The Art of the Deal اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی بڑے نظریئے کے ساتھ جینا انسان کا بڑا اور اہم وصف ہوتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ ہیں جنہوں نے کوئی نیا نظریہ یا زندگی گزارنے
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ کسی بڑے نظریئے کے ساتھ جینا انسان کا بڑا اور اہم وصف ہوتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ تاریخ میں وہی لوگ زندہ ہیں جنہوں نے کوئی نیا نظریہ یا زندگی گزارنے
کسی نے کہا تھا کہ’’علم جب اتنا مغرور ہو جائے کہ رو نہ سکے،جب اتنا سنگین ہو جائے کہ مسکرا نہ سکے اور اتنا خود غرض ہوجائے کہ کسی کی مجبوری کا ادراک نہ کر سکے ۔تب وہ جہل سے
نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیائے فانی سے پردہ فرما( 11ہجری ، 632 عیسوی) لینے کے ٹھیک 102 سال بعد 113 ہجری ،731 میں عراق کے شہر کوفہ کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونےوالے یوسف بن
ہم سیاسی آزادیوں کے مردہ کلچر میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ، ایک عام آدمی سے لے کر سینئر جسٹس سپریم کورٹ تک اس المناک صورت حال کا شکار ہیں اور وہ شکوہ تو لب پر لا سکتے
امام یحییٰ بن معین 158 میں علم کے گہوارے بغداد میں پیدا ہوئے ایک متمول اور علمی گھرانے سے تعلق تھا اس لئے والد کے سانحہ ارتحال کے بعد وراثت میں فقط علم ہی نہیں مال و دولت کے ڈھیر
سچی بات یہ ہے کہ جب تک رانا ثناء اللہ اور عرفان صدیقی صاحب موجود ہیں اور سیاسی صورت حال کا حصہ ہیں اس وقت تک پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی ، جتنی
معروف سکالر محمد ابوبکر صدیق اپنے ایک طویل مضمون ’’جدید علمیات اور جدید علم کلام‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’جدید علم جس حقیقت کو تشکیل دیتا ہے یہ وہ حقیقت نہیں جس کا عرفان حاصل کرنا قدیم علم کا بنیادی
ماہ دسمبر جاتے جاتے کئی پرانے زخم تازہ کرجاتا ہے ۔اسی ماہ کی سولہ تاریخ کو سقوط ڈھاکہ پیش آیا اور ہمارا ملک دو لخت ہو گیاوہ ملک جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے وہ لہو
ابو عبداللہ محمد بن علی بن محمد ابن عربی الحاتمی الطای 1165عیسوی میں اندلس(موجودہ اسپین) میں پیدا ہوئے،ایک انتہائی علمی دینی گھرانے سے تعلق تھا، زمانہ بچپن ہی میں قرآن حکیم حفظ کرلیا،ہمیشہ بزرگوں کی صحبت میں رہنا پسند فرماتے
رسول رحمت سر کار،دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمالینے کے بعد 632میں خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین کا زریں دور شروع ہوا اور 661 میں ختم ہوگیا۔یوں زمام خلافت بنو امیہ کے حصے