Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

تاریخ اسلامی کے زریں عہد

رسول رحمت سر کار،دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمالینے کے بعد 632میں خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین کا زریں دور شروع ہوا اور 661 میں ختم ہوگیا۔یوں زمام خلافت بنو امیہ کے حصے میں آئی۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ متعین ہوئے اور دمشق خلافت بنو امیہ کا مرکز بنا۔یہ سلطنت اسلامیہ کی وسعت کا دور تھا جو افریقہ،اندلس )موجودہ اسپین(اوروسط ایشیا سے لیکر سندھ تک پھیل گئی۔
بنو امیہ نے 750 تک حکومت کی اور آخر کاربنو عباس کےہاتھوں انجام کو پہنچا۔خلافت بنو عباس جس کا آغاز 750 میں ہوااس کی قیادت کاسہراابو العباس السفاح نےاپنے سر سجایا۔یہ محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے فرزند تھے۔محمد بن علی عباسی خاندان کے سربراہ تھے اور نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے تھے۔محمد بن علی کے والد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایک جید صحابی رسول تھے جنہیں قرآن و حدیث پر کامل دسترس تھی۔
محمد بن علی بن عبداللہ ہی عباسی تحریک کے اصل معمار تھے،انہوں نے بنوامیہ کے خلاف کام کرتے ہوئے بنو عباس کی خلافت کے اہتمام کے لئے سر توڑ کوشش کی اور آخر کو اپنی سعی میں کامیاب و کامران ہوئےاوراپنےبیٹوں ابوالعباس السفاح اورابو جعفر المنصورکو اقتدار کی باگ ڈور تھما دی۔۔ان کے جیتے جی بنو عباس نے خراسان اور عراق کے بہت سارے علاقوں میں اپنی تحریک کو مضبوط و مستحکم کر لیا تھا۔محمد بن علی نے اپنے والدعبداللہ بن عباس کی علمی روایت کو زندہ رکھا اور اپنے بیٹوں کو علم و حکمت کا خوگر بنایا۔
ابوالعباس السفاح کا دور حکومت چار سال پر محیط رہا،ان کا دارالخلافت بغداد تھا 754 میں ان کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا۔خاندان بنو عباس کے بعدعالم اسلام پر مختلف خاندانوں کی حکمرانی رہی اور خلافت عباسیہ کے بعد اسلامی دنیا مختلف خاندانوں میں تقسیم ہوگئی۔مصر و شام میں مملوک سلطنت کا قیام عمل میں آیا،یہ وہ غلام تھے جنہیں جنگوں کی تربیت دی گئی اور انتظامی امور پر بھی انہیں دسترس تھی اور مرور زمانہ کے ساتھ یہ اسقدر باصلاحیت ہوگئے کہ امور مملکت پر قابض ہوکر حکمران ٹھہرے۔
سلطنت مملوک اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے جس کا اپنا ثقافتی ورثہ تھا اور اپنی گو نہ گوں مہارتوں کی بنیاد پر مملوکوں نے اسلامی دنیا میں اہم مقام بنالیا ،ان کا دور تیرہویں سے سولہویں صدی تک رہا۔
تاریخ میں ان کا ذکر دو حوالوں سے ملتا ہے ۔بحری مملوک جن میں بیشتر کا تعلق ترک غلام نسل سے تھا اور برجی مملوک جو زیادہ تر چرکسی غلاموں پر مشتمل تھے ۔جو قفقاذ کی ایک قدیم قوم تھی جو دور حاضر میں روس جارجیا اور ترکی کے گردو نواح کا علاقہ کہلاتا ہے۔یہ پہاڑی لوگ تھے جو جنگجو اور بہادر تھے۔انہیں ماضی میں جنگی قیدیوں کے طور پر فروخت بھی کیا جاتا تھا۔ بہر حال مملوک جن کا شام اور مصر میں اثر رسوخ تھا انہوں نے وہاں کی سیاسی ،عسکری اورثقافتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور یہ کہ انہوں نے مصر اور شام میں عباسی خلیفہ کے علامتی عہدے کی پاسداری کی۔عباسی خلافت کے بعد 1299 میں عثمانیوں نے ایسی خلافت قائم کی ۔جس نے ربع صدی تک مستحکم انداز میں امور حکومت چلائے۔اس طرح عثمانیوں نے اسلامی دنیا پر صدیوں فرمانروائی کے مزے لوٹے ۔ پھر سلجوقیوں نے مشرق وسطی اور وسط ایشیا کو اپنی راج دہانی بنالیا ۔اندلس پر ایک لمبا عرصہ اموی خلافت رہی1526میں برصغیر مغلوں کی سلطنت بنا ،جبکہ اسی دوران ایران صفویوں کے حصے میں آیا۔
صفوی خاندان کے بانی شاہ اسماعیل اول نے شیعہ اسلام کوریاستی مذہب کے طور پر نافذ کیا اور اس کی ترویج میں سر دھڑ کی بازی لگا دی ،اس نے شیعہ علما کے ذریعے مذہبی قوانین ،شیعہ فقہ اور شرعی عدالتوں تک کا نفاذ کیا ۔یہ سخت اقدامات تھے جو سنی مسلمانوں اور اہل تشیع کے بیچ کشیدگی کا سبب بنے جس کے اثرات دور رس ٹھہرے۔جن کی وجہ سے مذہبی تنازعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں