مالی سال 2024-25 ء کے ابتدائی 6 ماہ (جولائی تا دسمبر) میں 15 سرکاری اداروں کو 405 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، یہ تہلکہ خیز انکشاف وزارت خزانہ کی مالی سال 2024-25 ء کی ایس او ایز پر ششماہی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو مختلف انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی ہے، اسی حوالے سے ایک دوسرے انگریزی مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس او ایز کو فراہم کی گئی پہلے 6 ماہ کی اس مالیاتی امداد کا حجم 436 ارب روپے تھا، اسی حوالے سے ایک تیسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے ششماہی خسارے کی مالیت 436 ارب روپے کے حساب سے سالانہ خسارہ 872 ارب روپے بنتا ہے، یہ وہ رقم ہے جو وفاقی سرکاری اداروں کا سالانہ نقصان پورا کرنے کیلئے ہر سال خرچ کی جاتی ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے صوبائی سطح کے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے سالانہ مالیاتی نقصانات پورے کرنے کیلئے ریاست پاکستان جو اربوں کھربوں روپے خرچ کر رہی ہے وہ اس کے علاوہ ہیں، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے زیر انتظام تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور کارپوریشنز کے مجموعی مالیاتی نقصانات کے اعداد و شمار انتہائی ہوشربا ہیں اور 2000 ارب سے بھی تجاوز کر چکے ہیں جو پاکستان کے کل دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہیں، پاکستان کے دفاعی بجٹ پر ایک سازش کے تحت بہت زیادہ شور مچایا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان اپنی فوج پر اوسطا سب سے کم خرچ کر کے سب سے زیادہ رزلٹ دینے والے ممالک میں سرفہرست بھارت 42 ہزار ڈالر، ایران 23 ہزار ڈالر اور پاکستان صرف 13 ہزار 40 ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔
’’ڈان نیوز‘‘کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جاری مالی سال میں پاکستان کے دفاعی اخراجات قیمتوں کے اتار چڑھا کی وجہ سے مختص دفاعی بجٹ سے 35 ارب روپے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کیدفاعی اخراجات کا تخمینہ 1839 ارب روپے ہے جب کہ دفاعی بجٹ 1804 ارب روپے مختص کیا گیا تھا۔ عالمی قرض دہندہ نے کہا کہ گذشتہ مالی سال پاکستان کے دفاعی اخراجات1586 ارب روپے تھے، مالی سال2021-22 ء میں پاکستان کے دفاعی اخراجات کا حجم 1412ارب روپے تھا۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات مالی سال 2020-21 ء میں 1316 ارب روپے تھے، مالی سال 2019-20 ء میں پاکستان کے دفاعی اخراجات کا حجم 1213 ارب روپے تھا، مالی سال 2018-19 ء میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 1147 ارب روپے تھے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام ایس او ایز ’’اسٹیٹ اونڈ اینٹر پرائزز‘‘کا معاملہ بار بار قومی سطح پر بحث و مباحثے کا باعث بن چکا ہے، کرپشن اور بدانتظامی کے خاتمے کے ذریعے ان اداروں کا خسارہ ختم کر کے کھربوں روپے کے بڑے بوجھ سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا، ریاستی ملکیت کے ان اداروں کے ایک بڑے حصے کی نج کاری بھی کی جا سکتی ہے لیکن اس معاملے کو بھی لٹکا دیا جاتا ہے کیونکہ ان اداروں میں ہماری حکومتوں نے بڑے پیمانے پر سیاسی بھرتیاں کرنا ہوتی ہیں۔
پاک فوج کے پورے بجٹ سے بھی زیادہ یہ کھربوں روپے کا خسارہ ختم کیا جا سکتا ہے لیکن دیگر سیاسی ترجیحات میں غرق ہمارے حکمرانوں کو اس کا نہ کوئی ہوش ہے اور نہ ہی کسی کو کوئی پرواہ ہے۔ہمارے سیاست دان، حکومت کے اعلیٰ افسران، اشرافیہ اور غیر قانونی مافیا سب ان ایس او ایز سے پیسہ ’’کماتے‘‘ہیں، اس لئے ان کے ہوشرباء خسارے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، البتہ ان سب کے پاس مسلح افواج پر خرچ ہونے والی رقم کے بارے میں بتانے کے لیے لمبی لمبی کہانیاں ہیں، حالانکہ افواج پاکستان دفاعی بجٹ پر خرچ ہونے والے مالی وسائل نہ صرف اپنے خون کے ذریعے واپس کرتی ہیں، بلکہ ہر سال 350 ارب روپے سے زیادہ رقم مختلف ٹیکسز کی صورت میں قومی خزانے کو واپس بھی کرتی ہیں جو فوج اور اس سے منسلک اداروں کے بزنسز کا ایک بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور فوجی فانڈیشن سمیت اس کے مختلف ادارے تعلیم، صحت اور سماجی و اقتصادی منصوبوں میں بھی ریاست پاکستان کے ایک بڑے شراکت دار کے طور پر سرگرم ہیں اور اگر ان مجموعی خدمات کی مالیت بھی شامل کر لی جائے تو کل دفاعی بجٹ بمشکل آدھا رہ جاتا ہے کیونکہ کم و بیش 50 فیصد تو مختلف سوشل ہیلتھ اینڈ ایمرجنسی سروسز اور ٹیکسوں کی مد میں واپس کر دیا جاتا ہے۔انگریزی مقامی اخبار نے لکھا ہے کہ ایس او ایز سیکٹر کے مجموعی نقصانات میں 15 سرکاری ملکیت والے اداروں ،ایس او ایزکا حصہ 99.3 فیصد رہا، جو ایس او ای سیکٹر میں وسیع پیمانے پر نااہلی اور آپریشنل مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ مقامی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی مالی سال 24کی ایس او ایز پر ششماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2023ء سے دسمبر 2023ء تک ان ایس او ایز کے مجموعی نقصانات کا تخمینہ 405 ارب 86 کروڑ روپے لگایا گیا تھا، اس کے برعکس دیگر تمام ایس او ایز کے نقصانات 2 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد تھے۔ وزارت خزانہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی طور پر ایس او ای نقصانات میں گزشتہ سال کے 452 ارب 68 کروڑ روپے کے مقابلے میں 9.72 فیصد کمی ہوئی م، تاہم 2014 ء سے اب تک ایس او ایز سیکٹر کا مجموعی خسارہ 5 ہزار 900 روپے تک پہنچ چکا ہے۔حکومت پہلے ہی ایس او ایز کی درجہ بندی کرنے اور نجکاری یا کارپوریٹ تنظیم نو کے دیگر اختیارات کی طرف ان کے راستوں کی وضاحت کرنے کے لیے ایک ایس او ای کمیٹی تشکیل دے چکی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد بہتر کارکردگی کے لیے نجی شعبے کی شرکت سے فائدہ اٹھانا اور عوامی خزانے پر ایس او ایز کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے سربراہ ہیں، تاہم یہ کمیٹی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔
(جاری ہے)