اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
یہ شعر افغانستان کے عوام کو درپیش پے در پے مشکلات دیکھ کر بے اختیار یاد آ گیا ہے، چالیس پچاس برسوں سے مسلسل جنگوں اور خانہ جنگیوں کے شکار اس ملک کے عوام کو اب ایک نئی قسم کی جنگ کا سامنا ہے کہ جہاں وار لارڈز کی جگہ تاجر مافیا، ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلروں کی انڈر ورلڈ نے لے لی ہے، یہ نئی انڈر ورلڈ چونکہ خود افغان طالبان حکومت میں موجود طاقتور ترین ملاؤں کی سرپرستی میں قائم ہے اس لیئے انہیں لوٹ مار سے روکنے والا بھی کوئی نہیں اور بے بس افغان عوام لٹنے پر مجبور ہیں، ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج کا افغانستان ایک بار پھر 1990ء کے عشرے کے افغانستان میں تبدیل ہو چکا ہے کہ جب ملک میں ’’وار لارڈز‘‘ کی حکومت تھی، فرق صرف یہ ہے کہ وار لارڈز ٹینکوں اور مشین گنوں کے ذریعے ناکے لگا کر بھتہ خوری کرتے تھے یا تاجروں سے ’’جگا ٹیکس‘‘ وصول کرتے تھے اور آج کے افغانستان کی انڈر ورلڈ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے لوٹ مار کر رہی ہے، وار لارڈز کی لوٹ مار اگر کروڑوں روپے ماہانہ تھی تو افغانستان کی انڈر ورلڈ اربوں روپے ماہانہ کی لوٹ مار کر رہی ہے اور اس لوٹ مار کیلئے اسے وار لارڈز کی طرح بندوق اٹھانے یا ٹینک سڑکوں پر لانے کی بھی ضرورت نہیں، افغانستان کی طالبان حکومت کی پالیسیاں اور اس حکومت میں شامل اپنے سرپرستوں کی مدد و تعاون ہی اس کیلئے کافی ہے۔ایک ملا عمر مجاہد کی طالبان حکومت تھی کہ جس میں طاقتور حکومتی عہدیدار اور وزراء لوٹ مار، قیمتی جائیدادیں بنانے اور اپنے بنک بیلنس بڑھانے کی سوچ سے آزاد تھے-
ملک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کا ایک باقاعدہ سسٹم تھا، اور ناجائز منافع خوری کو روکنے کے احکامات پر پوری قوت سے عملدرآمد کروایا جاتا تھا، اور ایک ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی حکومت ہے کہ جس میں شامل طاقتور حکومتی عہدیداروں کی پرشکوہ بلڈنگز، کروڑوں اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں اور ملکی و غیر ملکی بینکوں میں تیزی سے بڑھتے اثاثے صاف چغلی کھا رہے ہیں کہ عوام کو لوٹنے کیلئے بندوق کی نال اور ٹینک پر لگی توپ سے مدد لینے کا فارمولا اختیار کرنے کی بجائے یہ کام خاموشی سے انڈر ورلڈ اور تاجر مافیا کی سرپرستی کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یعنی گن پوائنٹ پر لوٹ مار کی بدنامی سے بھی بچ گئے اور تاجر مافیا و انڈر ورلڈ سے خفیہ طور پر ’’حصہ‘‘ وصول کرکے بظاہر پارسائی بھی برقرار رکھی، بقول شاعر
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
قبل اس کے کہ ہم آج کے افغانستان میں آٹا، چینی، گھی اور مرغی کے گوشت جیسی بنیادی اشیائے خورد و نوش کی ہوشربا قیمتوں کی تفصیل بیان کریں، یہ نکتہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ چالیس پچاس سال کی طویل جنگوں و خانہ جنگیوں، لاکھوں شہداء و زخمیوں اور پچاس لاکھ عوام کی ہجرت کی بھاری قیمت چکا کر بھی اگر عوام نے مہنگائی مافیا اور ذخیرہ اندوزوں و اسمگلرز کی انڈر ورلڈ کے ہاتھوں اسی طرح لٹنا تھا تو پھر اس طویل آزمائش یا کٹھن سفر کا کیا فائدہ؟ یہ کام تو دنیا کے ان سب ممالک میں ہو رہا ہے جنہوں نے پچھلے 50 برسوں میں ایسی کوئی قیمت نہیں چکائی جو افغانستان کے عوام چکا چکے ہیں۔
