یوم استحصال کشمیر ، ایک اور بے روح ، بے معنی اور بے تاثر اصطلاح ، ایک اور بےمقصد دن ، جب مقررین زمین و آسماں کے قلابے ملائیں گے ، جب زبانی جمع خرچ سے کشمیریوں کے تمام دلدر دور کرنے کے دعوے کئے جائیں گے ، جب گفتار کے غازی کردار کے غازیوں کی برابری کا سوانگ بھریں گے اور اگلے روز بلکہ چند لمحوں کے بعد کسی کو یاد بھی نہ ہوگا کہ ہمارے پڑوس میں ، ہمارے اپنے زندگی و موت کی جنگ یوں مردانہ وار لڑ رہے ہیں کہ دنیاان کی جراتوں کی مثال دیتی ہے۔پاکستان کی آزادی سے بھی پہلے کشمیریوں نے اپنےپاک لہو سے حرف حریت لکھا اور پھر اس پر یوں ڈٹ گئے کہ اک عالم اس پر انگشت بدنداں ہے۔ صدیوں کی محکومی، افلاس اور پس ماندگی سے تنگ آکر آزادی، فارغ البالی اور ترقی کے خواب دیکھنے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے مطلق العنانیت سے مسلسل ٹکراتے کشمیری شہیدوں کے بہتے لہو سے کشمیر کی سرزمین مسلسل سیراب ہو رہی ہے، ان کی تو شادیوں میں بھی شہیدوں ، غازیوں اور جنگوں کے گیت گائے جاتے ہیں ، انہی ہمارے بے روح لفظوں،دعوئوں اور نعروں کی کیا ضرورت ؟ سوال یہ ہے کہ یوم استحصال کیا ہے ؟ کیا صرف اس جزوی یا علامتی خود مختیاری کے خاتمے کا دن ہے ، جو کبھی انہیں حاصل ہی نہ تھی ؟ ایسا ہوتا کہ یہ بہت چھوٹی بات تھی ، یہ تو اس اذیت کی یاد ہے ، اس بے وفائی اور قبر فروشی کی داستاں ہے ، جب پاکستان کے اقتداراعلیٰ پر ہزارسازشوں کے نتیجے میں مسلط ہوجانےوالے اک کردار نے کشمیر فروخت کر ڈالا،شرمندہ ہونے کے بجائے کامل ڈھٹائی سے نعرے لگاتا پھرا ’’مجھے لگتا ہے ، ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں‘‘ ۔ یوم استحصال حقیقت میں مودی کی فسطائیت اور بھارت کی سفاک درندگی کے ساتھ ساتھ ہماری جانب کے ایک کردار کی بزدلی ، سازش اور خود پسندی کا بھی استعارہ ہے ۔ بقول اقبال ؒ
دہقان و کشت و جو و خیاباں فروختند
قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند
دکھ یہ ہے کہ اب جب مقبوضہ کشمیر میں ’’ انسانیت کا قاتل‘‘ مودی پوری سفاکی کے ساتھ’’خنجرآزما‘‘ہے، مسلم امہ خصوصاًپاکستان اسی خود پسند کردار کے بچھائے کانٹے چننے میں مصروف ہے ۔یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے ۔ کشمیریوں کا مقدمہ آج بھی مضبوط ہےمگر اسے لڑنے والےہم وکیل کمزور پڑ چکے ہیں ،ہماری سفارت کاری بے جان ہو چکی ہماری کشمیر کمیٹی صرف سیاسی رشوت بن کر رہ گئی اور شخصیت پرست ٹولے کے سبب ہماری جدوجہداور پشتیبانی بھی کمزورہوچکی۔وہ پھر بھی اپنی جگہ پر قائم ہیں ، سنبھلنے کی کوشش میں ہیں ، بلکہ سنبھل رہے ہیں ، وہ اب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں ، اب بھی پاکستان کو اپنا مستقبل قرار دیتے ہیں ۔ سید علی گیلانی کے اپنی پیرانہ سالی میں نوجوانوں کے سے جذبے سے لگوا ئے نعرے اب بھی کشمیر کے گلی کوچوں میں گونجتےہیں کہ ۔۔۔پاکستان سے رشتہ کیا،اس زندگی کی قیمت کیا۔۔۔لاالہ الااللہ۔ کشمیری واقعی اس نعرے کا مطلب سمجھتےہیں، لاالہ کی حقانیت ثابت کررہے ہیں ،جوان سینوں پر گولیاں کھا کر،پیلٹ گنوں سے بینائی کھوکر۔