بنگلہ بدھو اور ۔۔۔ بدھو
بنگلہ دیش میں احتجاج اور فساد وزیر اعظم کے استعفے اور فرار کے بعد بھی ختم نہیں ہوا تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، قیادت کے بغیر بے مہار ہجوم جب انقلاب کے لئے نکلتا ہے ، تو
بنگلہ دیش میں احتجاج اور فساد وزیر اعظم کے استعفے اور فرار کے بعد بھی ختم نہیں ہوا تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، قیادت کے بغیر بے مہار ہجوم جب انقلاب کے لئے نکلتا ہے ، تو
یوم استحصال کشمیر ، ایک اور بے روح ، بے معنی اور بے تاثر اصطلاح ، ایک اور بےمقصد دن ، جب مقررین زمین و آسماں کے قلابے ملائیں گے ، جب زبانی جمع خرچ سے کشمیریوں کے تمام دلدر
واشنگٹن سے اسلام آباد اور گوادر تک پاکستان کے خلاف جو سازشیں روبہ عمل ہیں ، کیا یہ سب اتفاق ہے ؟ امریکی کانگریس میں پی ٹی آئی لابیز کی اتنی پذیرائی کہ اسرائیلی لابیز بھی انگشت بدنداں رہ جائیں
(گزشتہ سے پیوستہ) سوال یہ ہے کہ لوٹ مار کا یہ معاہدہ ہے کیا اور پیر تسمہ پا کی طرح قوم کی گردن میں غلامی کا پھندا بن کر اٹک جانے والا یہ سلسلہ شروع کیسے ہوا؟ یہ قصہ 1993کا
خبر ہے کہ آئی پی پیز کو ادا کی جانے والی کیپسٹی پیمنٹ دفاعی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہے ، یعنی قوم کی جانب سے امراء اور اشرافیہ کو ادا کیا جانےو الا بھتہ 2200 دفاعی بجٹ سے 4سو
لارنس آف عریبیہ عرف کرم شاہ کی داستان پڑھتے ہوئے کمال کا نکتہ سامنے آیا کہ 1915 ء کے آخری عشرے میں جب خلافت عثمانیہ ترک اور عرب کی تقسیم سے آشنا نہیں تھی ، صرف امت مسلمہ تھی تو
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ آج تک کسی نے اس سے سبق نہیں سیکھا، ابن علقمی کی غداری کے سبب آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کی ریاست کا خاتمہ ہو ، یا ’’ینگ ٹرکس ‘‘ تحریک کے ذریعہ سے سلطان
(گزشتہ سے پیوستہ) قفصہ کی جنگ میں بھی تلوار کے جوہر دکھائے اور کامران رہے، بعدازاں قلعہ اجم کے محاصرہ میں بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا برابر حصہ تھا۔ ابن خلدون کے مطابق سیدنا حسین رضی اللہ عنہ
نافع علم کی کونپل ہمیشہ زرخیز سوال کے مرہون ہوتی ہے، سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات مبارکہ کے حوالہ سے برادرم صاحبزادہ ضیا ناصر نے فکر انگیز نقطہ اٹھایاہے کہ ’’ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ
کشمیر کبھی پاکستان کی سیاست اور معاشرت میں اتحاد واتفاق کی علامت تھا ، اک جذبہ تھا جو قوم کی رگوں میں خون کی مثل دوڑتا تھا ، مگر پھر اس ملک کو کسی بد بخت کی نظر کھا گئی