مثل مشہور ہے کہ ایک زمیندار کے بیٹے سے کسی جھگڑے میں قتل ہو گیا، بیٹا گرفتار ہو کر جیل پہنچ گیا اور زمیندار کو تھانے کچہری کے چکر لگانا پڑ گئے، بیٹے کا کیس لڑنے کیلئے وہ ایک نیک دل اور خدا ترس وکیل کے پاس گیا، وکیل نے کیس کی فائل دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ وقوعہ کے چشم دید گواہوں کے بیانات اور دیگر ثبوت ایسے ہیں کہ قاتل کا سزائے موت سے بچنا ناممکن ہے، اس لیئے اس نے زمیندار کی دلجوئی کیلئے کیس لڑنے کی حامی بھر لی لیکن فیس صرف 5 ہزار روپے بتائی، زمیندار نے سوچا کہ یہ وکیل اتنا قابل نہیں جو قتل کیس کی فیس 5 ہزار روپے بتا رہا ہے اس لئے وہ سوچنے کا بہانہ کرکے قابل اور مہنگا وکیل تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا، اور پھر ایسے وکیلوں کے ہتھے چڑھ گیا جو سبز باغ دکھا کر اپنے کلائنٹس کو لوٹنے کے ماہر ہوتے ہیں، کم و بیش 10 برس بعد خدا ترس و نیک دل وکیل کی سپریم کورٹ کے احاطے میں زمیندار سے ملاقات ہو گئی اور رسمی سلام دعا کے بعد وکیل نے بیٹے کا پوچھ لیا، 10 برسوں سے دھکے کھاتے زمیندار نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ 10 سال عدالتوں میں دھکے کھائے اور 25 ایکڑ زمین بھی بیچ کر کیس پر لگا دی لیکن پھر بھی بیٹے کو سزائے موت ہو گئی ہے، اس پر نیک دل وکیل نے بے ساختہ جواب دیا، بابا جی ! یہ کام تو میں آپ کو 5 ہزار روپے میں کروا کے دے رہا تھابھارت کی مودی سرکار کی ملی بھگت سے طالبان عبوری افغان حکومت کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ نے سوچا تھا کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی مدد سے غیر مستحکم کرکے وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے اور اس دوران اگر پاکستان بارڈر بند کرے گا تو بھارت کی مدد سے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے اپنی تجارت بھی افغانستان برقرار رکھے گا، لیکن اس دوران ایران امریکہ اسرائیل جنگ نے یہ مودی ہیبت اللہ منصوبہ ناکام کر دیا اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے چاہ بہار کے ذریعے بھارتی منڈیوں تک رسائی ممکن نہ رہی، افغانستان اب قازقستان، روس ، تاجکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے اشیائے خور د ونوش درآمد کر رہا ہے لیکن راستہ طویل ہو جانے کی وجہ سے ان کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ عام افغان عوام کا دیوالیہ نکل گیا ہے-
تاجروں، ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلروں کی لوٹ مار کیلئے ایسی صورتحال آئیڈیل ہوتی ہے اس لیئے وہ من مانے ریٹس وصول کر رہے ہیں اور کروڑوں اربوں روپے کا ناجائز منافع کما کر اپنا پیٹ بھی بھر رہے ہیں اور اپنے سرپرست طاقتور ملاؤں کا پیٹ بھی بھر رہے ہیں۔ اس وقت المناک صورتحال یہ ہے کہ افغانستان کے ہر صوبے اور ہر ضلع کا الگ ریٹ ہے اور دوگنا، تین گنا اور چار گنا تک ریٹس مختلف صوبوں میں وصول کیا جا رہا ہے اور اس پر طالبان عبوری حکومت اس لوٹ مار کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کر رہی۔ افغانستان میں اس وقت زندہ چکن کا کم از کم ریٹ 1460 پاکستانی روپے اور زیادہ سے زیادہ ریٹ 2188 پاکستانی روپے فی کلوگرام ہے، برائلر مرغی کے گوشت کی فی کلوگرام کم ازکم قیمت 2218 پاکستانی روپے اور زیادہ سے زیادہ قیمت 6874 پاکستانی روپے فی کلوگرام ہے، چینی کی کم از کم قیمت 172 روپے اور زیادہ سے زیادہ قیمت ایک ہزار ایک سو اٹھارہ روپے فی کلوگرام ہے، گندم کے آٹے کی فی کلوگرام کم از کم قیمت 320 پاکستانی روپے اور زیادہ سے زیادہ 500 روپے فی کلوگرام ہے، گھی اور کوکنک آئل کی قیمتیں نسبتاَ کم ہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں پھر بھی زیادہ ہیں، افغانستان میں اس وقت گھی اور کوکنک آئل کم از کم 673 پاکستانی روپے فی کلو اور زیادہ سے زیادہ 826 پاکستانی روپے فی کلو گرام مل رہا ہے۔ ایسے ہوشربا ریٹس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غریب افغان عوام کا کس طرح کچومر نکل چکا ہے لیکن ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی حکومت کو گھر گھر فاقوں کی اس صورتحال کی کوئی پروا نہیں اس لیئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے اپنی پالیسیاں بدلنے کو تیار نہیں، بلکہ ان کی حکومت کے طاقتور لوگ اس صورتحال سے الٹا اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