عورتوں نے پتھر اٹھالیے ہیں اور جوانوں نے غلیلیں، وہ جہاد آزادی کی لو کو مدھم نہیں ہونے دے رہے۔ہماریے مفاد پرستوں کی جفاؤں کا بدلہ وہ وفاؤں سے دے ر ہے ہیں ،ان کے شہید آج بھی پاکستانی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں، قبروں پر پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔1999 سے شروع ہونے والے جہاد میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ، ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد غیر قانونی طور پر گرفتار ہیں،22974 خواتین کے شوہروں کو قتل کیاجاچکا ہے،11264خواتین کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے کارندے زیادتی کا نشانہ بنا چکے ہیں اگست 2019 سے اب تک 887 افراد شہید کیے جاچکے ہیں اور25 ہزار کے قریب شہریوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جاچکا ہے, 19000 کے قریب غیر قانونی چھاپے مارے جاچکے ہیں 1300 حریت پسند سرکاری ملازمین کو غیر قانونی طور پر نوکری سے نکالا جاچکا۔
کشمیری تو وہیں کھڑے ہیں جہاں وہ 5اگست کی صبح کھڑے تھے ، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ؟۔۔۔ ہم کہاں ہیں ؟ حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کی حمائت جاری رکھنے ، ان کی سفارتی وسیاسی امداد کرنے کا وعدہ درست، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن ، کشمیری فروشی کی گھنائونی واردات کا شریک جرم،ٹرمپ سے مل کر مودی کو کشمیریوں کے حقوق چھیننے میں سہولت کاری فراہم کرنے والے عنصر کے خلاف ہم نے کیا کارروائی کی ہے ؟کیاسزادی ہے؟کشمیری نوجوان کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی وہ بندوق اٹھائے ، منہ کو چھپائے دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے ، لیکن سوال پھر وہی کہ ہم ۔۔۔۔ہم کہاں کھڑے ہیں؟ جب تک ہم اپنے کشمیر فروش کو سزا نہیں دیں گے ، جب تک مودی کے سہولت کاروں کی گردن میں رسہ نہیں ڈالا جائے گا ،ہماری غلطیوں کا ازالہ نہیں ہوگا ، ہماری بے وفائی کا داغ نہیں دھلے گا ۔ کشمیری آج بھی اپنے عہد پر قائم ہے، ہم البتہ پیچھے رہ گئے ہیں ۔ لازم ہے کہ تما م محاذوں کو پھر سے مربوط اور مضبوط بنا کر آگے بڑھنے کا راستہ نکالا جائے ، حالات خواہ کچھ بھی ہوں کشمیریوں کی بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کو جاری رکھنے میں ہرممکن کردار اد اکریں،عالمی برادری کو اس انسانی المیہ کا نوٹس لےکر بھارت پر دباٗئو ڈالنے پر مجبور کریں، بھارتی عالمی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے۔بات کڑوی ہے،شائد بری بھی لگے،برداشت کے پیمانے کو ٹھیس بھی پہنچا سکتی ہے ، مگر سچ یہی ہے ۔2019 میں ہماری غلطی نے ہمارا اعتبار اور اعتماد گھہنادیاہے ، جب تک کشمیر اور پاکستان کے ان مجرموں کو سزا نہیں دی جائے گی ، یوم استحصال کے اپنی جانب کے کرداروں کا محاسبہ نہیں کیا جائے گا ، اس دن پر کی جانے والی ہماری ہر کوشش، ہر دعویٰ کھوکھلا ہوگا ، بے وزن ہوگا۔
اٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
اڑالی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری