چراغِ امن
بین الاقوامی تعلقات کی وسیع و عریض بساط پر، جہاں امن کے اعزازات عموماً کسی فردِ واحد یا کسی عالمی ادارے کے حصے میں آتے رہے ہیں، وہاں اب تاریخ نے ایک غیرمعمولی باب ایک پوری قوم کے نام رقم
بین الاقوامی تعلقات کی وسیع و عریض بساط پر، جہاں امن کے اعزازات عموماً کسی فردِ واحد یا کسی عالمی ادارے کے حصے میں آتے رہے ہیں، وہاں اب تاریخ نے ایک غیرمعمولی باب ایک پوری قوم کے نام رقم
(گزشتہ سے پیوستہ) اس وژن کی معراج اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے پہلے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مزین پارلیمانی نظام کا افتتاح کیا گیا۔ یہ تاریخی اقدام نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ ترقی پذیر دنیا کی پارلیمانی
ایک ایسی دنیا میں جو اکثر سیاست، جغرافیے اور باہمی مفادات کے تضادات کے باعث تقسیم در تقسیم دکھائی دیتی ہے، چند ہی ایسی قوتیں ہیں جو انسانیت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قوموں کی ترقی کا پیمانہ محض ان قوانین یا اداروں سے نہیں ناپا جاتا جو وہ تشکیل دیتی ہیں، بلکہ اس امر سے جانچا جاتا ہے کہ ان کی قیادت کن ہاتھوں میں ہے اور وہ قیادت وقت کے تقاضوں
(گزشتہ سے پیوستہ) وقت گزرنے کے ساتھ کئی پوشیدہ حقائق منظرِ عام پر آئے۔ خطے کے متعدد سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور مبصرین نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بیرونی کردار کے مختلف پہلوؤں کو تسلیم کیا۔ بعد ازاں بھارتی وزیرِ
تاریخ کو اکثر اقوام کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ اس آئینے میں ماضی کی کامیابیاں اور ناکامیاں، فتوحات اور سانحات، دانش و بصیرت اور لغزش و کوتاہیاں سب محفوظ ہوتی ہیں۔ تاہم اس آئینے کی ہر تصویر یکساں طور پر
(گزشتہ سے پیوستہ) بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس حقیقت کو امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی دہائیوں سے اسرائیل کو واشنگٹن کی جانب سے غیر معمولی سفارتی، سیاسی، عسکری اور معاشی
گزشتہ نسلوں سے ہمیں جو دانائی کے موتی ورثے میں ملے ہیں، ان میں ایک نہایت گہری اور بامعنی کہاوت یہ ہے کہ ’’بچے کو سونے کے چمچ سے کھلاؤ، مگر اس پر شیر کی نگاہ رکھو۔‘‘ یہ مختصر سا
بلوچ لبریشن آرمی نے حالیہ برسوں میں خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کا رجحان اختیار کیا ہے۔ ان حملوں کا ہدف سکیورٹی فورسز، قومی تنصیبات اور بعض اوقات شہری سرگرمیوں سے وابستہ مقامات بھی بنتے ہیں۔ یہ
بچپن کے وہ دن، جب دنیا وسیع، پُرسکون اور امیدوں سے لبریز محسوس ہوتی تھی، آج بھی یادوں کے دریچوں میں روشن ہیں۔ اُن ایّام میں اتوار ایک ایسی خوشی کا پیامبر ہوتا تھا جس کا انتظار پورے ہفتے شدتِ