اسلام آباد (اوصاف نیوز) سعودی عرب نے عمرہ اور حج کے زائرین کو جعلی عمرہ کمپنیوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔
سعودی حکومت نے عمرہ سروس فراہم کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک مذہبی ذمہ داری کے طور پر اپنے فرائض کو پورا کریں، جو کہ صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ایک عظیم مذہبی امانت بھی ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر سے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے مسلمان اپنی ساری زندگی کی بچت بیت اللہ کا طواف کرنے اور مسجد نبوی میں حاضری کے لیے صرف کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ زائرین اور عمرہ زائرین کی خدمت اللہ کے مہمانوں کی خدمت ہے اور اس میں غفلت دنیا اور آخرت دونوں میں احتساب کا باعث بن سکتی ہے۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ اس نے عمرہ زائرین کو خدمات اور سہولیات کی عدم فراہمی اور عبادات میں خلل کا باعث بننے والی بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے ایک عمرہ کمپنی کو معطل کر دیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ متعدد عازمین مقدس سرزمین پر ایسی حالت میں پہنچے جہاں ان کے لیے قیام کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
وزارت حج و عمرہ کے مطابق اس عمرہ کمپنی کے اوورسیز ایجنٹ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے اور انہوں نے عازمین کو یقین دلایا ہے کہ اللہ کے مہمانوں کو ہر قیمت پر بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عمرہ جیسے عظیم الشان اور روحانی سفر میں امن، سکون اور سہولت بنیادی ضروریات ہیں اور اس سنگین غفلت کو قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی سمجھتے ہوئے فوری تادیبی اقدامات کیے گئے ہیں۔
سعودی وزارت حج و عمرہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد متاثرہ زائرین کے حقوق کا تحفظ، مستقبل میں ایسی خلاف ورزیوں کو روکنا اور عمرہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔
وزارت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مملکت اللہ کے مہمانوں کی عزت، سہولت اور حفاظت کو ہر وقت اولین ترجیح دیتی رہے گی۔
یاد رہے کہ رواں سال جون کے مہینے میں زائرین کو سفری سہولیات کی فراہمی میں غفلت برتنے پر 7 عمرہ کمپنیوں کو معطل کردیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر سے 17 لاکھ سے زائد مسلمان صرف جمادی الآخر کے مہینے میں عمرہ کرنے سعودی عرب پہنچے۔
یہ تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ مسجد الحرام کے ساتھ امت مسلمہ کا روحانی رشتہ کتنا مضبوط اور گہرا ہے۔
مزید پڑھیں:فہیم اشرف کا شاندار اعزاز

