجربہ کار اساتذہ کی کمی ہو رہی ہے۔تحقیق کا معیار بھی گر رہا ہے۔ عالمی رینکنگ میں حوالہ جات فی فیکلٹی جیسے اہم انڈیکیٹرز میں ہماری کارکردگی محدود ہے۔ چند یونیورسٹیوں جیسے قائد اعظم یونیورسٹی حوالہ جات میں نسبتا بہتر ہے لیکن مجموعی طور پر تحقیق صنعتی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انڈسٹری کے ساتھ تعاون کم ہے جس سے گریجویٹس مارکیٹ میں نوکریاں نہیں پا سکتے۔ بے روزگاری کی شرح اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بھی بلند ہے جو طلبہ کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے ہر سال لاکھوں طلبہ و طالبات بیرون ممالک جا کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کرپشن نے تعلیم سمیت ہر شعبے میں گھر کر لیا ہے۔ داخلہ، فیکلٹی بھرتی، تحقیق کی گرانٹس اور حتی کہ امتحانات کے نظام میں سفارش اور رشوت کا راج ہے۔ اہل اور لائق طلبہ جو محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں پاکستان کی خراب صورتحال دیکھ کر باہر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ بیرون ملک تعلیم نہ صرف بہتر معیار، جدید نصاب اور تحقیق کی سہولیات فراہم کرتی ہے بلکہ مستقبل میں اچھی نوکری اور ترقی کے مواقع بھی کھولتی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کی یہ ہجرت قومی دولت اور انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔ جو سرمایہ ریاست نے ان کی بنیادی تعلیم پر خرچ کیا وہ بیرون ملک جا کر دوسری قوموں کی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے۔ یہ برین ڈرین پاکستان کی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جب ہمارے باصلاحیت دماغ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں تو مقامی یونیورسٹیوں کا معیار مزید گرتا جا رہا ہے اور یہ ایک تباہ کن چکر بن چکا ہے۔پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی رسائی بھی محدود ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں یونیورسٹیوں تک رسائی مشکل ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم میں مزید رکاوٹیں ہیں۔ اگرچہ کچھ بہتری ہوئی ہے لیکن مجموعی اندراج کی شرح اب بھی علاقائی ممالک سے کم ہے۔ نجی یونیورسٹیوں کا فروغ ہوا ہے لیکن ان کی فیس عام طلبہ کی پہنچ سے باہر ہے۔ نتیجہ یہ کہ تعلیم طبقاتی تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔ امیر طلبہ اچھے اداروں میں جاتے ہیں جبکہ غریب طبقے کے بچے محروم رہ جاتے ہیں۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں