ابوجہ (ویب ڈیسک )افریقی ملک نائجیریا میں ویلڈنگ کو چھوٹا کام سمجھا جاتاہے،پروفیسر نے اپنی ویلڈنگ کی ورک شاپ کھول کراپنےساتھیوں کو بھی حیران کردیاپچاس سالہ کبیر ابو بلال نےبرطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پروفیسر ہونے کے باوجود انہیں بطور ویلڈر کام کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں، وہ ویلڈنگ سے زیادہ پیسے کمالیتے ہیں، وہ اٹھارہ سالوں سے نائجیریا کے شہر زاریا کی یونیورسٹی میں شعبہ انجنیئرنگ میں پڑھاتے ہیں،انہوں نے الیکٹریکل انجنیئرنگ اورطبیعات پرمتعدد کتابیں بھی لکھی ہیں۔کبیر ابو بلال کہتے ہیں کہ بچپن سے ہی انہیں چیزوں کو کھول کر واپس جوڑنے کا شوق تھا،جس کی وجہ سے وہ اس کیریئر میں آئے،بدقسمتی سے مجھے انجنیئرنگ کے شعبےمیں آکر پتا چلا کے اس میں تھیوری زیادہ ہے۔


