کیلیفورنیا(ویب ڈیسک ) کیلیفورنیا کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے اُن مسافروں سے ایک ملین ڈالر تک کی ایڈوانس رقم وصول کرنا شروع کر دی ہے جو دنیا کے پہلے چان ہوٹل میں قیام کرنے والے چند پہلے افراد بننا چاہتے ہیں۔
21 سالہ اسکائیلر چین کی قائم کردہ اسٹارٹ اپ GRU Space کا مقصد 2032 تک دنیا کا پہلا مون ہوٹل کھولنا ہے، اور کمپنی پہلے ہی انتہائی امیر خلائی شوقین افراد سے بکنگ وصول کر رہی ہے۔
کمروں کی حتمی قیمت ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم چین کے مطابق یہ لاگت 10 ملین ڈالر سے تجاوز کرے گی۔ خوشخبری یہ ہے کہ پوری رقم ایک ساتھ ادا کرنا ضروری نہیں۔ فی الحال کمپنی منتخب کردہ سہولیات کے مطابق 250,000 ڈالر سے 1,000,000 ڈالر تک کی ایڈوانس رقم قبول کر رہی ہے۔
GRU Space پہلی کمپنی نہیں جو چاند پر ہوٹل بنانے کا دعویٰ کر رہی ہو، لیکن جو چیز اسے منفرد بناتی ہے وہ اس کا تعمیراتی طریقہ ہے۔ زمین سے تعمیراتی سامان اور مشینری بھیجنے کے بجائے، کمپنی روبوٹک نظام استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو چاند کی مٹی سے مضبوط بلاکس تیار کرے گا اور انہیں جوڑ کر ایسے پائیدار ڈھانچے بنائے گا جو چاند کے سخت ماحول کو برداشت کر سکیں۔
ریگولیٹری منظوری سے مشروط، دنیا کے پہلے مون ہوٹل کی تعمیر 2029 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
کمپنی کے بانی نے ایک بیان میں کہا کہ “ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہم اپنی زندگی میں ہی بین السیاراتی مخلوق بن سکتے ہیں۔ اگر ہم کامیاب ہوئے تو اربوں انسان چاند اور مریخ پر پیدا ہوں گے اور وہاں کی خوبصورتی کا تجربہ کر سکیں گے۔”
اگرچہ GRU Space کا “پہلا مستقل آف ارتھ ڈھانچہ” بنانے کا خواب کسی خیالی کہانی جیسا لگتا ہے، لیکن اسکائیلر چین عام اسٹارٹ اپ بانی نہیں ہیں۔ وہ بچپن سے ہی خلا کے دیوانے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی اسی شوق کے لیے وقف کر دی۔ نوعمری میں وہ ایئر فورس پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے، برکلے سے گریجویشن سے قبل ناسا کی حمایت یافتہ ایک 3D پرنٹنگ تجربے پر کام کیا جو خلا میں بھیجا گیا، اور گزشتہ سال Y Combinator میں منتخب ہوئے—جہاں وہ سب سے کم عمر واحد اسپیس فاؤنڈر تھے۔
مزیدپڑھیں:جنید صفدر کے ولیمے پر کن گلوکاروں کو مدعو کیا گیا؟ کیا ڈشز بنا ئی گئیں؟
