سنگاپور(Singapore) میں مقیم ایک بھارتی خاتون کی سوشل میڈیا پوسٹ نے عوامی توجہ حاصل کرلی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری درخت سے گرا ہوا آم اٹھانے پر بھی بھاری جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
بھارتی نژاد خاتون پریانکا سنہا نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سنگاپور میں عوامی مقامات پر موجود پھل دار درخت حکومت کی ملکیت تصور کیے جاتے ہیں لہٰذا بغیر اجازت ان سے پھل توڑنا یا زمین پر گرے ہوئے پھل اٹھانا قانوناً ممنوع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 5 ہزار سنگاپورین ڈالر یعنی تقریباً 10 لاکھ 94 ہزار سے زائد پاکستانی روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
پریانکا سنہا کی پوسٹ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ متعدد افراد نے سنگاپور کے سخت قوانین کو ملک میں نظم و ضبط اور صفائی برقرار رکھنے کی اہم وجہ قرار دیا۔
سنگاپور کی وزارتِ قومی ترقی (MND) اور نیشنل پارکس بورڈ (NParks) کے مطابق سرکاری زمین پر موجود تمام درخت اور ان کے پھل ریاستی ملکیت ہوتے ہیں۔ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر پھل توڑنے یا جمع کرنے پر پارکس اینڈ ٹریز ایکٹ کے تحت جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
لکڑی کے کام میں ٹیکنالوجی کا انقلابی کام، آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے کاریگروں کی جھنجھٹ ختم کردی
حکام کے مطابق عوامی پارک میں اس قانون کی خلاف ورزی پر 5 ہزار ڈالر تک جرمانہ جبکہ قدرتی محفوظ علاقوں یا نیشنل پارکس میں یہی عمل کرنے پر 50 ہزار ڈالر تک جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ سنگاپور دنیا بھر میں صفائی، شہری نظم و ضبط اور سرکاری املاک کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین کے لیے مشہور ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ انہی قوانین کی بدولت ملک کو دنیا کے صاف ترین اور محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

