ابو عبداللہ محمد بن علی بن محمد ابن عربی الحاتمی الطای 1165عیسوی میں اندلس(موجودہ اسپین) میں پیدا ہوئے،ایک انتہائی علمی دینی گھرانے سے تعلق تھا، زمانہ بچپن ہی میں قرآن حکیم حفظ کرلیا،ہمیشہ بزرگوں کی صحبت میں رہنا پسند فرماتے تھے کہ روحانیت میں بہت سکون پاتے تھے۔اوائل عمر ہی سے منفرداور غیر معمولی بچے تھے،یہی وجہ ہے کہ بڑے ہوکراسلامی تصوف میں نام پیداکیا،ان کی تمام ترتصنیفات روحانی معلومات کا مجموعہ ہیں،کامل صوفیا نہ نظریات رکھنے والےصوفیانہ فکر میں گھائل انسان تھے، جنہیں صوفیانہ فکرکابانی بھی کہاجاتاہے،حدیث، فلسفہ اورفقہ میں درک رکھتے تھے جوانی ہی میں بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے سوچ کا رخ بدل گیا، قرآن اور قرآنی تعلیمات سے لگائو کا نتیجہ تھا کہ علم کی پیاس بجھانے کے لئے دور دراز کے سفرکئے،مختلف علمی اور روحانی شخصیات سے ملاقات کےلئےمراکش، بغداد، تیونس، دمشق اور مکہ کا سفر کیا.ابن عربی کی دینی خدمات کی تفصیل بہت طویل ہے،تصوف، فلسفہ اور اسلامی علوم میں ان کی خدمات ہی نہیں بلکہ گہرے اثرات بھی ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں شیخ اکبر کے لقب سے یاد کیاجاتاہے یہ ابن عربی ہی تھےجنہوں نےتصوف کو ایک باقاعدہ فلسفیانہ نظام میں ڈھال دیااور ان کے نظریہ’’ وحدت الوجود‘‘(unity of Being) نے تصوف میں انقلاب برپا کر دیا۔
اس نظرئیے کا لب لباب یہ ہے کہ’’تمام کائنات اللہ کا ظہور ہے اورحقیقت میں وجود فقط اللہ ہی کا ہے، انسان اور تمام مخلوقات یااجسام اللہ ہی کا عکس ہیں’’ابن عربی نے بےپناہ تصنیفی کام کیا، روحانی موضوعات پربہت زیادہ لکھاتاہم ان کی دو کتب’’ فصوص الحکم‘‘ اور’’ فتوحات مکیہ‘‘ نے شہرت دوام کا مرتبہ پایا۔ فصوص الحکم کا شمار ان کی بہت ہی معروف کاوش تھی جس میں انہوں نے اسلامی تصوف،معرفت حکمت اورحقیقت کے گہرے راز بیان کئےاوراپنے نظریہ’’وحدت الوجود‘‘ کی تفصیل پرروشنی ڈالی۔مذکورہ تصنیف کا بنیادی موضوع حکمت ربانی اور معرفت حق ہے۔ اس کتاب میں ابن عربیؒ نےحضرات انبیاء علیہم السلام کی حیات اوران کے حقیقی پیغام اور ان کے فکرو فلسفہ کے نقش اجاگر کئے ہیں۔
انبیاء علیہم السلام کی صفات و احکامات کو حکمت عالیہ کا مظہر قرار دیا ہے اور ہر نبی علیہ السلام کو اللہ کی صفات کا پرتو کہا ہے۔ اپنے نظریہ وحدت الوجود کی روشنی میں کائنات میں موجود شے کو اللہ تبارک تعالیٰ کے مظہر کا نام دیا ہے اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ’’ہر چیز ایک ہی حقیقت کی مختلف صورت ہے اور اس میں اللہ موجودہے‘‘ وہ مختلف انبیاء علیہم السلام کو اللہ کی مختلف صفات کا مظہر گردانتے ہیں۔ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو ’’حکمت نفس جامع‘‘ کانام دیا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کو’’حکمت توحید‘‘قرار دیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو’’حکمت تجلی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح ہر نبی علیہ السلام اور ان کے پیغام کو اللہ کریم کی کسی خاص حکمت کا اظہار قرار دیا ہے۔ ان کا مطمع نظر تھا کہ ’’انسان کی اصلیت اللہ کی معرفت کا حصول ہے اور یہ معرفت انسان کے اندر موجود نفس اور روح کو سمجھنے سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عشق اور محبت ہی اصل حقیقت ہے اور عشق ہی انسان کو کمال عروج تک پہنچاتا ہے۔ آپ کا ایک یہ نظریہ بھی تھا کہ ’’انسان کائنات میں اللہ کی صفات کا کامل مظہر ہے‘‘ گویا کہ انسان کائنات کا خلاصہ ہے اور اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ ابن عربی کی کتاب’’فصوص الحکم‘‘ اپنے موضوع کے اعتبار سے فلسفے کی پیچیدہ گتھیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ ابن عربی کی دوسری مشہو ر تصنیف ہے’’فتوحات مکیہ‘‘ جو خالص تصوف اور روحانی علوم پرمشتمل ہے۔ یہ کتاب 37 جلدوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں بھی تصوف ہی کےمختلف پہلوئوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔اپنی اس تصنیف میں ابن عربی اپنے روحانی مشاہدات و تجربات اور روحانی اسرار رموز کی گہرائیوں کو پیش فرماتے ہیں۔
اس کتاب میں بھی مصنف نے روحانی مجاہدہ، مراقبہ اورعشق ربانی کی صفات کو موضوع بنایا ہے،عبادات کی روحانی کیفیات کی ترقی کے ذرائع یعنی نماز، روزہ اور حج کے ظاہری اعمال کی بجائے ان کی روحانی کیفیات کواجاگر کیا ہے،علاوہ ازیں کائنات کی اصلیت اللہ کی صفات اور مظاہر اسماء کی روشنی میں بیان کی ہے، ان کا نظریہ ہے کہ ’’علم کا حقیقی ذریعہ وحی، الہام اور کشف ہے،عقل محدو ہےاوراللہ کی معرفت کو مکمل سمجھنے سےقاصر ہے،، کتاب ’’فتوحات مکیہ‘‘ اسلامی تصوف کے عملی اور نظریاتی پہلوئو ں کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